سردیوں کی اس تاریک رات نے مذہبی جلوسوں کے سڑکوں پر آمد کا مخالف بنا دیا
یہ غالباً 2008/09 کا واقعہ ہے ابھی میرا شناختی کارڈ بھی نہیں بنا تھا، یعنی 18سال سے کم عمر تھی، محرم کی کوئی 6سے9کے درمیان کی تاریخ تھی ہمارا موڈ بن گیا کہ آج آباہی گاؤں جائیں۔
دن کے12:00بجے کے بعد راوپنڈی سے سفر شروع کیا، یہ دن سردیوں کے تھے، اور آج کی طرح موٹروے کی سہولت بھی نہیں تھی۔ جی ٹی روڈ پر پیرودھائی سے مانسہرہ کے 4سے ساڑھے چار گھنٹے لگنا معمول تھا، ہاں رات کے وقت جو گاڑیاں جاتیں ٹریفک کم ہونے کی وجہ سے انہیں تھوڑا کم وقت لگتا تھا۔
یہاں سے ہم نکلے تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ پیرودھائی تک لگ گیا، وہاں سے مانسہرہ کا ٹکٹ لے کر گاڑی میں بیٹھے تو سواریاں پوری ہونے میں بھی کافی وقت لگا، بالاخر پنڈی سے تو گاڑی نکل ہی گئی براستہ حسن ابدال جی ٹی روڈ پر جب ہم ہریپور سے پہلے جھاری کس پہنچے تو پولیس ناکے پر گاڑیوں کو روک لیا گیا کہ تھوڑا سا ویٹ کریں آگے جلوس گزر رہا ہے۔
ہزارہ ڈویژن کی یہ واحد روڈ تھی جس پر مسافر مریض اور ایمرجنسی جانے والے لوگ سفر کر رہے تھے، ایک جلوس کی خاطر ٹریفک کو روک کر رکھنا بہت عجیب اور برا لگا۔
تقریباً پچیس سے تیس منٹ کے غمگین ترین انتظار کے بعد انتظامیہ کی جانب سے تو گرین سگنل مل ہی گیا مگر ٹریفک بری طرح جام ہو گیا تھا جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا، مانسہرہ کے لاری اڈہ پر جب اترے تو عشاء کو گزرے کافی ٹائم ہو چکا تھا۔
پہلے سوچا یہیں ہوٹل میں روم لے لیا جائے، مگر دل کسی ایک طرف مطمئن نہیں ہو رہا تھا، پہلے کھانا کھایا پھر واپس اڈے میں گھومنے پھرنے کے بعد اک کیری ڈبے والے نے بالاکوٹ کی آواز لگائی تو ہم بھی جا کر بیٹھ گے۔
اصل امتحان اب شروع ہوا تھا، کیری ڈبے میں بیٹھے تمام لوگ اجنبی اور اوپر سے جابہ سے بیسیاں تک کے گھنے جنگل میں بل کھاتی روڈ پر سفر اور بیسیاں سے بالاکوٹ تک دریا کے کنارے خطرناک پہاڑوں میں سفر کرنا، کبھی کبھی خیال آتا کہیں یہ سارے ڈاکو ہی تو نہیں جو مجھے بھلا پھسلا کر لے جا رہے ہیں، کبھی خیال آتا یہ کہیں گردے بیچنے والے نہ ہوں؟
ایک عادت شروع سے ہے جب ڈر خوف طاری ہو جائے، فوراً اللہ یاد آ جاتا ہے من ہی من میں اپنی بے بسی کا اظہار کر کے خود کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہوں، اور اللہ تعالی ہمیشہ اپنا کرم فرما دیتا ہے، چونکہ ہم بابوں شابوں پہ وشواس نہیں کرنے والے، بحرحال اللہ اللہ کر کے ہم بالاکوٹ شہر میں پہنچ ہی گے۔
بالاکوٹ شہر سے چند کلومیٹر آگے ہم نے جانا تھا جو بنا گاڑی کے ممکن ہی نہ تھا اور بالاکوٹ شہر کی صورتحال یہ تھی کہ بازار میں کتے بھونکنے کے سوا کوئی نظر نہیں آ رہا تھا، ادھر ادھر گھوم کر گاڑی تلاش کی کہ کہیں کوئی ٹیکسی جیپ کچھ بھی مل جائے ایکسٹرا پیسے بھی لے لے مجھے منزل مقصود تک پہنچا دے، مگر ہر طرف خاموشی تھی، اب تو بالاکوٹ شہر کافی بہتر ہو چکا ہے، 2005کے زلزلے کے بعد تعمیراتی مرحلے میں تھا اور سردیوں کی وجہ سے شہر مزید سنسان تھا۔
اک ٹیکسی والا پل والی سائیڈ سے آیا اسے روک کر مطلوبہ جگہ تک لیجانے کا کہا تو کہتا ہے رات بہت ہو گئی ہے، اب میں نہیں جا سکتا مانسہرہ جانا ہے تو لے جاتا ہوں، ایک لمحے کے لیے تو خیال آیا یہاں خجل خواری سے بہتر ہے، مانسہرہ ہی چلا جاؤں، لیکن پھر سوچا تھوڑا اور ٹرائی کر لینا چاہیے۔
اچانک مدنی پلازہ کےعین سامنے گاڑی کی لائیٹس آن ہوئیں ہم بھی وہاں پہنچ گے، ٹیکسی گاڑی تھی ڈرائیور کے علاوہ اک شخص فرنٹ پہ منہ چادر میں چھپا کر بیٹھا تھا اور دوسرا شخص پیچھے بیٹھا تھا، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ مجھے فلاں جگہ جانا ہے، انہوں نے کہا ہم صرف سنگڑ تک جائیں گے وہاں تک جانا ہے تو بیٹھ جاؤ، سنگڑ تک کا راستہ ہمارے کل راستے کا تقریباً 65فیصد راستہ بنتا تھا میں نے سوچا وہاں جا کر ان کو منہ مانگا کرایہ دے کر گاڑی آگے تک لے جاؤنگا، یہ سوچ کر بیٹھ گیا۔
گاڑی خالی سڑک پر پوری آب و تاب سے دوڑے جا رہی تھی جب سنگڑ فوجی کیمپوں کے پاس پہنچے میرے ذہن میں تھا گاڑی یہیں رک جائے گی مگر گاڑی نے آسرا بھی نہیں کیا، سنگڑ موڑ کراس کیئے، کپی گلی، گراس کی جبی کراس کی ہماری خوشی بڑھتی جا رہی تھی کہ ہم اپنی منزل کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اچانک گاڑی ڈبریاں موڑ پر کھڑی ہو گئی اور گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا شخص گیٹ کھول کر نیچے اترا، ڈرائیور نے آواز دی بچے ہم آگے نہیں جا رہے آپ بھی اتر جائیں، ہم نے بڑے ہی عاجزانہ انداز میں کہا انکل پانچ منٹ کا تو آگے راستہ ہے آپ دو ہیں پاس گاڑی بھی ہے واپس آپ تو باآسانی آ سکتے ہیں آپ مجھے پہنچا دیں جتنے پیسے کہیں گے میں دینے کو تیار ہوں۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ راستہ ٹوٹل پندرہ سے بیس منٹ کا تھا مگر آگے اک خوفناک کس اور پھر جنگل تھا، جہاں اس وقت یہ بھی مشہور تھا کہ اکثر رات کے وقت یہاں شیر کو دیکھا گیا ہے، یہی وجہ تھی کہ گاڑی والا بھی آگے جانے کے لیے تیار نہیں تھا، گاڑی والے نے کرایہ لینے سے بھی انکار کر دیا اور مزید مجھے آگے چھوڑنے سے بھی معذرت کر لی، گاڑی والے نے گاڑی واپس موڑی اور ہم نے جیب سے فون نکالا اور روڈ کے درمیان میں ہو کر چلنا شروع کر دیا، ابھی دو چار قدم ہی چلے تھے کہ پیچھے سے آواز آئی او بھتیجے رک ذرا؟
ارے یہ بندہ ابھی تک یہاں ہی کھڑا ہے؟ ہم خود سے من ہی من پوچھنے لگے، ہم تو سوچ رہے تھے وہ کب کا چلا گیا ہو گا، دراصل یہ وہی بندہ تھا جو چادر میں منہ لپیٹ کر ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔
اب انہیں ہم پہچان چکے تھے، ارے یہ تو اپنے ماسٹر صاحب ہیں جن کو ہم چچا کہتے تھے، اور انکے ہمارے والد صاحب سے بھی گہرے تعلقات تھے۔ انہوں نے ہمیں منع کیا کہ آگے نہیں جانا رات کو ہمارے ہاں ہی رک جاؤ مگر ہم نے بھی صاف انکار کر دیا اور یہ کہہ کر چلنا شروع کر دیا کہ کوئی بات ننہیں انکل جی اب تو بہت تھوڑا سا راستہ ہے میں چند منٹوں میں پہنچ جاؤں گا۔
انکل جی نے فرمایا پہنچو گے تو تب جب زندہ رہو گے، آگے کس میں شیر ہوتا ہے چیر پھاڑ کے رکھ دیتا ہے، بس پھر کیا تھا کہ ہماری بھی " کانپیں ٹانک رہی تھیں" ہم واپس انکل جی یعنی ماسٹر صاحب کی طرف تیز قدموں سے چلتے ہوئے، اچھا انکل جی پھر مجھے نہیں جانا چاہیے۔
انکل جی: ہاں یہ ہوئی نا بات
پھر انکل جی آگے چلتے ہوئے بولے اچھا ہوا تم ساتھ آگے ورنہ میں تو خود ڈرتا ہوں اکیلا ہوتا تو اپنے بیٹے کو فون کرتا وہ سامنے آتا تو میں نیچے جاتا، واللہ یہ سچ تھا یا مذاق لیکن شیر کی بات سن کر میرا تو تراہ نکل گیا تھا، اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی رات کو انکل کے گھر رہنا پڑا، جب گھر پہنچے آنٹی نے آگ جلائی انکل جی نے آدھی رات کو عشاء کی نماز ادا کی اور پھر ہمیں زبردستی کھانا کھلوایا جبکہ ہم پہلے ہیں کھا چکے تھے، پھر ہم سے اتنا لیٹ آنے کا ریزن پوچھا، چائے پلائی اور لے جا کر سلا دیا، ہر طرف سے کمرہ بند ہونے کی وجہ سے سردی اور روشنی دونوں کا داخلہ اندر ناممکن تھا، دن گیارہ بجے آنکھ کھلی باہر گے انکل کا پوچھا تو بتایا گیا وہ تو صبح کی نماز کے بعد نکل گے تھے، ہمیں اک بار پھر زبردستی ناشتہ کروایا گیا اور خدا خدا کر کے ہم بھی نکل لیے۔
روڈ میں پہنچے اور سوچا اب خالی ہاتھ گھر کیسے جایا جائے، کچھ فروٹ وغیرہ تو لیتے جانا چاہیے، اور رات کو انکل کے گھر رہنے والی بات بھی ابوجان سے چھپانی تھی چونکہ وہ رات گئے سفر کے حق میں بالکل بھی نہیں تھے سچ بتانے پر ڈانٹ پڑتی کہ جب اتنا لیٹ ہو ہی گیا تھا تو ہوٹل پر رہ لیتا، اتنا رسک لینے کی کیا ضرورت تھی۔ بحرحال دوبارہ بازار کی جانب رخ کیا اک ٹیوٹا ویگن رکی جونہی اس میں بیٹھنے لگا تو سامنے میرا کزن بیٹھا تھا، اس نے کہا او آؤ جی آپ کب آئے؟ اب یہاں بھی اک جھوٹ بولنا پڑا کہ میں تو رات کو آ گیا تھا، اب بازار جا رہا ہوں۔
کزن کا اگلا سوال: او تو یہاں تک پیدل آئے ہو گاڑی نہیں ملی تھی؟
اپن: ہاں دو تین آئی تھیں مگر بے دھیانی میں نکل گئیں میں نے اشارہ ہی نہیں دیا۔
کزن: اچھا اچھا
بالاکوٹ بازار پہنچا کٹھے میں جا کر تین گھنٹے دھوپ میں بیٹھا، پھر واپس بازار سے فروٹ لیا ویگن میں بیٹھا اسٹاپ پہ اترا گھر پہنچا، جس سوال کا ڈر تھا وہی والد صاحب نے پوچھا: صبح کس وقت پنڈی سے نکلے تھے؟
اپن: نظریں جھکا کر ایکٹنگ کرتے ہوئے، جی وہ میں صبح سویرے ہی نکل آیا تھا۔
اچھا جی اگلے دو روز بعد اپن پھر پنڈی واپس آ گیا، کچھ دنوں بعد ہمارے بہنوئی لکڑیاں کاٹ رہے تھے، اوپر سے ماسٹر صاحب تشریف لے گے، وہاں بہنوئی کے ساتھ میرا بڑا بھائی بھی تھا، بدقسمتی میری کہ میرے بھائی کو دیکھ کر ماسٹر صاحب بولے یار تیرا وہ چھوٹا بھائی تو بہت شرماتا ہے، ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھاتا، یہ بات سن کر بہنوئی صاحب کو تو جیسے خزانہ مل گیا ہو انہوں نے پوری بات جاننے کے لیے ماسٹر صاحب سے پوچھ لیا کہ تمھارا اسکے ساتھ کیسے واسطہ پڑا؟
ماسٹر صاحب تو اپنی جگہ سچے تھے انہیں کیا معلوم تھا بھتیجے نے اس دورے کو بطور راز ہی رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے پوری بات بہنوئی صاحب کو بتا دی، بس پھر کیا تھا، انہوں نے بات ابو تک پہنچائی اگلی بار جب گھر گیا تو ابو پوچھتے ہیں تو رات کو ماسٹر صاحب کے گھر رہا ہے اپنا گھر کونسا دور تھا؟
اب ابو کو پوری بات بتانی پڑی کہ کہ واقعہ دراصل یہ تھا، کہتے ہیں نہیں مسئلہ یہ نہیں کہ تو ماسٹر صاحب کے ہاں رکا، وہ تو ماسٹر صاحب کا شکریہ کہ تجھے ساتھ لے گیا ورنہ نا جانے کس مصیبت میں پڑ جاتا۔ مسئلہ یہ ہے تو نے رات کو سفر کیا کیوں اور پھر جھوٹ کیوں بولا؟
ہم نے کہا ابو جی ہم آئے تو وہاں سے جلدی ہی تھے لیکن جلوس کی وجہ سے لیٹ ہو گے۔ اور جھوٹ اس لیے بولا کہ ڈانٹ سے بچ سکیں۔
ابو: ذرا غصے سے ہزار بار منع کیا ہے رات کو مت سفر کیا کرو تمہیں سمجھ ہی نہیں آتی۔
ہم: چلو آئندہ خیال رکھیں گے۔
اندازہ لگائیں ایک جلوس نے پہلے مجھے کتنا خجل و خوار کیا، پھر کئی جھوٹ بلوائے، اسکے بعد وہ جھوٹ پکڑے گے، اوپر سے ڈبل ڈانٹ بھی پڑی۔
تبھی میں کہتا ہوں تمام مذہبی مسالک کے جلوسوں کو سڑکوں پر نہ لایا جائے بلکہ عبادتگاہوں تک محدود رکھا جائے۔ ورنہ بہت ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔
ازقلم: محمد اشرف
