سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

سیاحت کے شوقین بالخصوص فی میل یہ چیزیں یاد رکھیں ورنہ....


اکثریتی لوگ سیاحت کے لیئے ہر سال نکلتے ہیں۔ فیملی کے ساتھ نکلتے ہیں۔ میں جو لکھنے جا رہی ہوں یہ ان کے لیئے نہیں ہے۔ وہ یہ آرٹیکل یہیں پڑھنا چھوڑ دیں۔ یہ آرٹیکل ان لوگوں کے لیئے ہے جو کبھی نہیں نکلے (میری اپنی فیملی ان میں شامل ہے) میں یہ پوسٹ ان فیملیز کے لیئے کر رہی جو نکلنا چاہتے ہیں لیکن ان کو معلوم نہیں کہ ٹور کیسے پلان کریں اور اس چکر میں اکثر وہ غلط ٹور پلان کر کے واپسی پر فرسٹریشن اور غصہ لیکر آتے ہیں۔
کل مجھے ایک خاتون نے میسج کیا کہ آپ کی تصویریں دیکھ کر میرا بھی دل کر رہا ہے۔ آپ جس کمپنی کے ساتھ گئی ہیں ان کا نمبر دے دیں۔ اس لیئے میں نے رات کو میسج کیا تھا کہ تصویریں دیکھ کر اٹھ نہیں پڑنا۔ اکیلے بندے کے الگ معاملات ہوتے ہیں۔ فیملیز کو الگ حساب سے چلنا ہوتا ہے۔ اکیلے لوگ جو مرضی کریں لیکن فیملیز یہ چند چیزیں لازمی پڑھ لیں۔
1. اگر آپ نے مری نتھیا گلی تک سفر کیا ہے تو یہ کوئی مشکل سفر نہیں ہے۔ سڑکیں کارپٹڈ ہیں۔ کھائیاں اور پتھریلے راستے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گلیشیر شاید ہی ہوں۔ یہاں پر ڈرائیو کرنا آسان ہے۔ مری نتھیا گلی کے بعد اگلی آسان ٹریول ڈیسٹینیشن ناران سمجھی جاتی ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔
2. جو لوگ ناران جا رہے ہوتے ہیں، وہ عموما multiple travel destination چن کر جا رہے ہوتے ہیں۔ جو لوگ روٹین میں جاتے ہیں وہ ضرور جائیں۔ لیکن نئے نئے سیاح ایسا نہ کریں۔
3. ٹریول کمپنیز ناران تک کا جو ٹور ریگولر دیتی ہیں، پہلی بار فیملیز یا بچوں کے ساتھ سفر کرنے والے وہ پیکج نہ لیں۔ بلکہ ان سے کسٹمائز پیکج لے لیں۔ فرق چند ہزار کا پڑے گا لیکن آپ کو آسانی رہے گی۔
4. پہلی بار سفر کرنے والے یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہاں اندھا دھند سفر ہے۔ لاہور سے بابوسر ٹاپ تک کا سفر 12 گھنٹے کا اور قریب 700 کلومیٹر سنگل سائیڈ کا ہے۔ جس میں سے قریب ڈیڑھ سو کلومیٹر بہت مشکل ٹریول ہے اس لیئے یہ سوچ کر نکلیں کہ کیا آپ اتنے دیر سفر میں اور دشوار سفر میں گزار سکتے ہیں۔
5. آپ کے ساتھ بچے یا بزرگ ہیں تو آپ نے یہ مقامات بالکل نہیں دیکھنے جانے:
1. سری پائے
2. سیف الملوک
3. آنسو جھیل
4. دودی پت سر جھیل
5. لالہ زار ٹریک، ناران
نئے جانے والوں اور جن کے ساتھ چھوٹے بچے ہیں ان کے لیئے بہتر ٹریول پلان یہ ہے:
1. سندھ سے آنے والے اپنا پہلا اسٹاپ اسلام آباد لیں۔ وہاں ایک رات رہ کر خود کو فریش کریں۔ اس کے بعد اگلے دن شوگران جائیں۔ اسلام آباد یا لاہور سے جانے والے پہلے ٹور میں اپنی منزل شوگران کو رکھیں۔ شوگران پر ہوٹل میں قیام کریں۔ بچوں اور بڑوں کو شوگران میں ڈراپ کریں۔ ویسے تو شوگران کو تعمیرات کر کر کے برباد کر دیا گیا ہے لیکن بڑوں اور بچوں کے لیئے یہ جگہ ٹھیک ہے۔ یہاں ہوٹلز کے لان میں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیکر اچھا دن گزر سکتا ہے۔ شوگران تک اپنی گاڑی میں جایا جا سکتا ہے یا جیپ لی جا سکتی ہے۔
2. جیپ لینے کے لیئے کیوائی میں گاڑی کھڑی کی جاتی ہے اور وہاں سے جیپ لیکر شوگران جایا جاتا ہے۔ کیوائی سے شوگران پانچ کلومیٹر کا راستہ ہے۔ کچھ ایزی ہے کچھ کچا پکا ہے۔ لیکن ٹریک کے ایک طرف جنگل کی کھائیاں ہیں۔ نئے لوگ پریشان ہو سکتے ہیں۔ کیوائی میں آبشار ہے جس پر کیفے بنا بنا کے آبشار کا حسن مار دیا ہوا ہے۔ پھر بھی ٹھنڈے پانی میں پاؤں لٹکا ہے بیٹھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیئے آپ کو ان کیفے سے کچھ خریدنا ہو گا۔ چائے کے علاؤہ کچھ نہ لیں۔ یہ بہت مہنگے ہیں۔ آپ کا سفر کا بجٹ خراب ہو سکتا ہے۔
3. فیملیز میں جو ینگ بچے بچیاں ہیں اگر وہ ڈرپوک نہیں ہیں اور چڑھائیاں چڑھ سکتے ہیں تو سری پائے جائیں۔ سر پائے شوگران سے پانچ کلومیٹر اوپر ہے۔ شوگران سے چار کلومیٹر پر سری کا مقام آئے گا۔ اس کی پہچان یہ ہو گی کہ نیچے آپ کو چاول اور آلو کاشت ہوئے نظر آئیں گے۔ سری سے تقریبا ایک کلومیٹر اوپر جائیں گے تو پائے کا مقام آئے گا۔
4. سری پائے جانے کے لیئے صرف جیپ کی آپشن ہے۔ اس کا راستہ حقیقتا ایسا ہے کہ جیسے موت کے کنویں میں موٹر سائیکل چلانا۔ اس ٹریک کی ایک ویڈیو بھی ساتھ ہے۔ لیکن اگر میں سمجھا سکوں تو کہانی یہ ہے کہ سڑک نہیں ہے۔ مٹی پھسلنے والے ہے۔ ایک طرف کھائیاں ہیں۔ اکثر جگہوں پر اتنا راستہ بھی نہیں کہ جیپ کراس کر سکیں ایک دوسرے کو۔ جھٹکے اتنے لگیں گے کہ انجر پنجر ہل جائے گا۔ بارش ہو جائے تو مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ کمزور دل والے لوگ تو سوچیں بھی نہیں۔
5. آپ نے جوگرز، اسنیکرز کے علاؤہ کوئی اور جوتا نہ پہنا ہو۔ بیک پیک ساتھ ہو جس میں پانی اور چپل لازمی ہو۔
6. جیپ ٹریک کر کے جب آپ اوپر پہنچیں گے تو پہلے آپ مجھے گالیاں دیں گے کہ جہاں اتنا کچھ بتایا تھا یہ بھی بتا دیتی کہ اوپر دیکھنے کو کچھ نہیں ہے۔ کیونکہ جب آپ کو جیپ اتارے گی تو آپ کو گندے کھوکھے نظر آئیں گے۔ اجڑا ہوا میدان نظر آئے گا۔ لیکن آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔ آپ نے سب کچھ اگنور کر کے اوپر چڑھنا شروع کرنا ہے پیدل۔ دھیان سے، اپنے قدم دیکھ کر، جما کر اوپر چڑھنا شروع کر دیں۔ وہاں آپ کو جو نظر آئے گا اس کی جھلکیاں تصویروں میں دے رہی ہوں۔
7. سری پائے پر پہلی بار جانے والے آرام سے تین چار گھنٹے گزارے سکتے ہیں۔ تقریبا گھنٹہ اوپر جانے میں اور اتنا ہی کم و بیش نیچے آنے میں لگتا ہے۔ اس میں تھکن بہت ہو جاتی ہے۔
8. واپس شوگران ا کے ہوٹل میں اسٹے کریں۔ رات گزاریں۔ گھومیں پھریں۔ کیوائی تک جائیں۔ یا شوگران کے ہوٹل کے لان میں بیٹھ کر موسم انجوائے کریں یہ آپ کی مرضی ہے۔
9. اگر تو آپ نے شارٹ ٹور پلان کیا ہے مطلب ویک اینڈ کے دو دن کا، تو جمعے کی رات نکل کر ہفتے کے دن کی ایکٹیویٹی یہاں ختم۔ اتوار کو قریبی علاقوں میں آبشاریں ڈھونڈیں۔ تصویریں بنائیں اور ٹور ختم کر کے واپس آ جائیں۔
10. اپنی گاڑی پر جا رہے ہیں تو چائے بنانے کا سامان، ڈبل روٹی، جام، مکھن، بسکٹس اور انیس لیٹر والا پانی کا گیلن ساتھ رکھ لیں۔
جو دو دن سے زیادہ کا پلان بنائیں، ان کے لیئے اگلی پوسٹ کروں گی۔ فی الحال اتنا ہی۔
نوٹ: وال پر آگے روٹین والی سیاسی پوسٹس ہی ہوں گی، تاہم ٹریول پلان کے حوالے سے ایک شارٹ سیریز مکمل کرنے کی کوشش ضرور کروں گی۔

Post a Comment

Previous Post Next Post