سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

سویڈن میں قرآن کی بےحرمتی


سویڈن میں قرآن کی بےحرمتی پر دنیا بھر کے مسلمانوں کا غم و غصہ اپنی جگہ جائز ہے مگر سوچنا یہ ہے اربوں مسلمانوں کی موجودگی میں اتنی جرت کرنے کی وجہ کیا ہے؟

دنیا بھر کے مسلمانوں کا کتاب اللہ کو صرف ثواب، مردے بخشنے، تعویز اور حاجات کی تکمیل کے لیے وظائف کی حد تک مان لینا ہی مسلم دنیا کی رسوائی کا سبب بنا۔

قرآن آسمانی آئین و قانون ہے، جسے اللہ کی زمین پر نافذ کرنا بنیادی تقاضا ہے، لیکن اس کے لیے ہم مسلمان اس لیے بھی نہیں تیار کہ پھر ہماری کئی اک عیاشیاں ختم ہو جائیں گی۔

دنیا جانتی ہے ہم اپنے نبیﷺ اور کتاب اللہ سے نا صرف پیار کرتے ہیں بلکہ جان تک دینے کو سعادت سمجھتے ہیں، لیکن قرآن کے احکامات اور رسول اللہﷺ کی شریعت کا نفاذ ہمیں قطعاً برداشت نہیں۔

دراصل ہم نے بحثیت مسلمان قرآن کو پڑھنا تو لازم کر لیا ہے لیکن سمجھنے کی ضرورت نہ کبھی محسوس کی اور نہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جن علماءاکرام نے قرآن کو سمجھا ان میں سے اکثریت نے اسے روزی روٹی کا وسیلہ تو بنایا مگر قرآنی احکامات عام مسلمانوں سے پوشیدہ رکھنے کی ہی کوشش کی۔

آج صورتحال یہ ہے اک غیرمسلم مسلمان ہو جائے تو اسے مسلمان ہو کر پتہ چلتا ہے بعض مسلمانوں کی نظر میں تو میں اب بھی کافر ہوں، وہ کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے کہ مسلمان بن کر اذان سے پہلے درود پڑھے یا نہ پڑھے
مسلمان بننے کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا کرے یا نہ کرے
مسلمان بننے کے بعد ایاک نعبد و ایاک نستعین کا نعرہ لگا کر داتا دربار پر سجدہ کرے یا نہ کرے
مسلمان بننے کے بعد یا غوث اعظم پکارے یا پھر یا اللہ مدد پکارے

ٹوٹلی کنفیوز رہتا ہے چونکہ جس قرآن کو سمجھ کر مسلمان بنا تھا وہ والے مسلمان اسے کہیں مل نہیں رہے ہوتے۔

بالی ووڈ نے کئی اک موویز دہشتگردی پر بنائی ہیں، لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ان موویز میں دہشتگردوں کا رول ادا کرنے والوں کا فرضی نام مسلم ناموں پر رکھا جاتا ہے، اور وہ موویز ہم سب دیکھتے بھی ہیں اور انجوائے بھی کرتے ہیں۔

آخر کیا وجہ ہے کہ دہشتگردی کو اسلام سے جوڑا جا رہا ہے اور ہم نے اس الزام کو ذہنی طور پر قبول بھی کر لیا ہے کہ ہاں جو وہ کر رہے ہیں وہی تو سچ ہے۔
اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر عمران خان نے کہا تھا، اسلام وہ نہیں جو تم پیش کر رہے ہو اسلام تو بس وہی ایک ہے جسے محمدﷺ لے کر آئے اور پھر اسی اسلام کی بنیاد پر ریاست مدینہ کا قیام ہوا جہاں امن سلامتی اور خوشحالی آئی۔


عمران خان نے اسلام سے متعلق غیرمسلموں کو بڑے آسان لفظوں میں بہت کچھ سمجھایا تھا، جسے دنیا نے ایکسیپٹ بھی کیا، اور اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن کا قیام بھی ہوا۔

عمران خان کوئی عالم دین نہیں ہے، اس نے سورۃ فاتحہ کی ایک آیت کو سمجھا تو اسی پہ ڈٹ گیا اور پاکستان کے اشرافیہ سے ٹکر لے لی، سب ایک ہو کر بھی خان کا کچھ نہ بگاڑ سکے چونکہ اس کا ایمان ایاک نعبد و ایاک نستعین پر جو کامل ہے۔
اسے شاید قرآن و حدیث کا زیادہ پتہ نہیں لیکن جتنا وہ اسلام کو سمجھا اسلام کی وکالت اس نے جا کر کفر کے ایوانوں میں کی، بدلے میں اسلام کی برکات کی بدولت دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں اس کی محبت پیدا ہو گئی، یورپ کے گورے ہوں یا افریقہ کے جنگلوں میں بسنے والے کالے، عمران خان کو اسلامی لیڈر ماننے لگے۔

اسلام اپنے ساتھ وفاداری کرنے والوں کو ان کی سوچ سے زیادہ عزتوں سے نواز دیتا ہے، اور جو اسلام کا نام فقط اپنے مفادات کے لیے استعمال کرے اسے ذلیل و خوار بھی خوب کر دیتا ہے، جیسا کہ پیلی پگڑی والا ذلت کی نہج پر پہنچا دیا گیا ہے۔
اسی منظر نامے کی تصویر اقبالؒ نے یوں کھینچی ہے
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

قصہ مختصر، ہم نے اسلام کا مفہوم ہی بدل دیا ہے، ہم نے اسلام کی ماننے کے بجائے اسلام کو اپنے مرضی میں ڈھالنا شروع کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے کافر ہمارے کرتوتوں کو دیکھ کر اسلام کے اصل کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔

اور ہم اپنے مفادات کے حصول میں اس قدر دھنس چکے ہیں کہ اپنی مقدس کتاب کی بےحرمتی پر غیرت کا مظاہرہ تک نہیں کر پا رہے، اسلام کا بنیادی اصول ہی یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کو ایک قوم بناتا ہے، وہ گورے کالے امیر غریب سرحدی حدود کی بندشوں سے پاک کر کے امت محمدیہ بناتا ہے۔


اور جب اسی مسلم باہمی یکجہتی کے لیے پاکستان کا وزیراعظم عمران خان او آئی سی کا اجلاس بلا کر مسلمانوں کو ایک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف کفریہ طاقتیں سازش کرتی ہیں اور سازش کا حصہ اپنے ہی بن جاتے ہیں، بلکہ وہ بنتے ہیں جو خود کو اسلام  کا ٹھیکدار منواتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے پاکستان سمیت مسلم ممالک سویڈن کا تجارتی، سفارتی بائیکاٹ کیسے اور کس حد تک کرتے ہیں، اس ایشو پر کیا ایکشن لیتے ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا۔


Post a Comment

Previous Post Next Post