سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

بالاکوٹ کے صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ سے درخواست


ویسے تو بالاکوٹ پاکستان کے بنیادی ٹاپ سیاحتی مقامات میں اہم مقام رکھتا ہے، جہاں کاغان،ناران،شوگران جیسی حسین وادیاں وزٹر کو اپنے عشق میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ جو اک بار یہاں کا وزٹ کرتا ہے اس کی حسرت یہی رہتی ہے کہ باربار قدرت کے ان حسین نظاروں کا دیدار کرتا رہے۔

لیکن بدقسمتی سے اس علاقے کو ایسی مخلص سیاسی قیادت نہیں مل سکی جو علاقے کی فلاح و بہبود، سیاحوں کے مسائل کے حل اور سیاحت کے مزید فروغ کے لیے کام کر کے علاقے کی خوشحالی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کر سکے۔

بالاکوٹ سے چار موروثی سیاسی خاندان نہ صرف سیاست میں حصہ لیتے رہے ہیں بلکہ ہر دور میں کوئی نہ کوئی خاندان حکومت کا حصہ بھی رہا ہے، کوئی وفاقی وزیر کی صورت میں کوئی مشیر، اور کوئی مشیرخاص، لیکن عوامی امنگوں پر تمام تر خاندان پورے نہیں اتر سکے۔

یہی وجہ ہے، ہمارے ہاں آج کے اس جدید دور میں بھی فقط پانی، ہسپتال، سکول اور راستوں کی کشادگی اور پختگی جیسی بنیادی ضروریات کے فقدان کا رونا رویا جا رہا ہے۔

مجھ سمیت بالاکوٹ کی اکثریت عوام بالخصوص ینگ جنریشن سابقہ نمائندگان کی ناقص کارکردگی، قومیت و لسانیت اور مذہبی تقسیم کے طریقہ کار پر سیاست سے بیزار ہو چکی ہے۔

 بالاکوٹ کی تاریک سیاسی تاریخ کو ہم بدلنا چاہتے ہیں۔
عزت و احترام اپنی جگہ.....ہم سوال کرنا چاہتے ہیں۔
برسوں کی بےلوث محبت اور غیرمشروط حمایتیں اپنی جگہ!
اب ہم اپنا حق مانگنا چاہتے ہیں۔
تم ہمیں ناسمجھ نابالغ کہو یا کچھ اور نام دو
ہم کمپرومائز ہونے کو تیار نہیں
ہماری مائیں بہنیں سروں پہ مٹکے اٹھا کر دور دراز چشموں سے پانی لائیں
اور ہم موروثی سیاسی خاندانوں کے نعرے لگائیں! اب غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی
ہمارے تڑپتے مریض زندگی اور موت کی کشمکش میں ڈاکٹر کے چہرے پر نظریں جمائے پڑے ہوں، مریض کے ورثاء کے پاس واپس جانے کا کرایہ بھی نہ ہو، اور ڈاکٹر صاحب کہہ دیں، سوری/ مریض کو فوری ایبٹ آباد لے جائیں۔
اس درد اس بے بسی، اس لاچاری کو ہم محسوس نہ کریں اور چار سیاسی خاندانوں کے نعرے لگائیں، اب اتنی ہمت نہیں رہی صاحب

آخر ہمارا بھی دل ہے، ہمیں بھی درد محسوس ہوتا ہے، ہمارے نوجوانوں اور بچے بچیوں کی بھی کچھ خواہشات ہیں، کچھ خواب ہیں، کچھ تمنائیں ہیں، سپنے ٹوٹنے کا درد شاید زندگی میں کبھی آپ نے بھی محسوس کیا ہو۔

قسم بخدا جب بالاکوٹ سے ڈاکٹر ہمیں اک پرچی پر لکھ کر دیتا ہے مریض کو فوراً ایبٹ آباد پہنچائیں، راستے بھر میں مریض کی کیفیت دیکھ کر اس سے بڑے مریض ہم بن جاتے ہیں، ہمارے کلیجے پھٹ کر منہ کو آ رہے ہوتے ہیں، اک طرف ہم سوچتے ہیں ناجانے ہمارے عزیز مریض کا کیا بنے گا، تو دوسری طرف دماغ میں چل رہا ہوتا ہے، فلاں پڑوسی سے تو صبح بمشکل 5ہزار قرض پکڑ کر آیا تھا، جو 3ہزار بالاکوٹ اک پرچی کے لیے لگ گے اور باقی دو ہزار ایبٹ آباد ٹیکسی کرائے پہ لگ جائیں گے، وہاں ٹیسٹوں کے پیسے کون ادھار دے گا؟

صاحب آپ کچھ بھی سمجھیں ہم باغی نہیں ہم مجبور ہیں
ہمارے درد ایسے ہیں جو شاید صرف ہم اور ہم جیسے ہی محسوس کر سکتے ہیں۔

بالاکوٹ کے کے تمام صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ سے آج گزارش کر رہا ہوں، آپ کا جس سیاسی نمائندے شخصیت سے جتنا تعلق ہے اسے آپ برقرار رکھیں۔
آپ ان کی دعوتیں بھی قبول کریں، آپ ان کے ساتھ ہزار بار تصویریں بھی بنا کر اپلوڈ کریں، وہ آپ کا اپنا ذاتی تعلق اور آپ کا اخلاقی فرض ہے، مگر ایک کام ہمارا بھی کر دیں۔

کاغذ قلم اٹھائیں، مائیک کیمرہ اٹھائیں اور سابقہ ہر سیاسی راہنما بالخصوص جو حکومتوں کا حصہ رہے ان کے پاس جائیں، ان کو بتائیں ہمیں آپ کے حلقے کے عوام نے اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے، آپ کے حلقے کے لوگ سوال کرنا چاہتے ہیں، آپ کے حلقے کے لوگ کچھ جاننا چاہتے ہیں۔

آپ ان سے عوام کی طرف سے ماضی کی کارکردگی سے متعلق پوچھیں
ان کے وعدوں کی تکمیل نہ ہونے کا سبب پوچھیں
ان کا آئندہ کا لائحہ عمل عوام کے سامنے رکھیں

اس وقت جو نئے لوگ الیکشن لڑنے اور بالاکوٹ کی قیادت سنبھالنے کو تیار ہیں، ان کے پاس جائیں، ان سے وجہ پوچھیں آپ کیوں سیاست میں آنا چاہتے ہیں؟آپ کے پاس بالاکوٹ کے عوام کی بنیادی سہولیات کی مکمل فراہمی کا فارمولا کیا ہے؟
آپ کی تعلیم کیا ہے، آپ کا ذریعہ معاش کیا ہے؟
آپ اپنا مکمل ایجنڈا پیش کریں تاکہ عوام آپ کی CV چیک کرے اور آپ کی سلیکشن کرے۔
جب لوگ سابقہ اور نئے امیدواروں کا منشور ایجنڈا پڑھیں گے، سنیں گے تو وہ خود فیصلہ کریں گے ہمارے لیے زیادہ بہتر کون ہے؟ 

سید، سواتی، گجر ، مذہبی، سیکولر یہ کہانیاں اب پرانی ہو چکی ہیں، بالاکوٹ کی ینگ جنریشن بغیر کسی تقسیم کے مخلص قیادت کی ضرورت محسوس کر رہی ہے، ہم سب انسان ہیں، بس اتنا ہی کافی ہے، اور ہمیں اپنی نمائندگی کے لیے بھی کسی سید، سواتی،گجر کی ضرورت نہیں، اگر وہ انسان ہے، انسانیت کا احساس رکھتا ہے تو ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے، ہم اسے دل و جان سے قبول کریں گے۔

بالاکوٹ کی صحافی برادری پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوامی فلاح کی راہ میں بننے والی رکاوٹ کو ہٹانے میں عوام کا ساتھ دے۔

یاد رکھنا ہماری آج کی سستی، ذاتی مفادات کو مجموعی مفادات پر ترجیح دینا، ذاتی تعلقات کو بچانے کے لیے حق گوئی سے گریزاں ہونا پورے علاقے کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے، اور کل کو ہماری ہی نسلیں ہماری قبروں پر کھڑے ہو کر ہم پر تھو کریں گی، کہ چاپلوسو کچھ کر جاتے تو آج ہمارا یہ حال نہ ہوتا۔

ازقلم: محمداشرف

Post a Comment

Previous Post Next Post