سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

پاکستان میری جان کشمیر میری شہ رگ


حالیہ پاکستان کشمیر تنازعے پر ہم نے بھرپور انداز میں کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کی، مطالبات کی منظوری اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا، کئی اک ناقابل برداشت چیزوں کو بھی اس لیے اگنور کیا کہ نفرت مزید نہ بڑھے، یہ سوچا کہ وہ مشتعل ہیں اس موقعے پر بحث کر کے انہیں مزید اشتعال نہ دیا جائے۔

مگر سوشل میڈیا کی حد تک ایک بات نوٹ کی ہے، کشمیر کے بےشمار ینگسٹرز انتہائی درجے کے غیرسنجیدہ ہیں، مانا کہ پاکستان نے آپ کے ساتھ درست سلوک نہیں بھی کیا، مگر سچ یہ ہے پاکستان کے بغیر موجودہ دور میں آپ کا گزارہ بھی مشکل ہے۔

اختلافات کا ہونا کوئی بری بات نہیں مگر اختلافات کے آداب سے گر کر اختلاف کرنا بھی انتہائی درجے کی برائی ہے۔ میرے ساتھ ایڈ وہ لوگ میرے دل کے بہت قریب ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان سے محبت کا اظہار کیا اور اس موقعے پر بھی حدیں کراس کرنے کے بجائے مدلل انداز میں اپنے مطالبات پیش کیئے اور جائز شکوے بھی کیئے۔

کشمیر کے مسائل کے بنیادی مجرم آپ کے وہ کشمیری راہنما ہیں جو پاکستان کے کرپٹ نظام کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں عیاشیاں فرما رہے ہوتے ہیں، نظام سے بغاوت کے بجائے اگر آپ پورے پاکستان کی توہین کریں گے، تمسخر اڑائیں گے، پرچم کی بےحرمتی کریں گے تو وقتی طور پر شاید آپ دلی تسکین پوری کر لیں مگر آپ اپنے اک بھائی کی طاقت سے محروم ہو جائیں گے۔

کہا جاتا ہے جب انسان کی انگلی پر نجاست لگ جائے تو انگلی نہیں کاٹی جاتی بلکہ اس نجاست کو صاف کیا جاتا ہے۔ فی الحال ہم سب کو مزید غلط فہمیاں پیدا کرنے کے بجائے نظام کی اس غلاظت کو صاف کرنا چاہیے جس کی وجہ سے ہمارے مابین غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔

بحثیت مسلمان اور محمدﷺ کے امتی ہونے کی حثیت سے سرحدوں کی تقسیم، قومیت و لسانیت کی تقسیم، رنگ و نسل کی تقسیم کے بجائے ہمیں امت بننے کے لیے کوشاں ہونا چاہیے، کشمیر کو تو ہم پاکستانیوں نے ہمیشہ اپنا حصہ بلکہ بانی پاکستان نے شہ رگ قرار دیا ہے، اپنے جسم کے کسی حصے پر بھلے کون زخم ڈال کر خود کو اذیت دے سکتا ہے، ہمیں تو حکمران طبقے کی ناقص پالیسیوں سے افغانستان سے خراب ہونے والے تعلقات پر بھی دکھ ہے، ہمیں مل کر نظام کی درستگی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے تاکہ ہم مسلم طاقت بن کر مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو بھی آزاد کروا سکیں۔

یہ سرحدوں کی تقسیم، اس قومیت کا خمار مسلمانوں کو زیب ہی نہیں دیتا، خراب نظام اور ناقص پالیسیوں کا ہم خود اعتراف کرتے ہیں، پاکستان کے 80%نوجوان اس نظام کی درستگی کی جدوجہد میں مصروف ہیں، اس جدوجہد میں کشمیر کے نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر پاکستانیوں کا ساتھ دیا ہے، آج اگر ان اختلافات کو انا کا مسئلہ بنا کر تقسیم اور نفرت کی حد تک جائیں تو یہ سراسر بےوقوفی ہو گی۔

کشمیر کے ان نوجوانوں سے مجھے شکوہ ہے جنہوں نے سوشل میڈیا پر جذبات میں آکر پاکستانی عوام کے جذبات کو مجروح کیا، ہم اس رویے کو جذباتی پن اور غیرسنجیدہ ہی کہہ سکتے ہیں، لیکن پھر بھی ہم اس پر ناراضگی یا نفرت کے بجائے پیغامِ محبت دیں گے، کہ آؤ مل کر نظام کی درستگی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

ازقلم: محمداشرف

Post a Comment

Previous Post Next Post