سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے مگر کیوں؟




مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ مگر کیوں؟

میں بجلی کا پورا بل ادا کرتا ہوں، مگر مجھے بجلی ضرورت کے وقت نہیں ملتی، گرمی کی شدت سے بچے بوڑھے جوان تڑپ اٹھتے ہیں، ہر آدھے گھنٹے بعد ایک گھنٹے کے لیے بجلی اس وقت نایاب ہو جاتی ہے جب بجلی کی شدید ضرورت ہوتی ہے، جب بجلی کے بغیر سانس لینا ناممکن ہو جاتا ہے۔

اگر میں ایک مہینے کی بل کی ادائیگی بوجہ مجبوری نہ کر سکوں تو اگلے مہینے بل کے ساتھ جرمانہ اور نوٹس بھی ملتا ہے کہ میٹر اتار لیا جائے گا، جی ہاں وہی میٹر جو میں نے خود خرید کر لگایا تھا اور اب اس کا کرایہ بھی ادا کر رہا ہوں۔

سردیوں میں گیس کا بل میں پوری دیانتداری سے ادا کرتا ہوں، باوجود اس کے بھی مجھے میری ضرورت کے مطابق گیس نہیں ملتا، گیس کا بل ادا کرنے کے باوجود مجھے سلینڈر گیس بھروا کر گھر چلانا پڑتا ہے۔

میں پانی کا بل بھی ادا کرتا ہوں مگر میری ضروریات کے مطابق اور سرکار کے طے کردا وقت کے مطابق مجھے پانی کی سپلائی نہیں ملتی، روز ایک گھنٹے کے بجائے تین دنوں بعد بیس منٹ کے لیے پانی دستیاب ہوتا ہے،

 مجبوراً مجھے ٹینکر والے کو اس کی منہ مانگی قیمت دے کر پانی خریدنا پڑتا ہے، اور اس کی یہ گارنٹی بھی نہیں ہوتی کہ وہ کتنا صاف ہے اور کہاں سے آتا ہے۔ اس لیے پینے کے پانی کا بالکل الگ سے بندوبست کرنا پڑتا ہے،
 مگر بل کی ادائیگی میں ذرا تاخیر پر کنکشن کاٹ دینے کی دھمکی ملتی ہے۔

مجھے بازار سے ہر چیز ناقص درجے کی مہنگے داموں ملتی ہے، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے، لیکن میرے ملک کی حکومت اور مقامی انتظامیہ نہ تو چیز کے معیار سے متعلق بہتری کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی خودساختہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دوران سفر اڈوں پر ناقص انتظامات کی وجہ سے مجھے فیملی کے سامنے اڈہ انتظامیہ کی طرف سے جس بدتمیزی اور ذلالت کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

عیدین پر گاڑیاں شارٹ کر کے اڈوں سے من مانے کرایے وصول کر کے جس طرح میرے جیب پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے اس دکھ درد کا اظہار کرنے کو میرے پاس الفاظ ہی نہیں ہیں۔

راستے پر چلتے ہوئے میرے وطن کے محافظ پولیس جب مجھے نظر آئے تو احساسِ تحفظ محسوس ہونے کے بجائے ڈر، خوف محسوس ہوتا ہے کہ نہ جانے کس بہانے ڈرا دھمکا کر مجھے لوٹا جائے گا۔

مجھے اپنے جائز کام کروانے کے لیے بھی اک سرکاری افسر کو رشوت دینی پڑتی ہے، جی ہاں وہی افسر رشوت لیتا ہے جسے میں اپنے خون پسینے کی کمائی سے تنخواہ بھی دیتا ہوں۔

باقی یہ بات تو میں بالکل نہیں بتاؤنگا کہ میرے جیسے لوگ تھرپارکر جنوبی پنجاب اور ملک بھر کے مختلف مقامات پر پینے کے پانی کو ترستے ہیں، ایک ہی جوہڑ سے انسان اور جانور پانی پیتے ہیں۔

میں یہ بھی نہیں بتاؤنگا کہ تنگ گلیوں کے بند مکانات کے رہائشیوں کے بچے اس وقت بلک بلک کر نڈھال ہو جاتے ہیں جب 50ڈگری سینٹی گریٹ کی گرمی میں بجلی غائب ہوتی ہے اور ٹھیک اسی وقت میرے ملک کے دوسرے طبقے کے بیڈ رومز میں اے سی کی ٹھنڈی شعائیں راحت و سکون کے لیے بہترین ماحول بناتی ہیں، جہاں رومانس ہو رہا ہوتا ہے۔

میں یہ بھی نہیں بتاؤنگا میرے ملک کے بچوں کی تعلیم، صحت اور پانی جیسے بنیادی حقوق کی فراہمی پر سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے اک خاص مخلوق کو بھاری بجٹ سے نوازا جاتا ہے، جو خوب عیاشیاں کرتا ہے۔

میں یہ بھی نہیں بتاؤنگا گھروں میں فنانشلی مسائل کی وجہ سے گھریلو ناچاقیوں میں اضافہ خود کشیوں کی مقدار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

میرے ملک کا نوجوان تعلیمی ڈگری ہاتھ میں پکڑے نوکری کے حصول کے لیے مارا مارا بھٹکتا رہا اور ڈپریشن میں آ کر ڈکیت بن گیا۔

شاید مجھے یہ بھی نہیں بتانا چاہیے، میرے ملک کے اشرافیا کی عیاشیوں کی بدولت میرے ملک کا جوان اپنی ماں بہن بیوی کے زیورات اور جائیداد تک فروخت کر کے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر سنہرے مستقبل کے خواب کے لیے سمندروں کے بیچ موت کی وادیوں کو پار کرتا ہے اور اسی کوشش میں جان تک گنوا دیتا ہے۔

میں سوال کروں تو میں غدار ٹھہروں
میں انصاف مانگوں تو میرے مرنے کے بعد میں حق میں فیصلہ آئے
میں آزادی کی بات کروں تو مجھے گمنام کر دیا جائے
میں عوامی اکثریتی رائے کے احترام کا مشورہ دوں تو مجھ پر بغاوت کا مقدمہ بن جائے۔

بحرحال مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

اب آپ مجھے ایک سوال کا جواب دیں۔

مجھے پاکستانی ہونے پر کیوں فخر ہے؟

پاکستانی ہونے پر فخر کا کوئی ایک ریزن ہی بتا دیں، جی ہاں ایک صرف ایک ہی جناب۔

بقلم: محمد اشرف


منفرد ٹاپک کی ویڈیوز دیکھنے کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل کا وزٹ کریں

Post a Comment

Previous Post Next Post