سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

پاکستانی قوم کا تاریخی امتحان


پاکستانی قوم کا تاریخی امتحان

تمہیں کیا لگتا ہے وہ اتنی آسانی سے عمران خان کو قبول کر لینگے ہر گز نہیں۔ آج عوامی طاقت کو دیکھ کر تمام طاقتیں بیک فٹ پر چلی گئی ہیں، مگر وہ اپنا دہائیوں سے چلنے والا تسلط  برقرار رکھنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگائیں گے۔

اس لانگ مارچ کے نتیجے میں اسمبلیاں تحلیل ہونگی یہ اٹل ہے، الیکشن کی تاریخ بھی دی جائے گی، اس میں کوئی دو رائے نہیں، لیکن اصل جنگ کا آغاز پھر شروع ہو گا۔ بظاہر 90%سے زاہد عوام عمران خان کو وزارت عظمی کے منصب پر دیکھنا چاہتی ہے، اس لیے شفاف الیکشن میں عالمی اسٹیبلشمنٹ سے لے کر انکے کارندوں تک سبھی کو صاف نظر آتا ہے عمران خان انہیں مات دےگا۔
وہ کوشش کریں گے عمران خان کی ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالا جائے، عمران خان پر مذہبی جماعتوں کے ذریعے مذہب کارڈ بھی کھیلوایا جائے گا۔ عمران خان کی ہر لحاظ سےکردارکشی کی جائے گی، عمران خان کے خلاف عورت کارڈ بھی کھیلا جائے گا، عمران خان کے قریبی ساتھیوں کے ویک پوائنٹس کے ذریعے انہیں بلیک میل کر کے یا انہیں خرید کر عمران خان کے خلاف بیان دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔
پیڈ لوگ لا کر عمران خان کے خلاف بیانات دلوائے جائیں گے، مختلف اسکینڈلز کا پنڈورا کھولا جائے گا، جیسے نواز شریف نے مولانا سمیع الحق کے خلاف طوائف خانہ چلانے والی میڈم طاہرہ کو منظرعام پر لایا تھا۔
ہر حربہ استعمال ہو گا، کوئی ذرہ برابر چانس بھی مس نہیں کیا جائے گا، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام انصافین تمام پاکستان سے محبت کرنے والے، کرکٹ، انٹرٹینمنٹ، اور دیگر چیزوں کے بجائے اپنا فوکس صرف حقیقی آزادی کی تحريک  پر رکھیں۔
سوشل میڈیا پر ہر پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار رہیں، ہر خبر کی سو فیصد تصدیق کیئے بغیر مت فارورڈ کریں، الیکشن ٹکٹ جاری ہونے کے بعد تمام ذاتی رنجشوں کو بالاطاق رکھتے ہوئے ٹکٹ ہولڈر کی حمایت کریں، کمپیئن چلائیں، الیکشن والے دن اپنے ووٹ کی ہر قیمت پر حفاظت کریں، کیونکہ اینٹی عمران طاقتیں ہر قیمت پر بڑے لیول پر دھاندلی کر کے دو تہائی اکثریت سے روکنے کی کوشش کریں گے۔ 

پاکستان کی 75سال کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ عوام پاورفل ہے اور یکجا ہے، 75سال کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے عوام قوم بن کر ابھرے ہیں، آج نہ کوئی پختون ہے نا کوئی پنجابی، بلوچی،سندھی، کشمیری، گلگتی ہے بلکہ سبھی پاکستانی ہیں، سبھی اک قوم بن چکے ہیں۔ آج 75سالوں سے قوم کو یرغمال بنانے والی طاقتیں پریشان و نامراد ہو چکی ہیں، منزل بہت قریب ہے۔ ہمت نہیں ہارنا اور کسی خوشفہمی میں بھی نہیں آنا، اس تحریک میں ابھی بہت سے مراحل باقی ہیں، اگر یہ باہمی اتحاد یونہی برقرار رہا تو انشاءاللہ کامیابی سے کوئی نہیں روک سکتا۔

بس ہوشیار رہنا ہے، اور پروپیگنڈوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے، پاکستان ہمارا ہے اس کی سرحدوں، اسکے آئین و قانون، اس کی خود مختاری کی حفاظت ہم کریں گے۔ انشاءاللہ 

Post a Comment

Previous Post Next Post