شیعہ عقائد و نظریات اور شیعہ مذہب کے فرقے
اہل تشیع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فقط حضرت علی ؓ کی امامت و خلافت کے قائل ہیں اور صرف انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانشین اور پہلا معصوم امام مانتے ہیں۔ شیعہ یا اہل تشیع نظریہ خلافت کو تسلیم نہیں کرتے۔ شیعہ مذہب میں خلفاء ثلاثہ اور چند صحابہؓ کے علاوہ دیگر صحابہؓ کو نہیں مانا جاتا سوائے ایک شیعہ فرقہ کے۔
اثنا عشری
اثنا عشریہ (یعنی بارہ امام)، اہل تشیع (یعنی شیعہ) کا سب سے بڑہ گروہ ماننا جاتا ہے۔ قریبا 85 فیصد شیعہ اثنا عشریہ اہل تشیع ہیں۔ ایران، آذربائجان، لبنان، عراق اور بحرین میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہیں۔ پاکستان میں اہل سنت کے بعد اثنا عشریہ اہل تشیع کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔دنیا بھر میں شیعوں کی آبادی 40کروڑ ہے یعنی؛ مسلمانوں کی ایک چوتھائی آبادی شیعوں پر مشتمل ہے۔
اثنا عشریہ کی اصطلاح ان بارہ معصوم اماموں کی طرف اشارہ کرتی ہے جن کا سلسلہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا زاد اور داماد حضرت علیؓ بن ابی طالب سے شروع ہوتا ہے۔ یہ خلافت پر یقین نہیں رکھتے اور ان کا نظریہ نظام امامت ہے۔ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین بارہ معصوم امام ہیں بلا فصل جانشین امام علی بن ابی طالب ہیں اور کل بارہ امام ہیں۔ جن کا تذکرہ تمام مکاتب اسلام کی احادیث میں آتا ہے۔ تمام مسلمان ان ائمہ کو اللہ کے نیک بندے مانتے ہیں۔ تاہم اثنا عشریہ اہل تشیع ان ائمہ پر خاص اعتقاد یعنی عصمت کی وجہ سے خصوصی شہرت رکھتے ہیں۔
ان بارہ ائمہ کے نام درج ذیل ہیں:
حضرت امام علیؓ
حضرت امام حسنؓ
حضرت امام حسینؓ
حضرت امام زین العابدینؒ
حضرت امام محمد باقر ؒ
حضرت امام جعفر صادقؒ
حضرت امام موسی کاظمؒ
حضرت امام علی رضاؒ
حضرت امام محمد تقیؒ
حضرت امام علی نقیؒ
حضرت امام حسن عسکریؒ
حضرت امام مہدی
اثنا عشریہ اہل تشیع اور دوسرے مسلمانوں میں ان کے وجود کے دور اور ظہور کے طریقوں کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔
اثنا عشریہ اہل تشیع کے دو گروہ ہیں۔
1۔اخباری 2۔ اصولی
اسماعیلی
چھٹے امام جعفر صادقؒ کی وفات پر اہل تشیع کے دو گروہ ہو گئے۔ جس گروہ نے ان کے بیٹے اسماعیل کو، جو والد کی حیات میں ہی وفات پا گئے تھے، اگلا امام مانا وہ اسماعیلی کہلائے۔ اس گروہ کے عقیدے کے مطابق اسماعیل ابن جعفر ان کے ساتویں امام ہیں۔ ان کا امامت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
جس گروہ نے موسی کاظمؒ کو اگلا امام مانا وہ اثنا عشری کہلائے کیونکہ یہ بارہ اماموں کو مانتے ہیں۔
زیدیہ
زیدیہ شیعہ یا زیدی شیعہ، اہل تشیع کا ایک فرقہ ہے جس میں حضرت امام سجاد یا زین العابدینؒ کی امامت تک اثنا عشریہ اہل تشیع سے اتفاق پایا جاتا ہے۔ یہ فرقہ امام زین العابدین کے بعد امام محمد باقر کی بجائے ان کے بھائی امام زید بن علی زین العابدین کی امامت کے قائل ہیں۔
یمن میں ان کی اکثریت ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی ہیں۔ وہ ائمہ جن کو زیدی معصوم سمجھتے ہیں :
حضرت امام علیؓ
حضرت امام حسنؓ
حضرت امام حسینؓ
ان کے بعد زیدی شیعوں میں کوئی بھی ایسا فاطمی سید خواہ وہ امام حسن کی نسل سے ہوں یا امام حسین کی نسل سے امامت کا دعوی کر سکتا ہے۔ زیدی شیعوں کے نزدیک پنجتن پاک کے علاوہ کوئی امام معصوم نہیں،کیونکہ ان حضرات کی عصمت قرآن سے ثابت ہے۔ زیدیوں میں امامت کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ یہ فرقہ اثنا عشری کی طرح امامت، توحید، نبوت اور معاد کے عقائد رکھتے ہیں تاہم ان کے ائمہ امام زین العابدین کے بعد اثنا عشری شیعوں سے مختلف ہیں۔ لیکن یہ فرقہ اثنا عشری کے اماموں کی بھی عزت کرتے ہیں اور ان کو "امام علم" مانتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ زیدی کتابوں میں امام باقر،امام جعفر صادق اور امام عسکری وغیرہ سے بھی روایات مروی ہیں۔
کیسانیہ فرقہ
”کیسانیہ“ ایک ایسے فرقہ کا نام ہے جو پہلی صدی ہجری کے پچاس سال بعد شیعوں کے خلاف پیدا ہوا اور تقریباً ایک صدی تک چلتا رہا پھر بالکل ختم ہو گیا۔ کیونکہ اس کے بہت سے عقائد و نظریات کو اہل تشیع اور باقی فرقوں نے رد کر دیا تھا۔
یہ گروہ جناب ”محمد حنفیہ“ (حضرت علیؓ کے بیٹے) کی امامت کا عقیدہ رکھتا تھا اور انھیں امیر المومنین کہتا تھا اور امام حسن اور امام حسین کے بعد چوتھا امام گمان کرتا تھا۔ ”محمد حنفیہ “حضرت علی امیر المومنین کے فرزند ارجمند تھے اور حضرت کی ان پر خاص توجہ ہوا کرتی تھی ان کی شہرت ”حنفیہ“اس جہت سے ہے کہ ان کی ماں ”خولہ“ کا تعلق ”بنی حنیفہ“ کے قبیلہ سے تھا امیر المومنین نے انھیں آزاد کیا تھا پھر اپنے ساتھ عقد نکاح پڑھا۔
صرخیین فرقہ
صرخیین یا صرخی شیعہ اسلام میں ایک نیا مکتب فکر ہے جس کا بانی محمود صرخی ہے۔ جو ایک عراقی عالم دین ہے۔ صرخیین کے عقائد و نظریات شیعہ اسلام کے خلاف ہیں مگر پھر بھی یہ لوگ اپنے آپ کو شیعہ قرار دیتے ہیں۔
ان کے عقائد و نظریات بالکل ہی شیعہ اسلام کے خلاف ہیں۔ انھی وجوہات کی بنا پر ان کو شیعیت سے خارج کیا جاتا ہے۔
1) آپ کا دعویٰ ہیں کہ ہم توحید خالص کے قائل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آپ شیعہ اکثریت کے موجودہ رسومات اور اعمال کو شرکیہ قرار دیتے ہیں۔
2) آپ خلفائے ثلاثہ سے محبت رکھتے ہیں خصوصا حضرت عمرؓ کا کثرت سے ذکر کرتے ہیں۔خلفاء کے ناموں کے ساتھ بھی علیھم السلام لکھتے یا کہتے ہیں۔
3) حضرت فاطمہؓ کے گھر پر ہجوم نیز ان کی شہادت کو مجوسیوں کی بنائی ہوئی کہانی سمجھتے ہیں۔اور محسن نامی کسی فرزند کے وجود کو خیالی باتیں قرار دیتے ہیں۔
4)آپ حضرت عمرؓ اور ام کلثوم کے نکاح کے قائل ہیں اور اس پر کتاب بھی لکھی ہے جس میں حضرت عمرؓ کو داماد حیدر ع قرار دیا ہے۔
5)قبروں پر تعمیرات نیز قبروں کی گچ کاری،ان پر لکھنا اور زمین سے چار انچ سے زیادہ اونچی قبروں کو (شیعہ کتب حدیث کی روشنی میں) تعلیمات رسولﷺ اور ائمہ اہلبیت کے منافی قرار دیتے ہیں اور اونچی قبروں کو ہموار کرنے اور ان تعمیرات کو زمین کے برابر کرنے کو ہی عین شریعت مانتے ہیں۔
6)امامت کے آپ قائل ہیں لیکن اماموں کی تعداد یا ان کی عصمت پر عام شیعوں سے اختلاف رکھتے ہیں۔
7) نکاح متعہ کو حرام اور شان ائمہ اہل بیت کے منافی قرار دیتے ہیں۔
8(آپ رسول اللہﷺ کے لیے ایک بیٹی کی بجائے چار بیٹیوں کے قائل ہیں۔
9)آپ ازواج مطہرات کو نص قرآن کے مطابق اہل بیت کے اصل مصداق مانتے ہیں۔
10) حضرت عائشہؓ کا خاص احترام کرتے ہیں۔صرخی گروپ ماتمی مجالس کے طرز پر "تکریم عائشہؓ کا انعقاد کرتے تھے۔یعنی یہ واحد شیعہ گروپ ہے جو حضرت عائشہ کے لیے مجلس برپا کرتے ہیں اور یہ حضرت عائشہ کے نام کے ساتھ بھی "علیھا السلام "لکھتے ہیں۔
11) یہ شیخ ابن تیمیہ کو توحید کا امام قرار دیتے ہیں
12) رائج عزاداری یعنی ماتم کی ہر شکل یعنی سینہ زنی،چیخنے چلانے،قمہ،زنجیر زنی،آگ پر ماتم،تعزیہ،ذو الجناح وغیرہ کو(شیعہ کتب حدیث کی روشنی میں) اہل بیت کی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں اور ان کو بدعت قرار دیتے ہیں۔
