"جنرل امیر عبداللہ خان نیازی"
میانوالی سے دو میل دور بلو خیل نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہیں دوسری جنگ عظیم کے دوران کمیشن ملا وہ آزادی سے پہلے وہ راجپوٹ بٹالین میں تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں انہیں بہادری پر اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’ملٹری کراس‘ بھی ملا۔
1965 کی جنگ میں انہیں پہلے ’ہلال جرات‘ اور اور پھر ’ستارہ پاکستان‘ سے نوازا گیا۔ انہیں فوج میں ٹائیگر کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مشرقی پاکستان جنرل ٹکا خان نے جب خوب قتل عام کر لیا بنگالیوں کا تو جنرل یحیٰی خان نے جنرل نیازی کو ان کی جگہ پر چارج لینے
بھیج دیا ۔
جنرل نیازی اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ ان کا تھا، بلکہ لکھتے ہیں کہ 13 اور 14 دسمبر کی درمیانی شب کو میں نے ’آخری آدمی اور آخری گولی‘ تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ دشمن کے ٹینک ڈھاکہ میں میرے سینے سے گزر کر ہی داخل ہو سکیں گے۔
وہ لکھتے ہیں، ’اکثر میرے خلاف پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یحییٰ خان نے ہتھیار ڈالنے کا نہیں کہا تھا بلکہ یہ میرا اپنا فیصلہ تھا اور اس کے لیے یحییٰ خان کےایک پیغام کا حوالہ دیا جاتا ہے جو ڈاکٹر مالک گورنر مشرقی پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا تھا جس کی عبارت یوں تھی: ’نیازی آپ
پاکستان کے سینیئر ترین فوجی افسر ہیں اور آپ ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں اور وہاں کے کمانڈر بھی، آپ میری نسبت صورت حال کو بہتر جانتے ہیں، زمینی صورتِ حال کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں، گورنر سے مشورہ کرو اور یو این والوں کو بولو کہ وہ سیز فائر کروا دیں۔ جب سیز فائر ہوتا ہے
تو کمانڈر آپس میں ملتے ہیں اور کوئی نہ کوئی سمجھوتا ہو جاتا ہے لیکن دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
مزید لکھتے ہیں کہ!
13 اور 14 دسمبر کی رات کو جو پیغام مجھ تک پہنچا وہ یوں تھا، ’آپ نے دفاع کے لیے بہترین جنگ لڑی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ ایک ایسی
سٹیج پر پہنچ چکے ہیں کہ مزید مزاحمت انسانی بس میں نہیں اور اس سے مزید جانی نقصان اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ لہٰذا اب تمہیں وہ تمام حربے اختیار کرنے چاہییں جن سے تم فوج اور اس سے ملحقہ افراد نیز پاکستان کے حامی افراد کی جان بچا سکو۔ میں نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ
مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کاتحفظ کرے اور افواج پاکستان اور تمام محب وطن پاکستانیوں کو بچانے کا اہتمام کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کو رکوائے۔
اس سے پہلے یحییٰ خان کا جو سگنل مجھے موصول ہوا وہ 29 نومبر کا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’آپ کی کامیابی کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور ساری قوم آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔‘ کیونکہ ا س سے پہلے میں نے مشرقی پاکستان پر بھارتی حملے کا ایک ہفتے تک نہ صرف کامیابی سے دفاع کیا تھا بلکہ کئی مقامات پر انہیں مار بھگایا تھا۔ اس سے پہلے بھارتی فوج کے آدمی مکتی باہنی کے نام پر لڑ رہے تھے۔
یحییٰ خان کے سگنل کے باوجود ہم نے 14 کو ہتھیار نہیں ڈالے، ہم انتظار کرتے رہے کیونکہ ہمیں اس سے پیشتر اسلام آباد سے باقاعدہ اطلاع دی گئی تھی کہ ’زرد اوپر سے اور سفید نیچے سے تمہاری امداد کر رہا ہے۔
مطلب یہ تھا کہ نیچے سمندر کے ذریعے امریکی بحری بیڑہ اور اوپر سے چین ہماری مدد کو پہنچ رہا ہے
وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ ہمارے جیالوں کو ہر طرف سے یہی جواب تھا کہ ’آخری گولی آخری آدمی‘ کے آرڈر پر عمل کرتے ہوئے وہ آخری قطرہ خون بہنے تک لڑیں گے مگر اسلام آباد خاموش تھا۔
یہاں روک دیتا ہوں داستان اتنی ہے کہ کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن مقصد آپ کو سمجھانا ہے کہ ایک طرف
وہ جنرل جس کی بہادری کی داستانیں ہیں جسے فوج میں ٹائیگر کہا جاتا تھا اور دوسری طرف وہ حرامی جنرل جو اداکاراؤں کے جسموں پر شراب ڈال کر چاٹا کرتا تھا۔ فیصلہ آپ خود کر سکتے ہیں، اور تو اور کسی مائی کے لال میں یہ جرات نہیں ہوئی کہ جنرل نیازی کا کورٹ مارشل کر سکے۔
جمہوری نظام کا قیام پاکستان کے صاحبانِ اقتدار کو منظور نہیں تھا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ قائد اعظم اور اس کے چند ساتھیوں کے علاؤہ مسلم لیگ کی بیشتر قیادت موقع پرست جاگیرداروں پر مشتمل تھی ۔
اور انہوں نے مسلم لیگ کا قافلہ تب چنا جب کانگریس نے زمینی اصلاحات کا اعلان کیا۔ ہندوستان میں رہتے تو جاگیریں ضبط ہونے کا ڈر تھا۔
جنہیں آج آپ الیکٹیبلز یا لوٹا کہتے ہیں ۔
مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی اور وہاں جاگیردارانہ نظام بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ تحریک پاکستان میں
ان کی قربانیاں بھی ناقابل فراموش ہیں۔
دوستو!
لوگ کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا مسلہء ساٹھ کی دہائی میں شروع ہوا یہ بات بلکل درست نہیں ہے یہ مسائل پہلے دن سے ہی ساتھ تھے۔
مشرقی پاکستان میں رہنے والے یا تو دیہاڑی دار تھے یا چھوٹے چھوٹے کاروبار والے یا دو دو قلعے کے زمیندار
اور یا انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور شروع سے ہی انہیں نچلی ذات کا سمجھا جاتا رہا ۔
خیر یہ مسلہء تب شروع ہوتا ہے جب!
25 فروری، 1948
مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو رکن دھریندر ناتھ دتا نے متحدہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی کارروائی میں اردو کے ساتھ بنگالی کے
استعمال کے لیے قواعد میں ترمیم کرنے کی تحریک پیش کی۔ اس کے جواب میں وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے جدوجہد برصغیر کے 10 کروڑ مسلمانوں نے کی تھی جن کی زبان ان کے بقول اردو تھی اور ایوان نے یہ تحریک مسترد کردی۔
بنگالی زبان سے متعلق ایوان میں پیش کی گئی تحریک مسترد ہونے کی خبر جب ڈھاکہ پہنچی تو اس پر شدید ردِ عمل سامنے آیا۔ اس کے بعد جب مشرقی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ خواجہ ناظم الدین نے بھی اردو کو قومی زبان بنانے کے حق میں بیان دیا تو صوبے میں احتجاج شروع ہو گیا۔
جنوری 1948 میں شیخ مجیب طلبہ تنظیم 'ایسٹ پاکستان اسٹوڈنٹ لیگ' کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ اس تنظیم نے بنگالی زبان کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
فروری کے اختتام تک قومی زبان کے معاملے پر مشرقی پاکستان میں بے چینی بڑھنے اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے باقاعدہ تحریک چلانے کے لے
ایک ایکشن کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی ۔
احتجاج کی شدت بڑھنے کے بعد وزیرِ اعلیٰ خواجہ ناظم الدین نے طلبہ کی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیے اور ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے میں بنگالی کو مشرقی بنگال میں سرکاری اور تعلیمی زبان بنانے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
اس معاہدے میں بنگالی کو ریاستی زبان بنانے کے لیے دستور ساز اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
مشرقی بنگال کی اسمبلی سے تو وعدے کے مطابق بنگالی کے حق میں قرار داد منظور کرلی گئی لیکن ایکشن کمیٹی سے ہونے والے وعدے کے مطابق مرکزی اسمبلی میں قرار داد پیش نہیں کی جاسکی ۔
31 مارچ، 1948
بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے ڈھاکہ کا دورہ کیا اور ریس کورس میدان میں خطاب کرتے ہوئے اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا۔
جس پر بہت زیادہ تنقید کی گئی ۔
محمد علی جناح کے انتقال کے بعد مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی رہنما خواجہ ناظم الدین دوسرے گورنر جنرل بنے ۔
لیاقت علی خان کے قتل کے بعد خواجہ صاحب خود وزیراعظم بن گئے اور غلام محمد کو گورنر جنرل بنا دیا اور ایک بار پھر اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو قومی زبان کا حق نہ دیا اور بیان دیا کہ اردو ہی قومی زبان ہو گی ۔
خواجہ ناظم الدین کے بیان کے خلاف مشرقی
بنگال میں ہڑتال ہوئی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ کے ایک جلوس کا پولیس سے تصادم ہوا جس میں آٹھ طلبہ ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس تصادم میں ہلاک ہونے والے طلبہ کی یاد میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں ’شہید مینار‘ تعمیر کیا گیا۔
فروری 1952سکوتِ ڈھاکہ "
آپ سب سے وعدہ کیا تھا کہ اس پر ضرور کچھ لکھوں گا لیکن پھر سوچا کہ مجیب الرحمٰن پر لکھنے سے پہلے ایک ایسے کردار کے بارے میں لکھوں جس کے متعلق جاننا شاید مجیب الرحمٰن کو جاننے سے زیادہ ضروری ہے نوجوان نسل کے لیے ۔
کیونکہ اس کردار کا تعلق مغربی پاکستان کے ساتھ ہے ۔
وہ کردار ہے!
"جنرل امیر عبداللہ خان نیازی"
میانوالی سے دو میل دور بلو خیل نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہیں دوسری جنگ عظیم کے دوران کمیشن ملا وہ آزادی سے پہلے وہ راجپوٹ بٹالین میں تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں انہیں بہادری پر اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ’ملٹری کراس‘ بھی ملا۔
1965 کی جنگ میں انہیں پہلے ’ہلال جرات‘ اور اور پھر ’ستارہ پاکستان‘ سے نوازا گیا۔ انہیں فوج میں ٹائیگر کے لقب سے پکارا جاتا تھا۔
ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مشرقی پاکستان جنرل ٹکا خان نے جب خوب قتل عام کر لیا بنگالیوں کا تو جنرل یحیٰی خان نے جنرل نیازی کو ان کی جگہ پر چارج لینے
بھیج دیا ۔
جنرل نیازی اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ ان کا تھا، بلکہ لکھتے ہیں کہ 13 اور 14 دسمبر کی درمیانی شب کو میں نے ’آخری آدمی اور آخری گولی‘ تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا اور کہا کہ دشمن کے ٹینک ڈھاکہ میں میرے سینے سے گزر کر ہی داخل ہو سکیں گے۔
وہ لکھتے ہیں، ’اکثر میرے خلاف پراپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ یحییٰ خان نے ہتھیار ڈالنے کا نہیں کہا تھا بلکہ یہ میرا اپنا فیصلہ تھا اور اس کے لیے یحییٰ خان کےایک پیغام کا حوالہ دیا جاتا ہے جو ڈاکٹر مالک گورنر مشرقی پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا تھا جس کی عبارت یوں تھی: ’نیازی آپ
پاکستان کے سینیئر ترین فوجی افسر ہیں اور آپ ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں اور وہاں کے کمانڈر بھی، آپ میری نسبت صورت حال کو بہتر جانتے ہیں، زمینی صورتِ حال کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں، گورنر سے مشورہ کرو اور یو این والوں کو بولو کہ وہ سیز فائر کروا دیں۔ جب سیز فائر ہوتا ہے
تو کمانڈر آپس میں ملتے ہیں اور کوئی نہ کوئی سمجھوتا ہو جاتا ہے لیکن دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘
مزید لکھتے ہیں کہ!
13 اور 14 دسمبر کی رات کو جو پیغام مجھ تک پہنچا وہ یوں تھا، ’آپ نے دفاع کے لیے بہترین جنگ لڑی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آپ ایک ایسی
سٹیج پر پہنچ چکے ہیں کہ مزید مزاحمت انسانی بس میں نہیں اور اس سے مزید جانی نقصان اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ لہٰذا اب تمہیں وہ تمام حربے اختیار کرنے چاہییں جن سے تم فوج اور اس سے ملحقہ افراد نیز پاکستان کے حامی افراد کی جان بچا سکو۔ میں نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ
مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کاتحفظ کرے اور افواج پاکستان اور تمام محب وطن پاکستانیوں کو بچانے کا اہتمام کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کو رکوائے۔
اس سے پہلے یحییٰ خان کا جو سگنل مجھے موصول ہوا وہ 29 نومبر کا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’آپ کی کامیابی کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور ساری قوم آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔‘ کیونکہ ا س سے پہلے میں نے مشرقی پاکستان پر بھارتی حملے کا ایک ہفتے تک نہ صرف کامیابی سے دفاع کیا تھا بلکہ کئی مقامات پر انہیں مار بھگایا تھا۔ اس سے پہلے بھارتی فوج کے آدمی مکتی باہنی کے نام پر لڑ رہے تھے۔
یحییٰ خان کے سگنل کے باوجود ہم نے 14 کو ہتھیار نہیں ڈالے، ہم انتظار کرتے رہے کیونکہ ہمیں اس سے پیشتر اسلام آباد سے باقاعدہ اطلاع دی گئی تھی کہ ’زرد اوپر سے اور سفید نیچے سے تمہاری امداد کر رہا ہے۔
مطلب یہ تھا کہ نیچے سمندر کے ذریعے امریکی بحری بیڑہ اور اوپر سے چین ہماری مدد کو پہنچ رہا ہے
وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ ہمارے جیالوں کو ہر طرف سے یہی جواب تھا کہ ’آخری گولی آخری آدمی‘ کے آرڈر پر عمل کرتے ہوئے وہ آخری قطرہ خون بہنے تک لڑیں گے مگر اسلام آباد خاموش تھا۔
یہاں روک دیتا ہوں داستان اتنی ہے کہ کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن مقصد آپ کو سمجھانا ہے کہ ایک طرف
وہ جنرل جس کی بہادری کی داستانیں ہیں جسے فوج میں ٹائیگر کہا جاتا تھا اور دوسری طرف وہ حرامی جنرل جو اداکاراؤں کے جسموں پر شراب ڈال کر چاٹا کرتا تھا۔ فیصلہ آپ خود کر سکتے ہیں، اور تو اور کسی مائی کے لال میں یہ جرات نہیں ہوئی کہ جنرل نیازی کا کورٹ مارشل کر سکے۔
جمہوری نظام کا قیام پاکستان کے صاحبانِ اقتدار کو منظور نہیں تھا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ قائد اعظم اور اس کے چند ساتھیوں کے علاؤہ مسلم لیگ کی بیشتر قیادت موقع پرست جاگیرداروں پر مشتمل تھی ۔
اور انہوں نے مسلم لیگ کا قافلہ تب چنا جب کانگریس نے زمینی اصلاحات کا اعلان کیا۔ ہندوستان میں رہتے تو جاگیریں ضبط ہونے کا ڈر تھا۔
جنہیں آج آپ الیکٹیبلز یا لوٹا کہتے ہیں ۔
مشرقی پاکستان کی آبادی زیادہ تھی اور وہاں جاگیردارانہ نظام بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ تحریک پاکستان میں
ان کی قربانیاں بھی ناقابل فراموش ہیں۔
دوستو!
لوگ کہتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا مسلہء ساٹھ کی دہائی میں شروع ہوا یہ بات بلکل درست نہیں ہے یہ مسائل پہلے دن سے ہی ساتھ تھے۔
مشرقی پاکستان میں رہنے والے یا تو دیہاڑی دار تھے یا چھوٹے چھوٹے کاروبار والے یا دو دو قلعے کے زمیندار
اور یا انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور شروع سے ہی انہیں نچلی ذات کا سمجھا جاتا رہا ۔
خیر یہ مسلہء تب شروع ہوتا ہے جب!
25 فروری، 1948
مشرقی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو رکن دھریندر ناتھ دتا نے متحدہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی کارروائی میں اردو کے ساتھ بنگالی کے
استعمال کے لیے قواعد میں ترمیم کرنے کی تحریک پیش کی۔ اس کے جواب میں وزیرِ اعظم لیاقت علی خان نے کہا کہ پاکستان کے لیے جدوجہد برصغیر کے 10 کروڑ مسلمانوں نے کی تھی جن کی زبان ان کے بقول اردو تھی اور ایوان نے یہ تحریک مسترد کردی۔
بنگالی زبان سے متعلق ایوان میں پیش کی گئی تحریک مسترد ہونے کی خبر جب ڈھاکہ پہنچی تو اس پر شدید ردِ عمل سامنے آیا۔ اس کے بعد جب مشرقی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ خواجہ ناظم الدین نے بھی اردو کو قومی زبان بنانے کے حق میں بیان دیا تو صوبے میں احتجاج شروع ہو گیا۔
جنوری 1948 میں شیخ مجیب طلبہ تنظیم 'ایسٹ پاکستان اسٹوڈنٹ لیگ' کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ اس تنظیم نے بنگالی زبان کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
فروری کے اختتام تک قومی زبان کے معاملے پر مشرقی پاکستان میں بے چینی بڑھنے اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے باقاعدہ تحریک چلانے کے لے
ایک ایکشن کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی ۔
احتجاج کی شدت بڑھنے کے بعد وزیرِ اعلیٰ خواجہ ناظم الدین نے طلبہ کی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیے اور ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے میں بنگالی کو مشرقی بنگال میں سرکاری اور تعلیمی زبان بنانے پر آمادگی ظاہر کی گئی۔
اس معاہدے میں بنگالی کو ریاستی زبان بنانے کے لیے دستور ساز اسمبلی میں قرار داد پیش کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا۔
مشرقی بنگال کی اسمبلی سے تو وعدے کے مطابق بنگالی کے حق میں قرار داد منظور کرلی گئی لیکن ایکشن کمیٹی سے ہونے والے وعدے کے مطابق مرکزی اسمبلی میں قرار داد پیش نہیں کی جاسکی ۔
31 مارچ، 1948
بانیٔ پاکستان محمد علی جناح نے ڈھاکہ کا دورہ کیا اور ریس کورس میدان میں خطاب کرتے ہوئے اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان قرار دیا۔
جس پر بہت زیادہ تنقید کی گئی ۔
محمد علی جناح کے انتقال کے بعد مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگی رہنما خواجہ ناظم الدین دوسرے گورنر جنرل بنے ۔
لیاقت علی خان کے قتل کے بعد خواجہ صاحب خود وزیراعظم بن گئے اور غلام محمد کو گورنر جنرل بنا دیا اور ایک بار پھر اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو قومی زبان کا حق نہ دیا اور بیان دیا کہ اردو ہی قومی زبان ہو گی ۔
خواجہ ناظم الدین کے بیان کے خلاف مشرقی
بنگال میں ہڑتال ہوئی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ کے ایک جلوس کا پولیس سے تصادم ہوا جس میں آٹھ طلبہ ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس تصادم میں ہلاک ہونے والے طلبہ کی یاد میں ڈھاکہ یونیورسٹی میں ’شہید مینار‘ تعمیر کیا گیا۔
فروری 1952
شدید احتجاج کے بعد مشرقی بنگال اسمبلی نے اردو کے ساتھ بنگلہ کو بھی قومی زبان بنانے کی قرارداد منظور کر لی۔
مشرقی بنگال کے انتخابات سے قبل حسین شہید سہروردی، مولانا بھاشانی اور شیخ مجیب کی عوامی لیگ، فضل الحق کی کرشک سرامک پارٹی، بائیں بازوں کی جماعت گناتنتری دل اور نظامِ اسلام پارٹی نے متحدہ محاذ یا 'جگتو فرنٹ' کے نام سے چار جماعتی انتخابی اتحاد بنایا۔
مختلف فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے اس اتحاد نے 21 نکاتی پروگرام پر اتفاق کیا تھا جس میں بنگالی کو سرکاری زبان بنانے اور 1940 کی قراردادِ لاہور کے مطابق صوبائی خود مختاری جیسے مطالبات شامل تھے ۔
مشرقی بنگال کے صوبائی انتخابات میں جگتو فرنٹ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ملک کی بانی جماعت مسلم لیگ کو شکست ہوئی۔
اپریل، 1954
شیرِ بنگال اے کے فضل حق جگتو فرنٹ کی حکومت کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ واضح رہے کہ اے کے فضل حق نے 23 مارچ 1940 کی قراردادِ لاہور پیش کی تھی۔
15 مئی، 1954
عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن جگتو فرنٹ کی حکومت کی کابینہ میں بطور وزیر شامل ہوئے۔ وہ کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر تھے اور انہیں زراعت و جنگلات کے قلم دان دیے گئے۔
29 مئی، 1954
گورنر جنرل غلام محمد کی مرکزی حکومت نے مشرقی بنگال کی صوبائی حکومت برطرف کر کے
گورنر راج نافذ کر دیا ۔
آدم جی جوٹ ملز میں ہونے والے فسادات بعد امن و امان کی صورت حال قابو کرنے میں ناکامی اور وزیر اعلیٰ اے کے فضل الحق کے بھارت سے ساتھ مل کر متحدہ بنگال بنانے کی سازشوں کے الزامات کو صوبائی حکومت کی برطرفی کی وجہ بتایا گیا۔ حالانکہ ایسی کوئی بات ثابت نہیں
کی جا سکی مغربی بنگال کے دورے کے دوران انہوں نے صرف بنگال کی تقسیم پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
یہ بلکل ایسا ہی ہو رہا تھا جیسے اجکل ہو رہا ہے کہ
اج عمران خان نے دائیں ہاتھ سے کان کھجلایا ہے تو ہو سکتا ہے کہ دہشتگردی کا منصوبہ بنا رہا ہو حد ہے یار ویسے
دوستو!ایک ایک
واقعہ یہاں لکھنا شاید ممکن نہیں یہ سب اس لیے بھی بتایا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلہ ساٹھ کی دہائی میں شروع ہوا تو وہ جان لیں ۔
بنگالیوں کے خلاف نفرت پیدا کی گئی ادھر بنگالیوں کے دل میں پاک فوج اور مغربی پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کی گئی جس کے اہم کرداروں میں
مکتی باہنی ، اندراگاندھی ،جنرل یحیٰی خان ، جنرل ٹکا خان ، جنرل ایوب خان ، بریگیڈیئر عثمانی ، ذوالفقار علی بھٹو وغیرہ وغیرہ ۔
پاکستانیوں!
جب بڑے فیصلہ ہی کر چکے تھے کہ جان چھڑانی ہے تو الزام مجیب الرحمٰن پر لگا دو یا حسین شہید سہروردی پر کسی کو کیا فرق پڑتا ہے ۔
خیر!
28 نومبر، 1969
یحییٰ خان نے پانچ اکتوبر 1970 کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔
یحییٰ خان نے مغربی پاکستان کا صوبہ تحلیل کر دیا جس کے بعد مغربی حصے میں چار صوبے وجود میں آ گئے۔
۔ یحییٰ خان نے لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) نافذ کردیا جس میں صوبوں کی قومی اسمبلی میں نمائندگی اور دیگر انتخابی قواعد کی تفصیلات شامل تھیں۔ ایل ایف او میں منتخب ہونے والی دستور ساز اسمبلی کو 120 دنوں کے اندر آئین بنانے کا پابند کیا گیا تھا۔
12 نومبر، 1970
مشرقی پاکستان میں تباہ کن سمندری طوفان آیا جس میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔
اور جب باہر سے بیشمار امداد آئی تو بڑے بڑوں کے منہ سے پانی آ گیا وہ کیش مدد کہاں گئی کسی کو خبر نہیں شکر ہے یہ بھی مجیب الرحمٰن کے ذمہ نہیں ڈالی دی ۔
7 دسمبر، 1970
پاکستان کے پہلے عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 162 میں سے 160 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ مغربی پاکستان کی 138 میں سے 81 نشستیں پیپلز پارٹی نے جیتیں۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد عوامی لیگ کو دستور ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی
25 مارچ، 1971
مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن 'سرچ لائٹ' کا آغاز ہو گیا۔ شیخ مجیب اور عوامی لیگ کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد شیخ مجیب کو مغربی پاکستان منتقل کر دیا گیا تھا۔
مشرقی پاکستان میں فوج کے مختلف یونٹس کے بنگالی افسران، فوجیوں اور ایسٹ پاکستان ۔ رائفلز کی بغاوت شروع ہو گئی ۔
یہ اجلاس اور وہ اجلاس ، یہ میٹنگ اور وہ میٹنگ بس میں نہ مانوں والی بات تو نتیجہ یہ نکلا کہ جب آپ کسی کو اتنا تنگ کریں گے اور نفرتیں انتہا کو پہنچ جائیں تو نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔
شیخ مجیب الرحمٰن نے وہی کیا جو ایک سچے لیڈر کو کرنا چاہیے تھا۔
اس کی بے گناہی میں صرف ایک ہی دلیل کافی ہے کہ اگر وہ غدار ہوتا تو فاطمہ جناح اس کے ساتھ کبھی کھڑی نہ ہوتیں ۔
غدار وہی تھے جنہوں نے فاطمہ جناح جیسی شخصیت کو غدار ثابت کرنا چاہا اور وہ ہی آج تک غدار ہیں ۔
شدید احتجاج کے بعد مشرقی بنگال اسمبلی نے اردو کے ساتھ بنگلہ کو بھی قومی زبان بنانے کی قرارداد منظور کر لی۔
مشرقی بنگال کے انتخابات سے قبل حسین شہید سہروردی، مولانا بھاشانی اور شیخ مجیب کی عوامی لیگ، فضل الحق کی کرشک سرامک پارٹی، بائیں بازوں کی جماعت گناتنتری دل اور نظامِ اسلام پارٹی نے متحدہ محاذ یا 'جگتو فرنٹ' کے نام سے چار جماعتی انتخابی اتحاد بنایا۔
مختلف فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے اس اتحاد نے 21 نکاتی پروگرام پر اتفاق کیا تھا جس میں بنگالی کو سرکاری زبان بنانے اور 1940 کی قراردادِ لاہور کے مطابق صوبائی خود مختاری جیسے مطالبات شامل تھے ۔
مشرقی بنگال کے صوبائی انتخابات میں جگتو فرنٹ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ملک کی بانی جماعت مسلم لیگ کو شکست ہوئی۔
شیرِ بنگال اے کے فضل حق جگتو فرنٹ کی حکومت کے وزیرِ اعلیٰ بنے۔ واضح رہے کہ اے کے فضل حق نے 23 مارچ 1940 کی قراردادِ لاہور پیش کی تھی۔
15 مئی، 1954
عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن جگتو فرنٹ کی حکومت کی کابینہ میں بطور وزیر شامل ہوئے۔ وہ کابینہ کے سب سے کم عمر وزیر تھے اور انہیں زراعت و جنگلات کے قلم دان دیے گئے۔
29 مئی، 1954
گورنر جنرل غلام محمد کی مرکزی حکومت نے مشرقی بنگال کی صوبائی حکومت برطرف کر کے
گورنر راج نافذ کر دیا ۔
آدم جی جوٹ ملز میں ہونے والے فسادات بعد امن و امان کی صورت حال قابو کرنے میں ناکامی اور وزیر اعلیٰ اے کے فضل الحق کے بھارت سے ساتھ مل کر متحدہ بنگال بنانے کی سازشوں کے الزامات کو صوبائی حکومت کی برطرفی کی وجہ بتایا گیا۔ حالانکہ ایسی کوئی بات ثابت نہیں
کی جا سکی مغربی بنگال کے دورے کے دوران انہوں نے صرف بنگال کی تقسیم پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
یہ بلکل ایسا ہی ہو رہا تھا جیسے اجکل ہو رہا ہے کہ
اج عمران خان نے دائیں ہاتھ سے کان کھجلایا ہے تو ہو سکتا ہے کہ دہشتگردی کا منصوبہ بنا رہا ہو حد ہے یار ویسے
دوستو!ایک ایک
واقعہ یہاں لکھنا شاید ممکن نہیں یہ سب اس لیے بھی بتایا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسلہ ساٹھ کی دہائی میں شروع ہوا تو وہ جان لیں ۔
بنگالیوں کے خلاف نفرت پیدا کی گئی ادھر بنگالیوں کے دل میں پاک فوج اور مغربی پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کی گئی جس کے اہم کرداروں میں
مکتی باہنی ، اندراگاندھی ،جنرل یحیٰی خان ، جنرل ٹکا خان ، جنرل ایوب خان ، بریگیڈیئر عثمانی ، ذوالفقار علی بھٹو وغیرہ وغیرہ ۔
پاکستانیوں!
جب بڑے فیصلہ ہی کر چکے تھے کہ جان چھڑانی ہے تو الزام مجیب الرحمٰن پر لگا دو یا حسین شہید سہروردی پر کسی کو کیا فرق پڑتا ہے ۔
خیر!
28 نومبر، 1969
یحییٰ خان نے پانچ اکتوبر 1970 کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پاکستان کی تاریخ کے پہلے عام انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا۔
یحییٰ خان نے مغربی پاکستان کا صوبہ تحلیل کر دیا جس کے بعد مغربی حصے میں چار صوبے وجود میں آ گئے۔
۔ یحییٰ خان نے لیگل فریم ورک آرڈر (ایل ایف او) نافذ کردیا جس میں صوبوں کی قومی اسمبلی میں نمائندگی اور دیگر انتخابی قواعد کی تفصیلات شامل تھیں۔ ایل ایف او میں منتخب ہونے والی دستور ساز اسمبلی کو 120 دنوں کے اندر آئین بنانے کا پابند کیا گیا تھا۔
12 نومبر، 1970
مشرقی پاکستان میں تباہ کن سمندری طوفان آیا جس میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔
اور جب باہر سے بیشمار امداد آئی تو بڑے بڑوں کے منہ سے پانی آ گیا وہ کیش مدد کہاں گئی کسی کو خبر نہیں شکر ہے یہ بھی مجیب الرحمٰن کے ذمہ نہیں ڈالی دی ۔
7 دسمبر، 1970
پاکستان کے پہلے عام انتخابات کا انعقاد ہوا جس میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 162 میں سے 160 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ مغربی پاکستان کی 138 میں سے 81 نشستیں پیپلز پارٹی نے جیتیں۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد عوامی لیگ کو دستور ساز اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل ہو گئی
25 مارچ، 1971
مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن 'سرچ لائٹ' کا آغاز ہو گیا۔ شیخ مجیب اور عوامی لیگ کے دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد شیخ مجیب کو مغربی پاکستان منتقل کر دیا گیا تھا۔
مشرقی پاکستان میں فوج کے مختلف یونٹس کے بنگالی افسران، فوجیوں اور ایسٹ پاکستان ۔ رائفلز کی بغاوت شروع ہو گئی ۔
یہ اجلاس اور وہ اجلاس ، یہ میٹنگ اور وہ میٹنگ بس میں نہ مانوں والی بات تو نتیجہ یہ نکلا کہ جب آپ کسی کو اتنا تنگ کریں گے اور نفرتیں انتہا کو پہنچ جائیں تو نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔
شیخ مجیب الرحمٰن نے وہی کیا جو ایک سچے لیڈر کو کرنا چاہیے تھا۔
اس کی بے گناہی میں صرف ایک ہی دلیل کافی ہے کہ اگر وہ غدار ہوتا تو فاطمہ جناح اس کے ساتھ کبھی کھڑی نہ ہوتیں ۔
غدار وہی تھے جنہوں نے فاطمہ جناح جیسی شخصیت کو غدار ثابت کرنا چاہا اور وہ ہی آج تک غدار ہیں ۔
