اسلام کی خوبصورتی...عقیدہ توحید ہے
آجکل ہمارے ہاں دنیاوی معاملات میں جس طرح کئی ہندوانا رسومات کو فالو کیا جا رہا ہے اسی طرح مذہبی معاملات یہاں تک کہ عبادت میں بھی کہیں نہ کہیں ملاوٹ ہو چکی ہے۔
بنسبت دوسرے مذاہب کے اسلام زیادہ پاکیزہ، عدل و انصاف پہ مبنی دین ہے۔
اسلام نے ہر معاملے میں ایک حد مقرر کر رکھی ہے وہاں سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔
بنیادی طور پر اسلام کے داخلے کی جو شرائط ہیں
اللہ کو اکیلے معبود ماننا اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرانا
اللہ کے ملائکہ یعنی فرشتوں، تمام آسمانی کتابوں، تمام رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لانا، محمدﷺ کو آخری رسول ماننا۔
دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد چار مزید لازم رکن ملتے ہیں، جن میں نماز، روزہ، ذکواۃ اور حج ہیں۔
ذکواۃ اور حج صاحب استطاعت پر لازم ہیں، جبکہ روزے اور نماز کے لیے غریب امیر کی کوئی شرط نہیں، ہاں بیماری سفر میں جو آسانیاں دی گئی ہیں وہ الگ موضوع اور اسلام کے آسان ہونے کی دلیل ہے۔
روزے سال میں ایک بار آتے ہیں، جبکہ نماز دن میں 5 بار
اور اس نماز کو ہر خاص و عام ادا بھی کرتا ہے، اسکے قیام رکوع سجدہ اور التحیات میں پڑھنے کے لیے کچھ خاص کلمات سکھائے گے ہیں۔
ویسے تو نماز کو آپﷺ نے مومن کی معراج اور اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے، لیکن اس کا طریقہ کار اور اس میں پڑھے جانے والے کلمات توحید سے انسان کو جوڑنے کا بہترین ذریعہ ہیں، شاید اسی لیے نماز کو مومن کی معراج یعنی اللہ سے ملاقات قرار دیا گیا ہے۔
نماز میں ہم جو پڑھتے ہیں وہ عربی عبارتیں ہوتی ہیں، ضروری یہ ہے کہ ہم انہیں اپنی زبان میں ٹرانسلیشن کر کے بھی سیکھ لیں تاکہ ہمیں پتہ تو ہو ہم کیا کہہ رہے ہیں۔
نماز میں ابتدائی طور پر نیت کے بعد ہم اللہ کی شان بیان کرتے ہیں
پھر جب سورۃ فاتحہ کا آغاز کرتے ہیں تو ابتداء میں اللہ کی شان اور پھر اللہ سے کچھ وعدے کرتے ہیں، ان وعدوں کا واسطہ دے کر ہم سیدھے راستے پر چلنے کی دعا مانگتے ہیں، اور پھر خود اپنی دعا کی تشریح بھی کرتے ہیں کہ یا اللہ مجھے اس نیک راستے پر چلانا جن پر تیرے انعام یافتہ نیک صالح بندے تھے۔
ساتھ ہی مزید کہتے ہیں ان لوگوں کے راستے پر مت چلانا جن پر تیرا غضب ہوا
درمیان میں جو اک دعوی کرتے ہیں کہ یا اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تجھ سے ہی مدد طلب کرتے ہیں، اس پہ ہم عملی زندگی میں کتنا پورا اترتے ہیں یہ سوچنے کے لائق ہے۔
اب رکوع سجدہ کے بعد جب التحیات میں بیٹھ جاتے ہیں تو اک بار پھر تین چیزوں کا عہد کرتے ہیں۔
کہ یا اللہ میری تمام قولی، فعلی اور مالی عبادتیں صرف تیرے ہی کے لیے ہیں
کیا مطلب؟
قولی: میں زبان سے جو بھی کہوں گا، اس میں تیرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤں گا، اسباب سے ہٹ کر مدد تیرے علاوہ کسی سے نہیں طلب کرونگا۔
فعلی: میرا بدن ہر حال میں تیری ہی عبادت کرے گا، میرا سر کسی پیر کے قدموں میں، کسی مزار کے سامنے نہیں جھکے گا، میری پیشانی تیرے سوا کسی کے سامنے سجدہ ریز نہ ہو گی، وغیرہ وغیرہ۔
مالی: میں اپنے مال سے جو صدقات و خیرات کرونگا وہ صرف تیرے نام پہ کروں گا، تیرے غیر کے نام پہ بالکل بھی نہیں کرونگا۔
پس منظر دیکھیں ذرا
نماز مومن کی معراج ہے نا
سمجھو میری اللہ سے ملاقات ہوئی
میں نے اللہ کی شان بیان کی
اللہ سے وعدہ کیا، تجھے ہی معبود تجھے ہی مددگار مانتا ہوں
میں نے کہا، یا اللہ اک عرض ہے مجھے سیدھے راستے پہ چلا دے
اللہ نے مان لی
میں نے کہا! اپنے نیک لوگوں کے ساتھ انکے راستے پر، جیسا کہ انبیاءاکرام، صحابہؓ صالحین، اللہ نے مان لی
میں نے کہا یا اللہ ان لوگوں کی راہ پر تو مت چلانا جن پر تو غصے ہوا
اللہ نے مان لی
میں خوش ہوا
اللہ کے سامنے رکوع کیا، دو سجدے کیئے
دو زانوں ہو کر بیٹھ گیا
میں نے کہا یا اللہ
میری زبان، میرے جسم، میرے مال سے میں صرف تیری عبادت کرونگا، تیرے سوا کسی اور کی نہیں کرونگا۔
درود پڑھا دعا کی سلام پھیرا، ملاقات ختم، مگر وعدے برقرار
اب اگر میں باہر آ کر پیر صاحب سے مدد مانگوں، قبر مزار کو سجدہ کروں، غیراللہ کے نام پر نیاز دوں تو مجھ جیسا جھوٹا بھلے کون ہو گا؟
پھر یقیناً میرا حشر ان لوگوں کے ساتھ ہو گا، جن پر اللہ نے غضب کیا
انسان اگر کسی سیاستدان کسی وڈیرے کو بھی زبان دے تو اسے فکر ہوتی ہے، یار میں نے وعدہ کیا ہے بھلے کیسے وعدہ خلافی کر سکتا ہوں۔
اور دوسری جانب بادشاہوں کے بادشاہ سے مل کر سامنے بیٹھ کر وعدے بھی کرے دعائیں بھی کرے اور وہاں سے اٹھ کر پھر سیدھا اللہ کے ساتھ شرک کرے، اس سے بڑا وعدہ خلاف اور بدبخت کون ہو سکتا ہے۔
آج تو انٹرنیٹ پر ہر چیز کی سہولت موجود ہے، نماز کے اسباق کی دو تین عبارتیں بھی ترجمے کے ساتھ یاد کرنا شروع کر دیں، ایک دو ہفتوں میں مکمل یاد کر لینگے۔
اسی طرح قرآن مجید اپنے مسلک کے علماءاکرام کے ترجمے پڑھیں Islam360ایپ ڈاؤنلوڈ کریں، ترجمہ تفسیر احادیث ترجمے کے ساتھ پڑھیں تاکہ توحید سمجھ آئے۔
میرا مقصد کسی مخصوص طبقے کو ہٹ کرنا نہیں لیکن بحثیت مسلمان بہت شرمندگی ہوتی ہے جب ہم دین کے نام پر، اسلام سے عقیدت کے نام پر مزاروں درباروں پر ہندوانہ طرز کی سرگرمیاں دیکھتے ہیں۔
بقلم: ایم اشرف
