سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

جہیز کی تاریخی،اسلامی اور قانونی حثیت/ جہیز کے معاشرے پر اثرات



جہیز کی تاریخی حیثیت ایک قدیم روایت سے جڑی ہوئی ہے جو مختلف ثقافتوں اور مذاہب میں مختلف شکلوں میں موجود رہی ہے۔ اس روایت کی بنیاد سماجی، اقتصادی، اور خاندانی نظام پر تھی، جو مختلف ادوار میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔

قدیم زمانہ

جہیز کی روایت قدیم تہذیبوں جیسے مصری، یونانی، رومی، اور ہندوستانی معاشروں میں پائی جاتی ہے۔ ان معاشروں میں، جہیز کو لڑکی کی شادی کے وقت اس کے خاندان کی طرف سے دی جانے والی دولت، زیورات، یا جائیداد کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ اس کا مقصد لڑکی کی مالی معاونت کرنا اور اس کے شوہر کے گھر میں اس کی عزت و وقار کو بڑھانا تھا۔

مقاصد اور نوعیت

معاشی استحکام: قدیم زمانے میں جہیز لڑکی کی شادی شدہ زندگی میں معاشی استحکام کو یقینی بنانے کا ایک ذریعہ تھا۔ یہ ایک طرح سے معاشی تحفظ فراہم کرتا تھا اور لڑکی کو شادی کے بعد مالی معاملات میں خودمختاری دیتا تھا۔


سماجی مقام: جہیز کی مقدار اور نوعیت اکثر خاندان کی سماجی حیثیت اور دولت کا مظہر ہوتی تھی۔ زیادہ مالدار خاندان زیادہ قیمتی جہیز دینے کی کوشش کرتے تھے تاکہ ان کی سماجی حیثیت بلند ہو۔


تحفہ یا وراثت: بعض معاشروں میں جہیز کو وراثت کا ایک حصہ سمجھا جاتا تھا، جو بیٹی کو شادی کے وقت منتقل کیا جاتا تھا تاکہ وہ اپنے نئے خاندان میں خود کو مستحکم کر سکے۔


اسلامی تناظر

اسلامی تعلیمات میں، جہیز کا کوئی لازمی حکم نہیں ہے، بلکہ اسلام میں نکاح کو آسان بنانے کی تلقین کی گئی ہے۔ البتہ، پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو بھی کچھ سامان دیا گیا تھا، لیکن یہ سامان معمولی اور سادگی پر مبنی تھا۔ اور اس کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ حضرت فاطمہؓ کے شوہر حضرت علیؓ نبی کریمﷺ کے چچازاد بھائی بھی تھے اور آپﷺ نے ہی حضرت علیؓ کی پرورش کی تھی۔ اس کے برعکس، اسلامی تعلیمات میں دلہن کے لیے مہر کا تعین کیا گیا ہے، جو دولہا کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

جدید دور میں جہیز کی صورتِ حال

آج کے دور میں، کئی معاشروں میں جہیز ایک سماجی برائی کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے۔ جنوبی ایشیا میں، خاص طور پر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں، جہیز کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں، جیسے کہ:

معاشی دباؤ: غریب خاندانوں کے لیے جہیز دینا ایک بڑا معاشی بوجھ بن گیا ہے۔


خواتین پر دباؤ: بعض اوقات لڑکیوں کو جہیز کے لیے ہراساں کیا جاتا ہے، جو گھریلو تشدد اور بعض اوقات موت کا سبب بھی بنتا ہے۔


شادیوں میں تاخیر: معاشی بوجھ کی وجہ سے کئی خاندان اپنی بیٹیوں کی شادیوں میں تاخیر کرتے ہیں۔


قانونی حیثیت

کئی ممالک میں جہیز دینے یا لینے کے خلاف قوانین موجود ہیں۔ بھارت میں 1961 میں "Dowry Prohibition Act" کے تحت جہیز لینا اور دینا غیر قانونی قرار دیا گیا۔ پاکستان میں بھی مختلف قوانین کے تحت جہیز کے مطالبے اور تشدد کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں۔

نتیجہ

جہیز کی روایت کا ارتقا مختلف معاشرتی، اقتصادی، اور مذہبی عوامل کے تحت ہوا ہے۔ اگرچہ قدیم زمانے میں یہ ایک مثبت مقصد کے لیے ہوتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس کی شکل بگڑ کر کئی معاشرتی مسائل کا سبب بن گئی۔ موجودہ دور میں، اس روایت کے خاتمے کے لیے سماجی شعور بیدار کرنا اور قانونی اقدامات کو مضبوط بناناضروری ہے۔

ازقلم: محمداشرف 


ہمارے یوٹیوب چینل کا وزٹ کریں

theashrafwriter


Post a Comment

Previous Post Next Post