یہ کہنا کہ صرف عمران خان کا بیانیہ بک گیا ہے اسی لیے اس کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے، مکمل طور پر درست تصویر پیش نہیں کرتا۔ خان کا بیانیہ بھی بکا ہو گا لیکن یہ اس کی مقبولیت بڑھنے کی وجوہات میں سے صرف ایک وجہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔
درحقیقت خان کی کارکردگی بکی ہے ۔۔۔۔
ورنہ اگر صرف بیانیے بکتے تو نواز شریف کا ووٹ کو عزت دو والا بیانیہ بھی عوام میں کچھ نہ کچھ تو بکا ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔ ہم جیسے کچھ نہ کچھ تعلیم اور شعور رکھنے والے طبقات میں خان کے دور کی معاشی کامیابیوں اور میکرو اکنامک انڈیکیٹرز کی بہتری نے اپنا اثر دکھایا ہے۔ مخالفین جتنا مرضی جھوٹا پروپیگنڈہ کر لیں لیکن ہم یہ کیسے فراموش کر سکتے ہیں کہ خان کے دور حکومت کے صرف آخری ایک سال میں پاکستان کی ایکسپورٹس میں چھ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، ریوینیو کولیکشن صرف ایک سال میں چار ہزار سات سو ارب سے چھ ہزار ایک سو ارب تک جا پہنچی، تین سال میں ترسیلات زر سترہ ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریبا اکتیس ارب ڈالر تک جا پہنچیں، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر سولہ ارب ڈالر پر کھڑے تھے، لارج سکیل مینوفیکچرنگ تقریبا ساڑھے دس فیصد جبکہ تمام انڈسٹری تقریبا چھ فیصد سے گرو کر رہی تھی، آئی ٹی انڈسٹری دو سال میں پینسٹھ ستر فیصد تک گرو کر چکی تھی، پانچ میں سے چار بڑی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی تھی، ٹیکسٹائل اور کنسٹرکشن انڈسٹری دسیوں لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کر رہی تھیں وغیرہ وغیرہ۔
۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کے صنعتی شہروں بشمول فیصل آباد نے خان کے دور میں وہ وقت بھی دیکھا کہ پاور لومز اور ٹیکسٹائل انڈسٹری تین تین شفٹوں میں کام کر رہی تھی اور مزدور نہیں ملتے تھے۔ جن مزدوروں کو خان کے دور میں ملازمتیں اور روزگار ملا تھا اور اس امپورٹڈ حکومت میں وہ بے روزگار ہو گئے ہیں، مخالفین جتنا چاہیں پروپیگنڈہ کر لیں ان لوگوں کو خان کے خلاف نہیں کر سکتے کیونکہ انھوں نے خان کے دور میں پیدا ہونے والا روزگار اور موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اپنی جانوں پر بھگتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔ جن غریب ترین لوگوں تک خان کے دور میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے شفاف ترین انتظامات کے تحت احساس پروگرام کی رقم باقاعدگی سے پہنچ رہی تھی وہ بے چارے تو بیانیہ لفظ سے بھی شاید ناواقف ہوں۔ اور ان میں سے شاید ہی کسی کو اس بات کا علم اور پرواہ ہو کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کیسے ہیں۔ ان میں بھی خان کا بیانیہ نہیں بکا، احساس پروگرام کے تحت خان کے دور کی کارکردگی ان کے گھروں تک پہنچی ہے اور وہ آج تک خان کو دعائیں دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔ جو مزدور چھوٹے شہروں یا دیہات سے بڑے شہروں میں دیہاڑی لگانے آتے تھے اور رات کو پناہ گاہوں میں عزت سے رات بسر کرتے تھے اور مفت میں کھانا کھاتے تھے اور اس طرح سے بچائے ہوئے پیسے اپنے اہل خانہ کو بھجواتے تھے وہ بھی خان کو دعائیں دیتے اور موجودہ حکومت جس نے یہ سہولت ختم کر دی اسے بد دعائیں دیتے ہیں۔ یہ حکومت اور پٹواری جتنا مرضی پروپیگنڈہ کر لیں ان لوگوں کو خان کے خلاف نہیں کر سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔ جن غریب عوام کو صحت کارڈ کا فائدہ پہنچا وہ بھی کسی پروپیگنڈے کا اثر قبول نہیں کریں گے اور دل و جان سے خان کے ساتھ رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔ جن کسانوں میں خان کے دور کی پالیسیوں کی وجہ سے خوشحالی آئی تھی وہ بھی اس حکومت کے خان مخالف جھوٹے پروپیگنڈے کو جوتے کی نوک پر رکھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں کو محض مہنگائی مہنگائی کا پروپیگنڈہ کر کے خان کے خلاف کیا گیا تھا انھوں نے بھی موجودہ نااہل حکومت کے دور میں ہونے والی خان کے دور سے کئی گنا زیادہ مہنگائی اپنی آنکھوں سے دیکھ لی جب بجلی کے بل بھی گھر کی کوئی نہ کوئی چیز بیچ کر ادا کیے گئے۔
مندرجہ بالا طبقات میں سے زیادہ تر کو تو علم بھی نہیں ہو گا کہ سائفر کیا ہوتا ہے اور پرواہ بھی نہیں ہو گی کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کیسے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا حقیقت یہ ہے کہ خان کا بیانیہ کچھ طبقات میں ضرور بکا ہو گا، لیکن قوم کے بیشتر طبقات میں خان کی کارکردگی بکی ہے ۔۔۔۔۔ اور خان کے خلاف جتنا مرضی پروپیگنڈہ کر لیا جائے خان کی کارکردگی کے اثرات اپنی زندگیوں پر محسوس کرنے والے طبقات کا اس جھوٹے پروپیگنڈے سے متاثر ہونا ناممکن ہے۔
۔۔۔۔۔۔ یہ پی ڈی ایم مارکہ پارٹیاں عوام کو بے وقوف سمجھتی ہوں گی، لیکن عوام درحقیقت بے وقوف ہیں نہیں، سب دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔
