بیسویں صدی کے پہلے عشرے کی بات ہے، اپنے کزن کے ساتھ سری پائے گیا جہاں ان کی گرمیوں کی عارضی رہائشگاہ ہے، تین دنوں بعد وہاں سے تایا جان جو کہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں اللہ ان کی مغفرت فرمائے، انکے ساتھ واپسی کا سفر شروع کیا
تایا جان دم درود بھی کیا کرتے تھے، اسپیشلی جن لوگوں کے مال مویشی بیمار ہوتے وہ دم کروایا کرتے، اس بار تایا جان کا روٹ تھا شوگران سے پیدل کیوائی،چونکہ اس درمیان میں کافی لوگ آباد ہیں جو مال مویشیوں کے لیے دم کرواتے تھے تو ان کے بلانے پر تایا جان نے اس راستے کا انتخاب کیا، سری سے ہم صبح سویرے ہی نکل گے تھے، تاہم راستے میں رکتے اٹھتے بیٹھتے جمعے کی نماز کے وقت کیوائی پہنچے۔
وہاں وضو کرنے کے بعد مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے تو تایا جان کہنے لگے یہاں رشید میاں خطیب ہیں، میں نے کہا اچھا، اور دل میں سوچا جو بھی خطیب ہوں مجھے اس سے کیا، خیر مسجد میں گے سنتیں پڑھیں، بیٹھ گے
کچھ ٹائم بعد خطیب صاحب منبر پر تشریف لائے تو ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، ارے یہ تو اپنے قاری عبدالرشید چچا ہیں، تب ہماری عقل کے دروازے کھلے کہ تایا جان جس رشید میاں کی بات کر رہے تھے وہ تو یہی ہیں۔
خطیب صاحب ہمارے والد کے خالہ زاد بھائی ہیں اس لیے وہ کبھی کبھار ہمارے ہاں آیا کرتے تو ہمیں ان کی پہچان کافی اچھے سے تھی، لیکن بچپنے کی وجہ سے یہ نہیں معلوم تھا کہ حضرت کرتے کیا ہے پڑھاتے کہاں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
بحرحال ہم بھی نظر جمائے بیٹھے تھے کہ خطیب صاحب نے بیان کا آغاز عربی خطبے سے کیا، ابتدائی جملے سنتے ہی حیران ہو گے،، ارے اتنی خوبصورت آواز
خطیب صاحب کی شیرینی آواز بدستور اپنی طرف کھینچے جا رہی تھی، بیان مکمل ہوا نماز ہوئی ہم تایا جان کے کےساتھ واپس آ گے
خطیب صاحب کی آواز سننے ان کے پیچھے جمعہ پڑھنے کی خواہش تو دل میں تھی لیکن اسباب ممکن نہ تھے۔
اگلے سال ہم اپنے علاقے کی جامع مسجدمیں قاری حفیظ صاحب سے پڑھ رہے تھے کہ رمضان آ گیا، قاری نے خود ہی نماز تراویح میں قرآن سنانے کا فیصلہ کیا، اکیس رمضان کی شب کو تقریب ختم القرآن کا پروگرام بنایا گیا، اس وقت ہماری مسجد کے خطیب علامہ محمد اقبال ندیم صاحب تھے، آواز کا جادو وہ بھی خوب جگاتے تھے اور اپنا بیان سننے والے کی کھوپڑی میں اتارنے کا بھرپور ہنر جانتے تھے۔
ختم القرآن کی تقریب کے مہمان خصوصی مولانا میاں عبدالرشید صاحب تھے
بالآخر وہ لمحہ بھی آ ہی گیا جس کا ہمیں شدت سے انتظار تھا، خطیب کیوائی منبر پر تشریف فرما ہوئے اور اپنی شیرینی آواز سے حاضرین کے ایمان کو گرمانے لگے۔
یہ بھی یاد رہے مولانا عبدالرشید صاحب خطیب کیوائی کی تقریر کا حصہ ذکر لازم ہیں، جو خطیب صاحب کو اسپیشل سننے کے لیے بیتاب رہتے ہیں، اگر خطیب صاحب اپنی تقریر میں ذکر نہ کریں تو حاضرین کو لگتا ہے کوئی خاص تقریر نہیں کی۔
اللہ کی وحدنیت کے ترانے جب خوبصورت آواز میں سنائے جائیں تو لوگوں پر اثر ہونا تو بنتا ہی ہے۔ بحرحال اس تقریب کو بھی خطیب صاحب کی وجہ سے چار چاند لگے اور عید کے غالباً دوسرے یا تیسرے روز جمعہ تھا، اس جمعے میں میاں عبدالرشید صاحب نہ جانے کس وجہ سے کیوائی کے بجائے کھولیاں میں موجود تھے تو اقبال ندیم صاحب نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے پھر انہیں منبر پر بٹھا دیا، اسے کہتے ہیں سونے پہ سہاگہ ہم ایک بار سننے کو ترس رہے تھے سنانے والے نے بیک ٹو بیک دو بار سنا دیا۔
اب خطیب صاحب کو سننے کا کچھ نشہ سا ہوگیا تھا شاید
اس وقت موبائیل فون دستیاب نہیں تھے اور آواز ریکارڈ کرنے کے لیے ٹیپ ریکارڈر لازم تھا، اب ہم نے کیوائی جانے اور واپس آنے کا کرایہ جمع کرنا شروع کر دیا، اس وقت ایک طرف کا کرایہ دس روپے تھا، اور بس والے کو 5دے کر اوپر سے منتیں ترلے کر کے کہ اور نہیں ہیں نظام چلایا جا سکتا تھا مگر اس سے بےعزتی کا خدشہ بھی تھا، لہذا کرایہ پورا جوڑنے کی کوشش کی۔
ہمارے دوسرے تایا سعودیہ میں تھے اور انکا صاحبزادہ جو ہم سے تھوڑا بڑا تھا مگر پڑھتے ایک ساتھ تھے، ہم نے اپنا پلان جب اسے بتایا تو اس نے کہا ٹیپ ریکارڈر تو میرے پاس ہے چلتے ہیں پھر۔
ہم نے دو کیسٹیں تین جوڑی پن سل جو ٹیپ ریکارڈر میں کرنٹ کے لیے درکار ہوتے ہیں بندوبست کیا اور اک جمعے کو نکل گے کیوائی کے لیے، ٹیپ ریکارڈر میرے کزن کا تھا لہذا اسے کہا کہ اسے تم نے اپنے پاس ہی رکھنا ہے دھیان سے اگر سیل کمزور پڑ جائیں تو فوری بدل لینے ہیں۔
جب کیوائی مسجد میں پہنچے تو پہلی خوش قسمتی یہ تھی اس اس دن خطیب صاحب بذات خود موجود تھے جمعہ انہوں نے ہی پڑھانا تھا۔
دوسری خوش قسمتی یہ تھی کہ اس دن خطیب صاحب نے جو تقریر کی وہ پہلے والی ہماری سنی گئی تقریروں سے بہت زیادہ مزےدار تھی۔
نماز جمعہ کے بعد جب مسجد سے باہر مسجد کے احاطے میں نکلے، تو میں نے کزن سے ٹیپ لے کر پلے کیا سوائے شو شو شو شور کے کچھ سنائی نہ دیا، کیسٹ الٹی کر کے ڈالی پھر بھی وہی حساب، یہ مسجد زلزلے سے پہلے والی تھی جو پیچھے گھروں کے بالکل ساتھ تھی، باہر موجود احاطے میں کسی ہارے ہوئے سپاہی کی طرح منہ لٹکا کر بیٹھ گے..
ٹیپ کزن کو دیا کہ چیک کر شاید تجھ سے چل جائے مگر نہیں، کیسٹ میں بیان کا ایک لفظ تک ریکارڈ نہ ہوا، میرا کزن مایوس چہرے سے بار بار ٹیپ ریکارڈر کو دیکھے جا رہا تھا پھر اچانک بولا!!! او یار میں سمجھ گیا
بہت بڑی مسٹیک ہو گئی،
میں نے کہا اچھا وہ کیا؟
کہنے لگا ریکارڈنگ کے وقت والیم بٹن کو فل بند کرنا تھا، جو کھلا رہ گیا جس کی وجہ سے ریکارڈنگ نہ ہو سکی۔
جس مقصد کے لیے ہم نے کئی دن تک تیاری کی، بڑی مشکل سے کرائے اور سلوں کے پیسے جمع کر کے پہنچے ٹیپ ریکارڈر کے ایک والیم بٹن نے ہمارے پلان کی جئی تئی پھیر دی۔
ماتم کی سی کیفیت بن گئی
اس وقت جو دکھ اور صدمہ ہم نے برداشت کیا، وہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔
اس کے بعد کئی دنوں تک ہم نے اس درد کو شدت سے برداشت کیا۔
خیر: اس وقت کیوائی جا کر خطیب صاحب کو سننے کی تمنا تو تھی وسائل نہ تھے، اور آج وسائل بھی ہیں، ریکارڈنگ کے لیے بہترین ذرائع بھی ہیں، کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے آواز ریکارڈ نہ ہونے یا خراب ہونے کی صورت میں متبادل کے طور پر بیک اپ ڈیٹا ریکارڈر کی سہولیات بھی ہیں۔ لیکن اب ٹائم نکالنا کافی مشکل ہے۔
آخری بار 2021میں خطیب کیوائی کے پیچھے نماز عیدالفطر کی ادائیگی کی تھی، اور پھر گزشتہ رمضان المبارک میں باڑی مسجد میں ختم قرآن کی تقریب میں سننے اور ریکارڈ کرنے کا بھرپور موقع میسر آیا۔
آج بھی جو ٹوریسٹ شوگران، کاغان، ناران کے وزٹ پر جاتے ہیں اگر جمعہ قریب ہو تو کوشش کریں کیوائی کی مرکزی جامع مسجد میں جمعہ ادا کریں انشاءاللہ ایمان تازہ ہو گا۔
دعا ہے رب تعالی تادیر حضرت خطیب صاحب کا سایہ ہم پر قائم و دائم رکھے، یونہی اللہ کی وحدنیت کے نغمے خطیب صاحب کی زبانی ہمیں سننے کو ملتے رہیں۔
ازقلم:محمداشرف
👇ہمارے یوٹیوب کا وزٹ کریں

