جب ہمارا اپنا کوئی بچھڑتا تو ہمیں حوصلہ دینے والے کئی اک چہرے نمودار ہو جاتے ہیں، جو گلے لگاتے ہیں، تعزیت کرتے ہیں، درد بانٹتے ہیں، سر پر دست شفقت رکھتے ہیں۔
لیکن جہاں بچھڑنے والا اپنا تو نہ ہو مگر بیگانہ بھی نہ ہو، رشتہ خون کا نہ ہو محبت کا ہو، وہاں بچھڑنے والے کا صدمہ ناقابلِ برداشت اس لیے بھی ہو جاتا ہے کہ ہم اپنا درد کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتے، بچھڑنے والے کے لیے ہماری رگوں میں شدت احساس اور محبت کتنی ہے، ہم یہ کسی کو بتا نہیں سکتے۔
ہم اگر اپنا درد لفظوں میں لکھ بھی دیں تو دنیا اسے رسم ہی مانتی ہے، یہ شدتِ درد ایسا ہوتا ہے کہ جسم زخموں سے چکناچور ہوتا ہے، زبان سے آہ نکالنے کی اجازت بھی نہیں ہوتی، آج ارشد شریف کی والدہ، بیوی، بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر حوصلہ دینے والے بہت ہیں اور ہونے بھی چاہیں،مگر دوسری جانب صحافی برادری، ارشد شریف کے دوست اور عام عوام کی حالت وہی ہے جو بیان کر چکا ہوں۔
سینہ جل رہا ہے پر زبان سےاظہار ممکن نہیں، ارشد شریف سے محبت کرنے والے اندر ہی اندر ٹوٹ چکے ہیں، اپنا درد کھل کر کسی کو سنا نہیں سکتے، ہر شعبہ سے وابستہ لوگ ارشد شریف کی شہادت پر غمزدہ ہیں، ہر شخص کے ذہن میں کئی سوالات ہیں مگر وہ کس سے سوال کریں؟ وہ اپنا حالِ دل کس کو سنائیں، ظلم کی اس داستان پر قوم افسردہ ہی نہیں مایوس بھی ہے، لوگ ذہنی کرب کے ساتھ ساتھ غمگین اور غصے کا شکار بھی ہیں۔
پرسوں سویرے ہی والد صاحب کے ساتھ ہسپتال جانا تھا، پورا دن وہیں پر گزر گیا، واپس پہنچ کر جب فیس بک اوپن کیا تو ارشد شریف کی شہادت کی پوسٹیں گردش کر رہی تھیں، دل و دماغ یقین نہیں کر رہا تھا، آگے اک ویڈیو پر نظر پڑتی ہے، چند سیکنڈز ہی دیکھنے کی ہمت ہوئی، یہ درد ناک آواز ارشد شریف کی والدہ کی تھی، دل پھٹ رہا تھا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا، زبان ہینگ ہو گئی تھی، سانسیں رک رہیں تھیں، وہ اپنا نہ تھا مگر یوں لگا، خود سے بہت قریبی کسی کو کھو دیا ہےـ
موبائیل ڈیٹا آف کر کے فون دوسری طرف رکھا، بار بار یہی خیال آ رہا تھا کہ کہیں یہ کوئی سپنا تو نہیں، یہ اس قدر درد ناک خبر تھی جو سوچنے کی صلاحيت ختم کر چکی تھی۔
آج سے گیارہ سال پہلے اسی طرح کا اک حادثہ پیش آیا تھا اس وقت بھی دماغ کی یہی صورتحال تھی، دن کو بارہ بجے بڑے بھائی کے ذریعے پتہ چلا بہن بیمار ہے اور ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد میں ایڈمٹ ہے، ابھی جانے کا پروگرام بنایا ہی تھا کہ والد محترم کی کال آ گئی۔
والد محترم کے الفاظ کچھ یوں تھے، بہن کا نام لیا کہ وہ بیمار تھیں کمپلیکس میں داخل تھیں لیکن زندگی اس کی اتنی ہی تھی انکی وفات ہو چکی ہے، ہم ابھی یہاں سے جنازہ لے کر نکل رہے ہیں، اور آپ بھی جتنا جلدی ہو سکے پہنچنے کی کوشش کرو، میری تو زبان ہینگ ہو چکی تھی، ابو کے اگلے الفاظ تھے دیکھو بیٹا موت ہر اک پہ آنی ہے، اللہ کی مرضی یہی تھی اب صبر تحمل کا مظاہرہ کرنا، چیخ و پکار مت کرنا، دشمن سجن تماشا دیکھتے ہیں، اپنے آپ پر پوری طرح سے کنٹرول رکھنا۔
والد صاحب کی اس قدر حوصلے سے خبر دینا، اور پھر صبر تحمل کی تلقین کرنا، آج تک نہیں بھول پایا، اس وقت پاؤں میں چائنا چہل پہن رکھی تھیں، ایک منٹ کی تاخیر کیئے بغیر نکل گیا، پورے راستے میں بار بار موبائیل نکال کر رسیو کال چیک کرتا کہ کیا واقعی ابو نے کال کرکے مجھے بہن کی وفات کا بتایا ہے یا میرا کوئی وہم ہے، اگلے چار گھنٹے دل دماغ کی اس کشمکش کے بعد گھر پہنچا تو تدفین ہو چکی تھی، رات کی تاریکی میں قبر پہ کھڑے ہو کر پنڈی سے بالاکوٹ تک کے صبر کے پیمانے ٹوٹ چکے تھے۔
چلانا منع تھا، مگر آنسوؤں پر تو کوئی پابندی نہ تھی، سو جی بھر کر آنسو بہائے، وہی ذہنی کرب دل اذیت ارشد شریف کی شہادت پر ہے، اول روز تو دل نہیں مان رہا تھا، لیکن اب یہ مان چکے کہ ارشد شریف ہم میں نہیں رہے۔
ارشد شریف سے میرا خون کا رشتہ نہیں تھا، لیکن ارشد شریف میرا محسن ضرور تھا، ارشد شریف میری آزادی کے لیے لڑنے والا مجاہد تھا، ارشد شریف میرے ملک کو لوٹنے والوں کے لیے ننگی تلوار تھا، ارشد شریف میرے ملک کے خلاف سازش کرنے والوں کا راستہ روکنے والا سپاہی تھا، ارشد شریف میرے ملک کو تباہ کرنے والوں کے کرتوت دنیا کو دکھانے والا مردِ قلندر تھا، ارشد شریف میرا رشتے دار نہیں تھا مگر وہ میری جنگ لڑ رہا تھا، اس نے میرے کل کے لیے اپنا آج قربان کر دیا، ارشد شریف کی شہادت کا صدمہ بہت گہرا ہے، یہ زخم بھرنے میں شاید زمانہ بیت جائے، میڈیا کی دنیا میں ارشد شریف کا خلا پر کرنے کے لیے شاید دہائیوں انتظار کرنا پڑے۔
اے میرے عظیم شہید ارشد شریف ہم تیرے قرض دار ہیں، تم نے ہمارے لیے خود کو قربان کر دیا۔ ہم آپ کی قربانی نہ بھولیں گے نہ بھولنے دینگے، ہم آپکی سچائی کے مشن کو لے کر آگے چلیں گے، ہم پاکستان کی حقیقی آزادی کا خواب پورا کر کے دم لینگے۔
اللہ تعالی سے دعا گو ہیں اللہ تعالی شہید کے درجات بلند فرمائے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور قاتلین اور سہولت کاروں کو اللہ تعالی دنیا و آخرت میں ذلیل و رسوا کرے۔ آمین
بقلم: محمداشرف
