پی ڈی ایم اور فضل الرحمن کا سودی بنکنگ نظام کا خاتمہ حقائق کیا ہیں؟
گزشتہ روز اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ ہم شرعی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلیں واپس لیں گے اور وفاق کے ماتحت بنکوں کے نظام کو سود سے پاک کیا جائے گا۔
اس پریس کانفرنس کو لے کرجےیوآئی والے دھمالیں ڈال رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کی اپیل اور مشورے پر اسحاق ڈار اور حکومت نے یہ فیصلہ لیا۔
یاد رہے! یہ وکی لیکس والے مولانا ہیں قوم انہیں جانتی ہے کہ یہ کتنا اسلام اور قوم سے مخلص ہیں۔ امریکی سفیر کو درخواست کرنے والا کہ مجھے وزارت عظمی کی کرسی پر بٹھا دو ہر کام تمہاری مرضی سے ہو گا، وہ شخص سودی نظام کے خلاف کھڑا ہو گا، کبھی نہیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اسحاق ڈار نے اپنی گفتگو میں PDMحکومت کا ذکر کیا ہے کہ ہم حکومت کی مشاورت سے یہ کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے مزید یہ بھی کہا کہ ہم نے اپنے پچھلے دور اقتدار میں 2018تک اس پر بہت بڑا کام کیا تھا لیکن اسکے بعد یہ کام اس سپیڈ سے آگے نہ بڑھ سکا، یعنی پھر تحريک انصاف کی حکومت آ گئی اور یہ کام ادھورا رہ گیا۔
سوال یہ ہے کہ ہم کوئی بےوقوف ہیں؟
اگر یہ کام پچھلے دور حکومت میں شروع کیا جا چکا تھا یا ہوتا تو یہ خبر میڈیا پر ہیڈ لائن بن کر ابھرتی اور پورے ملک میں اس کو خوب پزیراہی ملتی، چونکہ یہ کارنامہ واقعی بہت ہی بڑا اور عظیم ہوتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، اخبار کے کسی بارہویں صفحے پر بھی کوئی چھوٹی سی سرخی نہیں چھپی ہونا تو یہ چاہیے تھا، قومی اخبارات کے مین پیجز پر نواز شریف شوباز شریف اسحاق ڈار کی تصویروں کے ساتھ پورے پیج پر گرین کلر میں سفید الفاظ کے ساتھ اس خوبصورت کام کی تشہیر کی جاتی۔
جو لوگ پبلک واش روم بنوا کر اس پر نواز شریف شہبازشریف مریم نواز کی تصویر لگوا دیں، بھلے وہ سودی نظام کے خاتمے پر اپنی تشہیر کیوں نہیں کریں گے۔
اب آتے ہیں اصل وجہ کیا پیش آئی یہ سب کرنے کی؟
اس وقت PDMکی تمام جماعتوں کو عوامی سطح پر سخت ترین ناپسند کیا جاتا ہے، تمام جماعتیں یہ چاہتی ہیں ان سے کوئی ایسا معجزہ سرزد ہو جائے جسے لے کر وہ الیکشن میں کیش کروا سکیں۔
گزشتہ دنوں ملکی حالات پر بلائی گئی کورکمانڈر کانفرنس میں فوج کے اعلی ترین آفیسرز کی بھاری اکثریت نے عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے، بروقت الیکشن کی تاریخ دینے کی حمایت کی ہے اور عوام اور فوج کے رشتے میں دراڑ پڑنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق شوباز شریف کو پیغام دے دیا گیا ہے کہ الیکشن کی تاریخ طے کر لیں....
نوازشریف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان جانتے ہیں موجودہ صورتحال میں الیکشن کا اعلان ہمیشہ کے لیے سیاسی موت ہے، اس لیے وہ الیکشن کی طرف بڑھنے سے ڈرتے ہیں۔ اندون خانہ اسٹیبلشمنٹ اور پی ڈی ایم کے درمیان بھی پھوٹ پڑ چکی ہے۔ اسی لیے نہ چاہتے ہوئے بھی الیکشن کو قریب آتا دیکھ کر سودی نظام کے خاتمے والا اسلامی ٹچ ایڈ کر کے آئندہ الیکشن میں ووٹ مانگنے اور عوامی حمایت کا جواز پیدا کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی یاد رکھیں سودی بنکنگ نظام سے سب سے زیادہ یہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اگر آپ اس بنیاد پر انہیں ووٹ دے بھی دینگے تو بھی یہ حکومت میں آنے کے بعد یوٹرن لے کر فیصلہ بدل لینگے اور کوئی نیا بہانہ گھڑ لینگے۔ یہ سودی نظام کا خاتمہ کریں ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔
جہاں تک بات ہے اس نظام کو چیلنج کرنے کی تو اس کا کریڈٹ جماعت اسلامی کو جاتا ہے، جماعت اسلامی کی درخواست پر ہی شرعی عدالت نے سودی نظام کے خلاف فیصلہ دیا تھا۔
سچ جان کر جیو........
بقلم: محمداشرف
