اہلِ تشیع مکتبہ فکر کی شاطرانہ چال، سنیوں کی نسلیں اور عام عوام خطرے میں، شیعہ نے جاریحانہ حکمت عملی بنا لی
موجودہ حالات و واقعات سے یہ لگ رہا ہے اگلے چند سال پاکستان میں مذہبی حوالے سے بڑے اہم ہوں گے
گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر اہلِ تشیع مکتبہ فکر نے کمال مہارت سے کچھ ایسے سنی علماء اور اسکالر کو ہائر کر دیا ہے جو شیعہ کا موقف پیش کر رہے ہیں۔
اگرچہ وہ بظاہر خود کو سنی ہی ظاہر کر رہے ہیں، ان کی ماضی کی پہچان اور خاندان بھی سنی ہیں مگر وہ کھل کر مقدس شخصیات سے متعلق متنازعہ گفتگو کرتے ہیں۔
پھر اس گفتگو کو شیعہ کے بڑے پیجز کے ذریعے وائرل کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب سنی مسلک کے لوگ بھی سوشل میڈیا پر اعتراضات کے جوابات دے رہے ہیں۔
لیکن اس تمام صورتحال میں عام عوام الناس جو سوشل میڈیا کا استعمال کرتی ہے، اس کے لیے یہ سلسلہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔
چونکہ اہلِ تشیع مذہب کی نمائندگی کرنے والے وہ مولوی جو سنیت کے لبادے میں خلفاءراشدین اور اصحاب رسولﷺ سے متعلق متنازعہ گفتگو کرتے ہیں، اس سے عام عوام لا علمی نا سمجھی کی بنیاد پر محبتِ اہلبیت اور محبت اسلام میں شیعہ موقف سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
شیعہ مذہب کی نمائندگی کرنے والے نام نہاد سنی علماء بڑی مہارت سے ان ایشوز کو ہائی لائیٹ کر رہے ہیں جن پر ماضی میں بھی طویل بحث ہو چکی ہے، بنیادی طور پر آپﷺ کے آخری وقت میں کاغذ قلم مانگنے اور حضرت عمرؓ کے منع کرنے، سیدہ فاطمہؓ کے وراثتی حق کے مطالبے اور غزوات میں صحابہؓ کی شرکت وغیرہ سمیت کئی ایسے نازک پہلوؤں پر پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جو عام عوام کے علم میں نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے وہ ان کی من گھڑت کہانیوں سے متاثر ہو جاتے ہیں۔
اس فتنے سے بچنے اور عوام کو بچانے کا حل یہ ہے، جب بھی ان کی ایسی پروپیگنڈہ پر مبنی ویڈیوز دیکھیں، جس اعتراض کا جواب پتہ نہ ہو اسے مقامی علماءاکرام سے پوچھ لیں یا یوٹیوب پر اس واقعے کو سرچ کر کے مختلف علماءاکرام کا موقف اس پر سنیں حقیقت تک انشاءاللہ پہنچ جائیں گے۔
دوسرا اہم کام یہ کریں، شیعہ مذہب کی نمائندگی کرنے والے مولوی اگر آپ کے قریب رہتے ہیں تو ان کے اثاثوں سے متعلق چھان بین شروع کر دیں، ان کے لائف سٹائل اور پراپرٹی، بنک بیلنس میں اگر اضافہ ہو رہا ہے تو سمجھ لیں یہ لوگ مال لے کر شیعہ موقف کو فروغ دے رہے ہیں، اپنے طور پر انہیں ایکسپوز کریں۔
تیسرا اہم کام یہ کریں، کہ شیعہ کے وہ اکاؤنٹ جہاں ان کی ویڈیوز اپلوڈ ہوں، یا انکے اپنے اکاؤنٹ جہاں یہ شیعہ کی تائید کر رہے ہوں، ان ویڈیوز پر جوابی کمنٹس بالکل بھی مت کریں، کمنٹس کرنے سے پیجز یا اکاؤنٹس کی ریچ مزید بڑھے گی اور یہ اپنے مشن میں کامیاب ہوتے جائیں گے، ممکن ہو تو رپورٹ مار کر آگے نکل لیں۔
متنازعہ گفتگو کا یہ مقصد بھی ہو سکتا ہے تاکہ جلد فیمس ہو کر سوشل میڈیا پر اپنا نام بنائیں اور ڈالر چھاپیں، لہذا انکے پیجز پر گالی دینا، جواب لکھنا یا لوگوں کو بتانا کہ انہوں نے فلاں توہین کی فلاں کر دیا، یا گروپوں میں لنک سینڈ کر دیے کہ دیکھو یہ لوگ صحابہؓ کی گستاخی کر رہے ہیں، یہ سب کرنا ان کے فائدے میں جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
ایسی متنازعہ ویڈیوز پر آپ نے بغیر کمنٹ کیئے، رپورٹ کرنا ہے، اسکے سکرین شارٹ لینے ہیں، یا ویڈیو ڈاؤنلوڈ کر کے متعلقہ سائبر کرائم برانچ میں رپورٹ درج کروا دینی ہے کہ یہ شخص سوشل میڈیا کا غلط استعمال کر کے اکثریت مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو چھیڑ کر مذہبی منافرت کا مرتکب ہو رہا ہے لہذا اس کے خلاف کاروائی کی جائے۔
مکمل ڈاکومنٹ اور ویڈیو پروف کے ساتھ آپ متعلقہ ایف آئی اے سائبرکرائم آفس بھی جا سکتے ہیں، اور ٹائم کی قلت ہے تو سائبر کرائم کو میل بھی کر سکتے ہیں۔
ان کی شاطرانہ حکمت عملی کا جواب گالم گلوچ یا جذباتی نعروں کے بجائے بہترین حکمت عملی سے ہی دینا ہو گا۔
اور آخری بات: جو مولوی صحابہؓ اکرام سے متعلق متنازعہ چیزوں کو اچھالے اس کا سوشل اور معاشی بائیکاٹ بھی کرنا اشد ضروری ہے، چونکہ سنیت کے لبادے میں شیعت کا پرچار ہماری نسلوں کے لیے ناسور بن سکتا ہے۔
ازقلم: محمداشرف
