سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

مفتی طارق مسعود توہین مذہب و گستاخی کے الزام کی زد میں



مفتی طارق مسعود گستاخ....!

مفتی طارق مسعود کی جس ویڈیو کو لے کر گستاخی کا فتوہ لگایا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا پر ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے، اس پر مفتی صاحب کی جانب سے معافی بھی مانگی جا چکی ہے، وضاحت کے نام پر پورا اک ویڈیو کلپ گردش کر رہا ہے، بہتر یہی ہے کہ اس معاملے کو مزید اچھالنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لی جائے۔

تقریر کا بنیادی پوائنٹ ہی قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ ہے، جہاں وہ یہ تاویلیں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قرآن میں تخریف ممکن نہیں، لیکن جب آپ کسی بھی معاملے میں غلو کریں یا پھر لمبا کھینچنے کی کوشش کریں گے تو الفاظ کے چناؤ میں مسٹیک ہو سکتی ہے، اور آپ کی تاویل الٹی پڑ سکتی ہے۔

قرآن کی حفاظت سے متعلق اللہ تعالی کا یہ فرمان ہی کافی ہے

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ
بیشک ہم نے ہی قرآن نازل کیا ہے اور بیشک ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

مفتی طارق مسعود کا شمار پاکستان کے ان چند علماءاکرام میں ہوتا ہے جو فرقہ واریت کے فروغ کے بجائے باہمی محبت اور اخوت کا درس دیتے ہیں، جو اپنے عقائد پر تو جواں مردی سے ڈٹے ہیں مگر اس کی بنیاد پر دوسرے مسلک کے خلاف نفرت انگیزی کا سہارا نہیں لیتے۔
مفتی طارق مسعود اک پاپولر شخصیت ہیں جن کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں سنا جاتا ہے، دنیا کے کئی ممالک میں ان کے بیانات ہوتے ہیں، ان کے بیانات اور نظریے سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی نیت میں کوئی فطور نہیں تھا بلکہ تاویل پیش کرتے ہوئے لفظوں کے چناؤ میں مسٹیک ہوئی ہے۔

لیکن ایک غلطی مفتی صاحب نے ضرور کی ہے کہ ایسے موضوعات پر یوں باریک بینی سے عوامی اجتماعات میں گفتگو نہیں کرنی چاہیے، مدارس کے اندر یا علماءاکرام کے درمیان نجی گفتگو میں ان موضوعات پر ڈسکشن کریں تو وہاں سے اصلاح کا امکان ہے، مگر اتنے حساس ٹاپک کو عوامی اجتماعات میں چھیڑنا آگ پر پٹرول چھڑکنے کے مترادف ثابت ہو گا۔

چونکہ عام عوام کا علمی لیول اس سطح کا نہیں ہوتا کہ وہ بات کو سمجھ سکیں، یا تو وہ غلط سمت لے جائیں گے یا پھر آپ کو گستاخ ڈکلیئرڈ کر کے اوپر کا ٹکٹ کاٹ دیں گے۔
عوامی اجتماعات میں آسان لفظوں میں اصلاحی بیانات کی ضرورت ہوتی ہے، معاشرے کی برائیوں کے روک تھام کے لیے بولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

اب مفتی صاحب اپنی پیش کی گئی تاویل اور ان استعمال شدہ الفاظ پر بھی معافی مانگ چکے ہیں، لہذا مزید پتنگڑ بنانے کے بجائے معاملے کو ختم کر دینا چاہیے، اور جو اہل علم لوگ ہیں وہ اپنے علمی دلائل کی روشنی میں مفتی صاحب کی اصلاح کریں، نہ کہ مزید آگ لگائیں۔

ہمارے ہاں بیماری یہ ہے کہ اپنے مسلک کے مخالف سمت کے کسی مولوی کی کوئی غلطی ہاتھ لگ جائے سہی پھر وہ آگ لگائی جاتی ہے کہ اک لمحے کہ لیے شیطان بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کرتوت تو ان کے مجھ سے زیادہ بھیانک ہیں پھر بدنام میں ہی کیوں؟

اس طرح کی تاویلوں میں استعمال شدہ الفاظ پر اگر گرفت کر لی جانے لگی تو ہر مسلک کے 80%مولوی گستاخ ثابت ہونگے۔ اگر کسی نے آئینہ دیکھنا ہے تو وہ انجینئر محمدعلی مرزا کے ان بیانات کو سن لے جس میں انہوں نے تمام مسلک کے اکابر کی غلطیوں کو Higlightکیا ہے۔

وطن عزیز میں اسلام کے نام پر ہونے والا شرک، بدعات، اسلام کے نام پر گھڑی جانی والی خودساختہ رسومات بھی اتنی ہی قابل مذمت ہیں جتنا مفتی طارق مسعود کا متنازعہ جملہ ہے۔ لیکن ہمارے دوہرے معیار کا عالم یہ ہے کہ ہمیں مخالف مسلک کے مولوی کا غلط جملہ تو غلط لگتا ہے مگر اپنے مسلک کا مولوی توحید پر حملہ آور ہو یا رسول اللہﷺ کے معجزات کو کاپی کر کے ولیوں سے منسوب کرامات بنا دے، ہمیں وہاں نہ تو دین میں غلو نظر آتا ہے اور نہ ہی کہیں گستاخی نظر آتی ہے۔

بحثیت مجموعی معاشرہ ہم نفرتوں کے سوداگر بن چکے ہیں، اللہ، رسولﷺ اور اسلام کے نام پر ہم اسلامی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے قدم با قدم نفرتوں کے بیج بوتے جا رہے ہیں۔
ہمارے منبر و محراب جو راہ ہدایت کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں، نفرت اور تقسیم کا سبب بن رہے ہیں، جو کہ بحثیت مسلمان ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے۔

کسی بھی انسان سے فرشتہ ہونے کی توقع ہر گز مت رکھیں، ہر انسان خطاکار ہے، غلطی کبھی بھی کسی سے بھی ہو سکتی ہے، چونکہ غلطی انسان کی فطرت میں شامل ہے، اور جس شخص کی علمی خدمات سب کے سامنے ہوں اس کی نیت پر شک کرنا بدترین بددیانتی ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کو حقیقی مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے اور فرقہ واریت اور نفرتوں کے بیج بونے سے محفوظ رکھے۔ اللہ تعالی ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے۔

ازقلم: محمداشرف


Post a Comment

Previous Post Next Post