سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار


سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

*پاکستان تحریک انصاف مخصوص نشستوں کی اہل قرار*

*جن 39 امیدواروں کی وابستگی پی ٹی آئی سے دکھائی گئی وہ پی ٹی آئی کے ہی کامیاب امیدوار ہیں ، سپریم کورٹ*

*باقی 41 امیدوار بھی 14 دن میں سرٹیفکیٹ دے سکتےہیں کہ وہ اسی جماعت کے امیدوار تھے، سپریم کورٹ*

*پی ٹی آئی 15 روز میں اپنے مخصوص افراد کے نام کی فہرست فراہم کرے،سپریم کورٹ*

سپریم کورٹ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

14مارچ کو پشاور ہائی کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے متفقہ طور پر سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستیں نہ ملنے کے خلاف درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں 13 رکنی فل نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دے دیا، فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھا گیا ہے۔

جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان فل کورٹ کا حصہ ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے بتایا کہ فیصلہ 8/5 کی تناسب سے ہے۔

دوسری جانب امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی، اس کے علاوہ عدالت عظمٰی کے باہر قیدیوں والی وین بھی پہنچادی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 9 جولائی کو سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔۔
*▪️77 مخصوص نشستوں پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار*

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 13 رکنی فل کورٹ فیصلہ سنا رہا ہے۔

فل کورٹ میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس اطہر من اللّٰہ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس شاہد وحید، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ فیصلہ 8 کی اکثریت کا ہے، جو جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا ہے، جسٹس منصور علی شاہ سے کہوں گا کہ وہ فیصلہ سنائیں۔

جس کے بعد جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہکا کہ پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین کے خلاف ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کے مطابق فیصلہ لائیو نشر کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے اس حوالے سے کاز لسٹ جاری کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کا کمرہ نمبر 1 کھول دیا گیا ، فل کورٹ بینچ کے لیے کمرۂ عدالت میں 13 کرسیاں لگا دی گئیں۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور الیکشن کمیشن کے وکیل سکندر بشیر، آزاد امیدواروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ کمرۂ عدالت میں موجود ہیں۔

*_‏پی ٹی آئی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں بطور جماعت قرار، سپریم کورٹ کا فیصلہ۔۔۔!!!_*

‏15دن کے اندر پی ٹی آئی اپنے امیدواروں کی لسٹ جمع کروائے گی، پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حقدار قرار، فیصلہ
‏ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کا مخصوص نشستیں حکومتی جماعتوں کو دینے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیدیا

Post a Comment

Previous Post Next Post