آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا اکثر گاؤں کے پڑھے لکھے پڑھائی کے بعد دماغی توازن کھو بیٹھتا ہے اُس کی وجہ یہ نہیں کے موصوف نے پڑھائی زیادہ کی ہوتی ہے۔ اصل میں گاؤں میں پڑھائی کی شرح کم ہوتی ہے اور گاؤں کے لوگوں نے اکثر کم پڑھے لکھے لوگ دیکھے ہوتے ہے تو اُن پڑھے لکھے لوگوں کو دیکھ کے ان کے دلوں میں بھی یہی خواہش پیدا ہوجاتی ہے کہ میرا بیٹا یونیورسٹی سے فارغ ہوتے ہی بڑا افسر بنے اس لۓ بیٹے سے توقع بڑھ جاتی ہیں۔۔جب بیٹا ڈگری مکمل کر لیتا ہے تو گھر والے سمجھتے ہیں کہ آب تو پیسوں کا برسات ہوگا جو کہ درحقیقت غلط ہے۔ بےچارہ ماسٹرز کہ بعد اِدھر اُدھر اپلائی کرتا ہے اور کہی ایڈجسمنٹ نہیں ہوتی۔ یا تو موجودہ حکومت کی طرح کوٸی ویکینسی اناونس نہیں ہوتی۔
گورنمنٹ نوکری تو دور کی بات ٗ پرائیویٹ نوکری بھی نہیں ملتی۔۔۔پھر گاؤں میں جوبندا مزدوری کرتا ہو تو گھر والے ان سے موازنہ کرواتے ہیں کے فلاں بندہ مزدوری کرتا ہے اور اپ نے 16 سال تعلیم کے بعد بھی وہ زیادہ کماتا ہے۔
یہ باتیں سن کر وہ بیچارہ آہستہ آہستہ دماغی توازن کھو بیٹھتا ہے اور گھر والے تو چھوڑ پڑوسی بھی روز پوچھتے ہیں بیٹا افسر کب لگ رھے ہوں افسر تو دور کی بات اس گھٹیا نظام میں فریش گریجویٹ بیچارہ 10k بھی نہیں کما سکتا اور آخر کار وہ ساٸیکو ہو جاتا ہے۔۔۔اس سسٹم میں پڑھائی کیسات ساتھ بہتر رہے گا کہ بندہ کوئی اور کام بھی ساتھ کرے جیسا کہ درزی،حجام یا مستری کا کام ہوں۔
