سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

پاکستان کی معیشت کا مقدمہ


پاکستان جس زمین پر وجود پزیر ہوا یہ برطانیہ اور یو ایس ایس آر ( روس ) کے درمیان گریٹ گیم کا میدان اور ہندوستان کا پچھواڑا تھا۔ گریٹ گیم کا وار زون ہونے کی وجہ سے یہاں کوئی بڑا کاروبار یا ترقی نہ تھی۔ برطانیہ کو خطرہ رہتا تھا کہ روس ہندوستان کی جانب بڑھے گا جبکہ روس کو خطرہ رہتا تھا کہ برطانیہ سینٹرل ایشین اسٹیٹس کی جانب بڑھے گا۔ اس لئے برطانیہ نے روس کے ہندوستان کی جانب ہر راستے کو بند رکھنے کی کوشش کی جبکہ روس سینٹرل ایشین ریاستوں کو اپنے زیر نگین بناتا چلا گیا۔ جن علاقوں پر مغربی یا موجودہ پاکستان بنا یہ چونکہ اس گریٹ گیم کے سرحدی علاقے تھے اس لئے یہاں جو تھوڑا بہت انفراسٹرکچر تھا وہ فوجی ضروریات کو مدنظر رکھ کر تھا۔ پھر دوسری جنگ عظیم کے نتائج کے پیش نظر برطانیہ نے سُکڑنے سے پہلے روس کے خلاف فیلڈنگ کھڑی کی تو اس فیلڈنگ میں پاکستان کو انڈیا سے الگ کرکے ایک GARRISON STATE کے طور پر پلان کیا گیا جس میں حقیقی ویٹو پاور ( de facto veto powers) ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہونی تھی۔ اس تکوینی فلسفے  ( philosophy of Genesis) نے چونکہ strategical, tactical اور executional لیولز پر ہر شعبے میں سرایت کرنا تھا اس لئے یہ معیشت میں بھی سرایت کرتا گیا۔ یو ایس ایس آر نے واقعتا جب آگے بڑھ کر ایک روز افغانستان پر قبضہ جما لیا تو اس روز مزکورہ گریٹ گیم کے خطرات محض خطرات سے آگے بڑھ کر حقیقت بن گئے۔ اس روز کے بعد سے اس Garrison State کی بنیاد کے فلسفے کو جو ڈھیلا ڈھالا لے کر چلا جارہا تھا اس پر سائرئن بجاکر سب کو ہائی الرٹ کردیا گیا۔ بنگلہ دیش کی نقل میں سوشل ازم کی معیشت کا نعرہ لگانے والے بھٹو کو ایک الزام میں پھانسی دے کر گاڑی کا اسٹیرنگ خود ویٹو پاور نے سنبھال لیا۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ، جہادی تنظیمیں ، انقلابی شاعری اور سلوگنز سمیت سارے اوزار نکال لئے گئے۔ تب سے ابتک ہم ایک نیو گریٹ گیم کے تحت جی رہے ہیں۔ ایسے میں ایکسپورٹس بڑھانے ، فارن ریمیٹینسسز بڑھانے ، فارن انویسٹمنٹ اور انڈسٹری کھڑی کرنے کی معاشی پالیسیاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ بلکہ ایسی معاشی پالیسیاں جو عوامی فلاح کے ساتھ ساتھ فوجی نقل و حرکت کو سپورٹ کریں وہی معاشی پالیسیز اصل ُملکی ضرورت سمجھی جاتی ہیں اور انھیں ہی عوام میں مقبول عام بنایا جاتا ہے۔ ایسی اسٹیٹ میں عوام بھی اگر کُچھ ذیادہ خوشحال ہوجائے تو پھر نہ ہی وہ لڑتی ہے اور نہ ہے اپنے معاشی وسائل کے گرد و نواح میں کسی کو لڑنے دیتی ہے۔ اس لئے عوام کی معاشی حالت بھی Garrison state کی ضروریات کے موافق ہی رہنی چاہئے۔ اسی لئے یہاں گُزشتہ پینتیس چالیس سالوں میں اُنھیں ریاستی اثاثہ سمجھا اور بنایا گیا اور اُنکی کڑوی کسیلی باتیں بھی برداشت کی گئیں جو مُلکی آمدن کے زرائع لگانے کی بجائے اسے کاسٹ سینٹر بناتے ہوئے اُدھار پکڑ پکڑ کر موٹر ویز اور سڑکیں بنائے اور پھر اُنھیں گروی رکھ کر مزید اُدھار پکڑ پکڑ کر گریژنز کے اثاثے بناتے بناتے مُلک کو debt trap میں ایسا پھنساتے چلے جائیں جو کبھی اسے مزکورہ گیم کی غلامی سے باہر نہ نکلنے دے۔ اس مُلک کا مشرقی حصہ ( بنگلہ دیش ) چونکہ اس بڑی گیم کا مزید حصہ نہ تھا اس لئے اس نے علحیدہ ہوکر اس طرح کے موٹر ویز نما اثاثوں پر مُلکی دولت خرچ کرنے کی بجائے انڈسٹری لگانے پر ساری توجہ خرچ کی تو آج جہاں انڈیا آبادی کے فی بندے کے لحاظ سے 20 ڈالر ماہانہ کی ایکسپورٹ کرتا ہے تو بنگلہ دیش ماہانہ 24 ڈالر فی بندے کی ایکسپورٹ کرتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں آبادی 16 کروڑ ہو تو پھر وہ سالوں 16 کروڑ اور 22 کروڑ ہو پھر سالوں 22 کروڑ نہ رہتی ہو تو ہم بمشکل خان دور کے بڑے ایکسپورٹ جمپ کے بعد اب کہیں 10 سے 12 ڈالر فی بندہ ماہانہ ایکسپورٹ کرتے ہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post