سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

کتابیں اور بزنس


آپ ایسی کسی بھی کتاب کو پڑھ کر، امیزون، ڈراپ شپنگ، eBay یا گوگل وغیرہ پر بزنس نہیں بناسکتے

مجھے افسوس ہوتا ہے جب میں ایسی کتابوں کی پروموشن دیکھتا ہوں۔ یہ لوگوں کے پیسے ضائع کرنے کے مترادف ہے

انھیں ایک ٹرینڈ کے پیچھے لگا کر، اپنا ریوینیو جنریٹ کرنا، جبکہ مارکیٹنگ اور سیلز کی خاطر، خریدنے والوں سے اصل حقائق چھپانا ایک درجے میں بددیانتی ہے

پیسہ کمانا بری چیز نہیں۔ میں خود بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں لیکن لوگوں کو trick کرکے پیسہ کمانا نامناسب حرکت ہے

میں آپ کو exactly بتاتا ہوں کہ ایسے موضوعات پر کتابیں خریدنا کیونکر پیسوں اور وقت کا صریح ضیاع ہے

اور،

آپ کو درحقیقت کرنا کیا چاہیے؟

لیکن،

اس سے پہلے آپ کو یہ سمجھاتا چلوں کہ کن موضوعات پر کتابیں پڑھنا آپ کو واقعی فائدہ دے سکتا ہے اور کن پر نہیں؟

ان رہنما اصولوں کو ایک بار سمجھ لیجیے، آپ کو زندگی بھر فیصلہ لینے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور نہ ہی آپ کبھی کسی سے یوں بیوقوف بن سکیں گے

اہم ترین اصول:

اگر آپ نے آئی ٹی اور آن لائن بزنس کے حوالے سے کچھ سیکھنا ہی ہے تو یوٹیوب پر موجود ہزاروں "فری" ویڈیوز اور متعدد ہائی کوالٹی لرننگ ویب سائٹس جیسے Udemy, Coursera, w3schools وغیرہ کافی ہیں

آپ کو کسی کتاب کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔۔

ان فیلڈز کے حوالے سے، کتابیں کیوں ایک "برا" میڈیم ہیں؟

اسے غور سے سمجھیے:

یہ تکنیکی فیلڈز ہیں۔ مثلاً آپ نے پائیتھن لینگویج سیکھنی ہے یا سائبر سیکورٹی کا کورس کرنا ہے تو آپ کو interactive environment چاہیے۔

مثلاً،

میں ایک سمپل سے کوڈ کی پریکٹس کررہا ہوں جو ایک لائن "hello world" اسکرین پر پرنٹ کردے

اب مجھے ایک کنسول درکار ہے جہاں میں یہ لائن ٹائپ کروں اور ساتھ ہی اسکرین پر مجھے اس کا "آؤٹ پٹ" یا "ریزلٹ" شو ہوجائے

یہ کام کسی لرننگ ویب سائٹ جیسے کہ w3schools پر تو باآسانی ہوسکتا ہے لیکن کتاب میں ہرگز، ہرگز نہیں

کتاب تو چھپی چھپایا text ہے یا کچھ امیجز

میں کتاب میں interactive environment کہاں سے لاؤں؟

سائبر سیکیوریٹی سیکھتے ہوئے، مجھے Linux کے آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتے ہوئے کچھ کمانڈز پریکٹس کرنی ہے

یہ پریکٹس کتاب میں کیسے ہوگی؟

تو جیسا کہ میں نے کہا ان تمام چیزوں کو سیکھنے کے حوالے سے جتاب ایک بہت ہی خراب میڈیم ہے

دوسری طرف، آن لائن بے شمار لرننگ ریڈورسز، ٹولز اور ویڈیوز فری میں موجود ہیں جہاں آپ ایک بہت ہی آسان استعمال interactive environment میں یہ سب اسکلز باقاعدہ "پریکٹس" کرسکتے ہیں اور ساتھ ساتھ کانسیپٹس بھی سیکھ سکتے ہیں

تو پھر مجھے کتاب کی کیا ضرورت؟

جب میری پاس گاڑی موجود ہو تو میں گدھا گاڑی کا کیوں استعمال کروں؟

جب میرے پاس ڈرل مشین موجود ہو تو میں ہتھوڑی چھینی لے کر، ہاتھ سے دیوار میں کیوں سوراخ کروں؟

جب میرے پاس ٹریکٹر موجود ہو تو میں بھینسیں جوت کر کیوں ہل چلاؤں؟

یہ انتہائی احمقانہ بات نہیں لگتی کہ اتنے ایڈوانس اور یوزر فرینڈلی ٹولر موجود ہیں، پھر بھی کتابیں چھاپی جارہی ہیں؟

صرف اس لیے کہ کچھ نادان افراد گھیر کر، ان سے بلاوجہ اس چیز کے پیسے کمالیے جائیں جو فری اور بہت ہائی کوالٹی میں پہلے سے ہی موجود ہوں

یہ کامن سینس کی توہین ہے کہ آپ لوگوں کی صحیح رہنمائی کرنے کی بجائے، انھیں بیک ورڈ لے کر جارہے ہیں اور اس حرکت سے پیسے بھی کما رہے ہیں

آگے چلتے ہیں:

میں دو منٹ کے لیے مان لیتا ہوں کہ بندے کے پاس نہ کمپیوٹر ہے، نہ لیپ ٹاپ ہے کہ وہ ان آن لائن ٹولز اور interactive لرننگ ریسورسز تک رسائی حاصل کرسکے

نہ وہ فری میں موجود ہزاروں PDF بکس ڈاؤن لوڈ کرسکتا ہے

اس کی کوئی ایسی مجبوری ہے کہ اسے ہزار پندرہ سو کی کتاب خرید کر ہی پڑھنی ہے تاکہ وہ اپنے بنیادی کانسیپٹس کلئیر کرسکے

ایسی صورت میں بھی، آپ ان موضوعات پر کتابیں لیجیے جو آپ کو کوئی "تکنیکی اسکل" سکھارہی ہوں جیسے پروگرامنگ لینگویجز، ڈیٹا سائنس، سائبر سیکیورٹی وغیرہ

کیونکہ،

آپ (کامن سینس کو اگنور کرتے ہوئے)، کسی بھی وجہ سے ان موضوعات پر مبنی کتابیں خریدیں، آپ کو کم سے کم ان کے بنیادی کانسیپٹس سمجھنے میں آسانی ہوگی

تو،

اگر کتاب خریدنی ہی ہے، تو تکنیکی اسکلز سے متعلق کتاب خرید لیجیے

آپ کو کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوگا

اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں:

تکنیکی موضوعات ایک طرف، لیکن آپ نے بزنس کے موضوع پر کبھی کتاب نہیں خریدنی۔ یہ پیسوں کی ultimate بربادی ہے

کیوں؟

آپ کو تفصیل سے سمجھاتا ہوں

فرض کیجیے آپ نے پلان کیا ہے کہ آپ امیزون پر کام شروع کریں گے اور وہاں سے اپنی انکم جنریٹ کریں گے

اب،

امیزون ہو، eBay ہو یا کوئی بھی پلیٹ فارم، یہ سب بزنس ہی ہیں

یاد رکھیے،

بزنس 2 جمع 2، چار نہیں

کسی بھی بزنس میں ہزاروں امکانات، کئی طرح کے variables اور سب سے بڑھ کر، دوسرے بزنسز کے ساتھ مقابلہ ہوتا ہے

ہر پراڈکٹ مختلف ہے
ہر مارکیٹ جدا ہے
ہر پراڈکٹ کا competition الگ ہے
ہر کسٹمر الگ دماغ رکھتا ہے

ان ہزاروں معاملات کا، کوئی بھی کتاب سرے سے احاطہ ہی نہیں کرسکتی

اس لیے کسی بزنس کے لیے، ان کتابوں کا پڑھنا وقت اور پیسے، دونوں کی بربادی ہے

ایک اہم بات کا ذکر کرتا چلوں:

پراڈکٹ مینوفیکچرنگ یا پراسسز آپ بیشک کسی کتاب سے پڑھ لیجیے۔ وہ بالکل ٹھیک ہے

کیونکہ،

اس کی تفصیلات فکس ہوتی ہیں

مثلاً،

صابن کیسے بنانا ہے، خوردنی تیل کیسے نکالنا ہے، لیدر کیسے پراسس ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ

ان موضوعات پر کتابیں مددگار ہوسکتی ہیں

لیکن،

امیزون پر صابن کا برانڈ کیسے بلڈ کرنا ہے، ای بے پر لیدر جیکٹس کا اسٹور کیسے چلانا ہے، ڈراپ شپنگ کیسے کرنی ہے، وغیرہ

ان موضوعات پر کتابیں پڑھنا بالکل غلط ہے

لیدر جیکٹ پراسس کرنا اور لیدر جیکٹ کا امیزون پر بزنس بنانا، دو بالکل الگ باتیں ہیں

پراسس کے لیے کتاب پڑھی جاسکتی ہے کیونکہ یہ ایک "فکسڈ" یا لگی بندھی معلومات ہے جس میں وقت اور حالات کے ساتھ خاص تبدیلی نہیں آتی

لیکن،

امیزون یا eBay پر لیدر جیکٹ کا بزنس بلڈ کرنا ہرگز فکسڈ یا لگی بندھی معلومات نہیں کیونکہ یہاں آپ کو دوسرے سیلرز سے مقابلہ کرنا ہے۔ وہاں ہر دن نیا ہوگا، ہر روز ایک نئج صورتحال کا سامنا ہوگا

تو ایک چھپی چھپائی کتاب، اس روز بدلتی معلومات کو کیسے accomodate کرپائے گی؟

کبھی نہیں کرسکتی

یاد رکھیے،

کتاب جس تاریخ کو چھپ گئی، اس کی معلومات اس تاریخ تک ہمیشہ کے لیے محدود ہوچکی۔ لہذا ایسے بدلتے scenario میں، کتاب کبھی مددگار ثابت نہیں ہوسکتی

ایک انتہائی عام فہم مثال سے اس اہم پہلو کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:

میں کرکٹ کے قوانین، بیٹنگ اور باؤلنگ کی بنیادی ٹپس پر مبنی ایک کتاب لکھنا چاہ رہا ہوں تو یہ بالکل ہوسکتا ہے۔ وہ کتاب مددگار بھی ہوگی

لیکن،

میں اس موضوع پر کتاب لکھنا چاہوں کہ پاکستانی ٹیم اگلے ورلڈ کپ میں انڈیا کو کیسے پچھاڑے؟ تو یہ ناممکن ہے

کیوں؟

مجھے کیا پتا کہ بھارت کن باؤلرز کے ساتھ میدان میں اترے گا؟

مجھے کیا پتا کہ عین میچ کے دوران، بھارتی کپتان کس طرح کی فیلڈ سیٹ کرے گا؟

مجھے کیا پتا کہ بھارتی اسپنرز، کسی اوور کے دوران، کیا ٹیکٹکس اپنائیں گے؟

وہ بلے باز اور پچ سچویشن کو دیکھتے ہوئے، بال کو زیادہ فلائٹ دیں گے یا پیس کے ساتھ باؤلنگ کریں گے؟

ایسے ہزاروں امکانات ہیں، جن کا علم صرف اور صرف میچ کے دوران ہی ہوسکتا ہے

ایسے کسی موضوع کو کتاب لکھ کر cover کرنا محض ایک بھونڈا مذاق ہے

بالکل اسی طرح، بزنس کے حوالے سے کتاب لکھنا یا پڑھنا ایک بھونڈا مذاق ہے

آپ کو کیا پتا کہ آپ کا competitor کل کیا اسٹریٹیجی اپنائے گا؟

آپ کو کیا پتا کہ آپ کے کسٹمرز کو کل کیا پرابلم پیش آسکتی ہے؟

آپ کو کیا پتا کہ آنے والے دنوں میں مارکیٹ ٹرینڈ کیا ہوگا؟

ان سب باتوں کا احاطہ ایک کتاب کسی صورت نہیں کرسکتی

لہذا ایسی کتاب لکھنا اور بیچنا، لوگوں کے پیسے برباد کرنے کے مترادف ہے

تو اگر ہم ان پلیٹ فارمز پر بزنس بلڈ کرنا چاہ رہے ہیں تو کیا کریں؟

اگلے ورلڈ کپ میں، کئی ٹیموں کے کپتان شرکت کرنے جارہے ہیں۔ وہ کتابیں پڑھ کر جائیں؟

وہ میچ پریکٹس کریں گے، ان کا کئی سالوں کے تجربے کے بعد "کرکٹنگ سینس" ڈیویلپ ہوچکا ہے۔ وہ مخالف ٹیموں کا گہرائی سے انالسز کررہے ہیں۔ وہ ٹیلنٹڈ پلیئرز کو پک کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ جو کامیاب ترین کپتان ہیں، ان کی decision making صلاحتیں بہت مضبوط ہیں

لہذا،

ان پلیٹ فارمز پر، کامیاب بزنس رن کرنے کے لیے بھی آپ کو یہی سب کچھ کرنا ہے

آپ کو بزنس سینس ڈیویلپ کرنا ہے، تجربہ حاصل کرنا ہے، فیلڈ اور مارکیٹ نالج بڑھانی ہے، غلطیوں سے سیکھنا ہے، خود کو روز بہتر کرنا ہے، فیصلہ لینے کی قوت کو مضبوط کرنا ہے، روزانہ کی بنیاد پر، competitor انالسز کرنا ہے۔ اپنے کسٹمرز کی پسند ناپسند اور ان کی نفسیات کو گہرائی سے سمجھنا ہے۔ ٹیم بلڈ کرنی ہے، قابل لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنا ہے

اور سب سے بڑھ کر،

مسلسل consistent رہنا ہے۔ وقتی ناکامی سے گھبرانا یا دلبرداشتہ نہیں ہوجانا۔ ذہنی طور پر مضبوط رہنا ہے

شب و روز کی یہی محنت انسان کو کامیاب کرتی ہے!!!!

میری یہی کوشش رہتی ہے کہ آپ کو حقیقتاً ایجوکیٹ کیا جائے، آپ کا آئی کیو لیول بڑھایا جائے، کامن سینس شارپ کیا جائے۔ جب آپ کی بنیاد پکی ہوجائے گی تو آپ ایسی کسی جھوٹی مارکیٹنگ سے بیوقوف نہیں بنیں گے۔

زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے، اصل اور حقیقی راستے کا پتا ہونا بہت ضروری ہے

اس حوالے سے میری بھرپور کوشش رہے گی کہ کوئی بڑا اور impactful کام کیا جائے۔ اسی اہم مقصد کی وجہ سے میں ویڈیو کانٹینٹ کی طرف جارہا ہوں جہاں آپ کو کوئی کتاب بیچے بناء، فری میں ایسے ایجوکیٹ کیا جائے گا، کہ پھر آپ کو کسی اور ریسورس کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post