یہ دو تصویریں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں
قومی کرکٹ ٹیم کے بلےباز آصف علی سے افغان بالر بدتمیزی کرتا ہے، پاکستان کی ہر سیاسی مذہبی جماعت کا ہر فرد آصف سے اظہار یکجہتی کرتا ہے، حب الوطنی کے نشے میں دھت ہمارے پختون بھائی فرنٹ فٹ پر پشتو میں افغانیوں کو برا بھلا کہتے دیکھے گے۔
چند لمحوں میں شائقین کرکٹ انجوائے کرتے کرتے کرکٹ کو قومی وقار کی جنگ سمجھنے لگتے ہیں، اگلے ہی لمحے نسیم شاہ دو چھکے مار کر پاکستان کو میچ جتوا دیتے ہیں، اور پاکستانیوں کا غصہ ذرا ہلکا ہوتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے، ایک قومی کرکٹر کی عزت کےلیے اگر یہ قوم کھڑی ہو سکتی ہے تو سابق سپاہ سالار کے لیے کیوں کھڑی نہ ہوئی؟
قوم کا ساتھ دینا تو درکنار یہاں الٹا سابق آرمی چیف کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔
جانتے ہو کیوں؟
جب آپ اپنوں کی نفرت مول لیتے ہو، جب آپ اپنے لوگوں کو ننگا کر کے خوش ہوتے ہو، جب آپ اپنے لوگوں کی زبان بندی کرتے ہو، اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق تک غصب کر لیتے ہو، اپنے لوگوں کے فیصلوں کا احترام کرنے کے بجائے ان پر جبراً فیصلے مسلط کرتے ہو، اپنے لوگوں کی ماؤں بہنوں چادر و چاردیواری کا تقدس تک پامال کر دیتے ہو، پھر ایسے موقعے پر اپنے بھی تماشبین بن جاتے ہیں۔
پھر آپ سے ہمدردی کرنے والا ڈھونڈنے سے بھی مل نہیں پاتا، قسم بخدا مجھے جنرل صاحب کی بےبسی پر ترس آتا ہے، لیکن پھر سڑکوں پر اپنی ماؤں بہنوں کے دو پٹے گھسیٹے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔
مجھے ان کی بےبسی پر افسوس ہوتا ہے، مگر پھر میرے ہزاروں ہم وطنوں کے ساتھ بدترین ریاستی بدسلوکی بھی میری نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔
ان کی اس تذلیل پر قسم سے خوشی محسوس نہیں ہوتی، مگر وہ دکھ بھی محسوس نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔
اس لیے میرے وطن کے حکمرانوں اور جرنیلوں کو چاہیے اپنے دور اقتدار میں ظلم و جبر کا قہر اس قدر نہ برپا کیا کریں کہ اقتدار چھوٹنے کے بعد جب کوئی تمہاری تذلیل کرے تو تمہارے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہ ہو۔
جو قوم اک جونیئر کرکٹر کی عزت کے لیے کھڑی ہو سکتی ہے، وہ ملک کے سابق آرمی چیف کی عزت کے لیے بھی کھڑی ہو سکتی تھی، لیکن اس قوم کے دل پر کہیں نہ کہیں آپ نے ایسی ضرب لگائی ہے کہ وہ نیوٹرل ہو گئی۔
اللہ تعالی وطن عزیز کی حفاظت فرمائے، اور ہمارے حکمران طبقے کو عقل و شعور عطا فرمائے۔
ازقلم: محمداشرف
