سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

عمران خان پر قاتلانہ حملہ


تاریخ خود کو دہرا رہی ہے
عمران خان پر فائرنگ کے ملزم کی وڈیو ریلیز کر کے ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ ایک جذباتی بندے کا کام ہے ۔ جبکہ واقعہ سے ملنے والے شواہد اس کی نفی کر رہے ہیں ۔ عمران خان کے کنٹینر پر فائرنگ تین اطراف سے کی گئی ۔ یہ کُل پندرہ افراد ہیں جن کو گولیاں لگی ہیں(ریسکیو 1122 نے بھی پندرہ زخمیوں کو رپورٹ کیا ہے جو گولی لگنے سے زخمی ہوئے )۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں عمران خان کو ایک ٹانگ پر گولی لگی ہے ۔ احمد ناصر چٹھہ کی دونوں ٹانگوں پر گولیاں لگی ہیں ۔ زاہد خان کو ٹانگ اور بازو پر گولیاں لگی ہیں ۔ ایک تیرہ سالہ بچے سمیت دو افراد کے پیٹ میں گولی لگی ہے ۔ ایک شخص جاں بحق ہوا ہے ۔ دیگر بھی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ۔
کنٹینر کی چھت کی دیوار تقریباچار فٹ ہے ۔ نیچے کھڑے افراد کی فائرنگ سے کنٹینر کے اوپر کھڑے افراد کی ٹانگوں پر گولیاں لگنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ایک عینی شاہد کے مطابق تین اطراف سے کنٹینر پر فائرنگ کی گئی ہے ۔اصل فائرنگ ایک نشانہ باز نے کی باقی دو افراد نے محض دھیان بٹانے کیلئے فائر کئے ۔ فائرنگ جان بوجھ کر ٹانگوں پر کی گئی ہے ۔ ورنہ نشانہ زرا اوپر بھی باندھا جا سکتا تھا ۔


یہ بالکل ایسا ہی حملہ ہے جیسا کارساز کراچی میں بے نظیر بھٹو پر کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد بہاولپور اور پشاور کے جلسوں میں بھی بے نظیر پر حملہ کیلئے لوگ موجود تھے جن کا بے نظیر نے اپنے ایک انٹرویو میں خود ذکر کیا تھا ۔ آج کی فائرنگ عمران خان کو آخری وارننگ دینا مقصود ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ وارننگ کس نے دی ؟ ابھی کل ہی مریم نواز شریف اور ن لیگی میڈیا سیل بار بار کہہ رہا تھا کہ عمران خان کا شو ختم ۔ عمران خان ختم شُد ۔ تو یہ کس بنیاد پر ایسا کہہ رہے تھے ؟ اگرچہ اس واقعہ کی ایک جامع تحقیقات کی ضرورت ہے لیکن ایک مبینہ ملزم کی وڈیو ریلیز کر کے ظاہر کر دیا گیا ہے کہ یہ قصہ بھی گول مول کر دیا جا ئے گا ۔

Post a Comment

Previous Post Next Post