سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

جھنگ میں موجود ہیر رانجھے کا مزار، عاشقوں کی منتیں مرادیں، صوفی ازم اور وارث شاہ کا کمال


ہیر رانجھے کا قصہ تو تقریباً ہر اک نے سنا ہو گا، اور اس پر اک کامیاب فلم بھی بن چکی ہے جو آج تک بڑی مقبول ہے، اس کہانی کو آج کے زمانے میں روحانیت سے خوب جوڑا جاتا ہے، جس کی بنیادی وجہ "وارث شاہ" کا اس ٹاپک پر افسانہ لکھنا اور اسے رنگ دینا بھی ہے۔

صوفی ازم میں ایسے افسانوی واقعات کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے، اور نہ صرف اسے یاد رکھا جاتا ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اسے مزید اپڈیٹ کیا جاتا ہے اس میں مزید مرضی کی چیزیں ایڈ کی جاتی ہیں۔

جھنگ میں موجود ہیر کے مزار پر آج کے دور میں بھی منت مرادیں مانگنے والے لوگ جاتے ہیں، دھاگے باندھے جاتے ہیں، چادریں چڑھائی جاتی ہیں۔

ہیر کے مزار پر منتیں مانگنے والوں میں اکثریت عاشقوں کی ہوتی ہے۔

یہاں پر دلچسپ پہلو یہ ہے!

پوری کہانی میں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہیر اور رانجھا سچی محبت کرتے تھے مگر ہیر کے پیرنٹس نے ہیر کی شادی رانجھے کے بجائے کہیں اور کر دی، رانجھے کو پتہ چلا تو وہ جوگی بن کر ہیر کے سسرال گیا اور ہیر کو لے کر بھاگ گیا۔

مزید آگے کہانی میں لکھا جاتا ہے، ہیر کے چچا اور نکھیڑےخاندان یعنی شوہر کے خاندان نے مل کر فیصلہ کیا کہ دونوں کو مار دیا جائے، بعض نے لکھا کہ مار دیا گیا اور بعض نے لکھا کہ مارنے ہی والے تھے کہ ہیر رانجھے نے دعا کی یا اللہ ہمیں پردے میں لے لے یہ لوگ ہمیں مار دینگے اور پھر وہ دونوں زمین میں دھنس گے۔

اس پورے افسانوی واقعے میں یہی نظر آتا ہے کہ ہیر رانجھے نے چاہا کر بھی محبت کے حصول میں  ناکامی کے سوا کچھ نہ پایا۔

بالفرض ہم اس افسانوی واقعے کو سچ بھی مان لیں تو اک سوال اٹھتا ہے!

جو ہیر رانجھا خود اپنی محبت حاصل نہ کر سکے، وہ تمہاری مراد کیسے پوری کریں گے، ان کے مزار پر دھاگے باندھنے اور چادریں چڑھانے سے تمہیں کیسے فائدہ ہو گا؟

انٹرٹینمنٹ کے لیے مووی دیکھنا یا کہانی پڑھنا الگ بات ہے مگر ایسی افسانوی باتوں پر یقین کر کے اپنے عقیدے کو خراب کر کے ایمان ضائع کرنا بدترین بدقسمتی ہے۔

ہیر رانجھے والے افسانے کو وارث شاہ اور بعض دیگر صوفیا نے جان بخشی اور پھر 1970میں اس پر مووی بننے سے مزید اسے تقویت ملی ورنہ خدا کی قسم سینکڑوں ناول ایسے ہیں جن میں ہیر رانجھے سے زیادہ دلچسپ اور ایموشنل کہانیاں  موجود ہیں، جس دن کسی پروڈیوسر کے خیال میں آیا کہ رائیٹرز کو پیسے دینے کے بجائے ناول وغیرہ سے اسکرپٹ اٹھایا جائے اس دن دیکھنا وہ مووی ہیر رانجھا سے زیادہ ہٹ ہو جائے۔

عام طور پر فلمی کہانی میں دی اینڈ ہیرو ہیروئن کو ملانے پہ ہوتا ہے، جبکہ ہیر رانجھے والی کہانی میں دی اینڈ بالکل ویسا ہے جیسے ڈرامہ میرے پاس تم ہو میں دانش کی موت ہو جاتی ہے، اور پوری قوم آنسو بہانا شروع ہو جاتی ہے۔

ارے بھئیا افسانوی کہانیوں کو خوب انجوائے کرو مگر، انہیں عقائد پر سوار کر کے دین سے مت جوڑو، اور صوفیا کے افسانوی قصوں سے بھی دور رہو ورنہ بھٹکتے ہی رہ جاؤ گے۔

بقلم: محمداشرف

Post a Comment

Previous Post Next Post