قرآن کریم میں اللہ تعالی نے سورۃ الجمعہ کی آیت نمبر 9 میں اہل ایمان کو حکم دیا کہ اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف لپکو ، اور خریدو فروخت چھوڑ دو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم سمجھو۔
اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں مفسرین اکرام نے جمعہ کی پہلی آذان کو مراد لیا ہے، اگرچہ جمعۃ المبارک کی پہلی آذان کا آغاز حضرت عثمانؓ کے دور سے ہوا ہے، مگر اس دور کے مسلمانوں یعنی صحابہؓ اکرام نے کوئی اعتراض نہیں کیا تو امت کا اس پر اجماع ہو گیا، اسی تناظر میں مفسرین اکرام نے اس آیت کی تفسیر میں جمعہ کی پہلی اذان کو ہی مراد لیا۔
لیکن موجودہ دور میں رواج کہہ لیں، فیشن کہہ لیں یا پھر مسلمانوں کی سستی کہ وہ پہلی اذان کے بجائے دوسری آذان کے وقت مسجد جاتے ہیں۔
یہاں بنیادی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے ہمارے ہاں مساجد میں جمعہ کے روز جو مسجد کے منبر سے فرقہ واریت، نفرت انگیز گفتگو وغیرہ ہوتی ہے عوام اس سے بھی بیزار ہو کر پہلی اذان کے بعد نہ جاتی ہو۔ مجھے خود اس سے اکتاہت سی محسوس ہوتی ہے، اکثر اوقات تقریر سنتے ہوئے بیزاری محسوس ہوتی ہے، چونکہ تقریر یا تو مخالف فرقے پر تنقید پر مبنی ہوتی ہے یا پھر کسی بزرگ کی من گھڑت کرامات پر مبنی، ایسی صورت میں ایک ہی خیال آتا ہے اگلے جمعے مسجد تبدیل کرنی چاہیے یا تقریر کے اختتام پر آنا چاہیے۔
جب اس طرح کی بیزاری کی وجہ سے لوگ قرآن کریم کے احکامات کے مطابق پہلی اذان کے بجائے دوسری اذان پر مسجد کا رخ کریں گے تو کیا یہ اللہ کے حکم کی تکمیل ہو گی؟ کیا اس کا ذمہ دار صرف مقتدی ہی ہو گا جس نے تاخیر کی یا پھر وہ خطیب بھی ہو گا جس کی نفرت انگیز تقریر سے بیزار ہو کر اس نے تاخیر کرنا شروع کی؟
اگر آج ہمارا جوان مسجد میں آدھا گھنٹہ پہلے جانے سے کتراتا ہے تو اس کی وجہ تلاش کرنی ہو گی۔
آئندہ جمعے کو آپ خود اس بات کا اندازہ کر لیجیئے، پہلی اذان کے بعد مسجد میں چند بزرگ نظر آئیں گے، اگر نماز دو بجے ہوتی ہے تو ڈیڑھ بجے بمشکل ایک ڈیڑھ صف ہو گی، تقریر کے اختتام پر مسجد کا مین حال فل ہو چکا ہو گا، اور دوسری اذان کے بعد مسجد کا باہر والا حال مسجد کی اوپر والی چھت یہاں تک کے لوگ جوتیوں والی جگہ بھی کھڑے نظر آ رہے ہونگے۔ یہ لوگ پہلے کیوں نہیں آتے؟ یہ لوگ اتنے بیزار کیوں ہیں؟
جبکہ اللہ تعالی تو فرماتے ہیں جب اذان ہو جائے تو خرید و فروخت چھوڑ کر مسجد کی طرف لپکو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔
اس بیزاری کا ذمہ دار کون؟ بیزاری کی وجہ کیا ہے؟
ازقلم: محمداشرف
