لیلی خالد 1944ء کو فلسطین کے شہر حیفہ میں پیدا ہوئی. انہوں نے بچپن میں ہی فلسطین کی ازادی کی تحریک میں شمولیت اختیار کر لی تھی دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک متحرک کارکن بن کر سامنے آئیں.
لیلی خالد اور ان کے ساتھیوں نے 1968ء اور 1971ء کے درمیانی عرصے میں چار بار ہوائی جہاز ہائی جیک کیے.
دنیا کے مشکل ترین کاموں میں سے ایک کام ہوائی جہاز ہائی جیک کرنا ہے جس میں کسی بھی ملک کا طیارہ اغوا کرنا اور اپنے مطالبات منوانا ہے
ہائی جیکنگ جیسے جرم میں اول تو کسی خاتون کا ملوث ہونا ہی حیران کن ہے لیکن کسی نوجوان لڑکی کا ہوائی جہاز ہائی جیک کرنا پھر اپنی پلاسٹک سرجری کرانا پھر دوبارہ ہائی جیک کرنا یہ تو یقینا ایسی حیران کن کہانی ہے جو فلمی لگتی ہے لیکن دنیا میں یہ واحد مثال فلسطینی خاتون لیلی خالد ہیں
یہ بھی پڑھیں
فلسطین لبریشن فرنٹ میں شمولیت کے بعد انہوں نے پہلا جہاز 29 اگست 1969ء کو ہائی جیک کیا. یہ بوئنگ 707 تھا. یہ جہاز اٹلی سے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب جا رہا تھا اطلاع یہ تھی کہ اسرائیل کے وزیراعظم اضحاق رابن بھی اس فلائٹ کے مسافروں میں شامل ہیں. جہاز ایشیا کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی ایک نقاب پوش خاتون نے پورے جہاز کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا. اس نے پائلٹ کو حکم دیا کہ فلسطینی شہر حفا سے پرواز کرتے ہوئے جہاز کا رخ دمشق کی طرف موڑ دو.
دمشق جانے سے پہلے میں اپنی جائے پیدائش مالوف حفا کو دیکھنا چاہتی ہوں.
خاتون اور اس کے ساتھی بموں سے لیس تھے چنانچہ پائلٹ نے حکم کی تعمیل کی اور جہاز کو دمشق میں اتار لیا گیا. مسافروں کو یرغمال بنا کر فلسطین کی ازادی کا مطالبہ کیا گیا. پوری دنیا کی توجہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی طرف مبذول ہوئی. مذاکرات کے بعد اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور ہائی جیکروں کی بحفاظت واپسی کی شرائط پر یرغمالیوں کو رہا کر دیا گیا.
یہ بھی پڑھیں
دنیا بھر کے ٹیلی ویژن نیوز چینل اور اخبارات نے لیلی خالد کے انٹرویو نشر کیے. وہ عالم اسلام کی انکھ کا تارا بن گئیں. ان کی تصویروں کو اتنی شہرت ملی جو اس سے پہلے کسی مسلمان خاتون کو نہ ملی تھی. مقبولیت کا یہ حال تھا کہ یورپ میں رہنے والی لڑکیوں نے اس کے اسٹائل کو بالوں سے لے کر اسکارف تک اور لیلی جو انگوٹھی پہنتی تھی کو اپنایا. اس کے ہاتھ میں ایک انگوٹھی ہوا کرتی تھی جس میں کوئی قیمتی پتھر نہیں بلکہ ایک گولی جڑی ہوئی تھی. پہلی ہائی جیکنگ کے بعد انہوں نے اوپر تلے چھ بار پلاسٹک سرجری کرائی اور اس کے بعد بھی مزید تین بار ہوائی جہاز ہائی جیک کیے.
ان کی عمر اس وقت 79 سال ہے اور وہ ابھی تک حیات ہیں
