سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

مفتی کفایت اللہ کی لیک ویڈیو




اس وقت سوشل میڈیا پر جےیوآئی مانسہرہ کے راہنما مفتی کفایت اللہ کی فحش ویڈیو کو لے کر خوب جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔
عیبوں پہ پردہ پوشی اسلام کے بنیادی حکموں میں سے ایک ہے اور یہ صفات اللہ رب العزت کی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ گناہ میں گزار دیتے ہیں لیکن وہ رب ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔

عام طور پر مولویوں سے متعلق عوام غلط فہمی کا شکار ہوتی ہے، کہ یہ نیک لوگ بھلے کیسے ان مکروہات کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔ مگر یاد رہے مولوی بھی آپ کی طرح انسان ہوتے ہیں ان سے بھی گناہ سرزد ہو سکتا ہے۔
البتہ یہ ضرور ہے کہ عام انسان کی بنسبت اہل علم پر ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے چونکہ انکے پاس علم ہوتا ہے، اور معاشرے کے لیے وہ مشعل راہ ہوتے ہیں۔

ذاتی طور پر میری یہ رائے ہے کہ کسی بھی انسان وہ سیاسی مخالف ہو یا مذہبی مخالف ایسی ویڈیوز کی بنیاد پر اس کا تماشہ نہ بنایا جائے بلکہ ویڈیوز بنانے اور پبلش کرنے والوں کی مذمت کی جانی چاہیے۔

اس سے پہلے کہ آپ کی نازیبا ویڈیو لیک ہو جائے یہ احتیاط لازمی کر لیں۔

مرد و خواتین کپڑے چینج کرتے وقت آئینے کے بجائے موبائیل فون کا کیمرہ اوپن کر کے مت سامنے رکھیں، یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔

شاپنگ مال، ہوٹلز وغیرہ میں چینج مت کریں، کسی ریلیٹڈ کے گھر بھی چینج کرتے وقت واش روم کا پوری طرح جائزہ لے لیں ہیڈن کیمرہ ہو سکتا ہے۔

اگر فون کی گیلری میں فیملی پک رکھتے یا رکھتی ہیں تو غیرضروری ایپس فون میں انسٹال مت کریں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر چند احتیاط لازمی کریں:

مسنجر، واٹس ایپ، ٹیلی گرام وغیرہ پر کسی سے فحش گفتگو کر کے دل مت بھلائیں

تصویر دیکھ کر ڈیلیٹ کر دونگا یا گی پر اعتماد مت کریں۔

سوشل میڈیا کی وہ سائیٹس جہاں بہت زیادہ کنٹرول کی ضرورت ہوتی ہے۔

بیگو، سٹریمکر، ٹانگو لائیو، اپ لائیو، سنیک وغیرہ جیسی سائیٹس پر فحش اکاؤنٹ بنے ہوتے ہیں جہاں پر خواتین مینج کر رہی ہوتی ہیں۔
لائیو سٹریم کے دوران گروپ گفتگو میں فحش گوئی ہوتی ہے، جسے سننے اور دیکھنے والے کثیر تعداد میں ہوتے ہیں، وہاں پر انکے ہائر کردہ لوگ اور کچھ سادہ لو لوگ آکر فحش گوئی کا حصہ بنتے ہیں، اور پھر ستر کھول کر لائیو دکھائے جاتے ہیں۔
اس دوران سکرین ریکارڈڈ کے ذریعے اس فحش گوئی کی ویڈیو بنائی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ لڑکیاں آفر کرتی ہیں انبکس میں آنے کو آفر دی جاتی ہے کہ ہم اپنا ستر کھول کر دکھائیں گی۔
جب لڑکے انبکس تشریف لے جاتے ہیں تو لڑکی ود آؤٹ فیس اپنا ستر دکھانا شروع کرتی ہے اور لڑکے کو بھی برہنہ ہونے کا کہتی ہے۔
ابھرتے جذبات کے ساتھ لڑکا برہنہ ہو جاتا ہے اور لڑکی جو ٹاسک دیتی ہے، لڑکا وہی کرتا جاتا ہے، دوسری جانب لڑکی اس کی ویڈیو بنا رہی ہوتی ہے، پھر اسی ویڈیو کے ذریعے لڑکے کو بلیک میل کر کے پیسے بنائے جاتے ہیں۔

سیاسی لیڈروں، بیوروکریسی، علماءاکرام، اور دیگر معروف شخصیات کے خلاف سوشل میڈیا اور فحاشی کے اڈوں کے ذریعے یا کالز گرل کے ذریعے ٹریپ بچھایا جاتا ہے، پیڈ گرلز کا یوز کر کے ان شخصیات کی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں تاکہ بوقت ضرورت بلیک میل کر کے اپنا مقصد نکلوایا جائے۔

مختلف ممالک کی ایجنسیاں بھی اپنے دشمن ملک کے خلاف عورت کا استعمال کرتی ہیں، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ن لیگ نے اسی فارمولے کو بینظیر بھٹو اور شہید سمیع الحق کے خلاف بھی استعمال کیا تھا، تاہم وہ فیک چیزیں تھیں جبکہ آج کے زمانے میں پہلی کوشش ہوتی ہے اصل چیز ہو اور اگر اصل چیز نہ ملے تو پھر آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔

تمام تر چیزیں لکھنے کا مقصد یہ ہے اپنی عزتوں کو بچا کر رکھو تاکہ تمہارے مشن میں تمہیں کوئی بلیک میل کر کے راستے سے نہ ہٹا سکے، اور دوسروں کی ویڈیوز پر تماشا بنانے کے بجائے، ویڈیوز لیک کرنے اور بنانے والوں کی مذمت کرو، یہی مہذب قوم کی نشانی ہوتی ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے، ہمارے عیب دنیا کے سامنے ظاہر نہ کرے، ہم سب کے صغیرہ کبیرہ گناہ معاف فرمائے۔ آمین

بقلم: محمداشرف

Post a Comment

Previous Post Next Post