سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

آصو کے چائے کا ہوٹل کھولنے سے پورے گاؤں کی فضا بدل گئی


آصو کے چائے کا ہوٹل کھولنے سے پورے گاؤں کی فضا بدل گئی  
گاؤں کی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا  
کیا بوڑھے، کیا جوان اور مجھ جیسے بچے  
سب کی دوپہریں وہیں پر کٹتیں  
ایک وقت میں چائے کا ایک کپ اور دو دو فلمیں  
شام ڈھلتی تو کوئی اسپورٹس چینل ٹی وی اسکرین پر نکھر جاتا  
فلموں پر تبصرے ہو رہے، کھلاڑیوں کی ناقص کارکردگی تنقیدی جائزے سے گزر رہی ہوتی  
اور پھر رات کے نو بج جاتے  
نو بجے نیوز چینل کا نہ چلنا یہ ناممکنات میں سے تھا  
ایسے ہی دن کٹ جاتے اور راتیں بسر ہو جاتیں۔
یہ اجے، سنجے دت، سنیل شیٹھی کی جتنی بھی فلمیں ہیں وہ سب وہیں سے میرے لاشعور کا حصہ بنیں  
وقت کی ڈور کب کسی کے ہاتھ میں رہتی ہے  
پتا نہیں کیسے میری دوپہریں ہوم ورک کرنے میں ضائع ہونے لگیں  
اور فلم سے جڑت کٹتی گئی۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب صرف نوکیا کے موبائل ہی میسر ہوا کرتے تھے  
اور زندگیاں اینڈرائڈ موبائلز سے مشروط نہیں تھیں  
تب فلم صرف تفریح نہیں ہوتی تھی بلکہ اجتماعی جڑت کا ایک ذریعہ تھی  
زندگی یوں تیز نہ تھی اور نہ سب کے گلے میں مصروفیت اور ذمہ داریوں کا طوق تھا  
آصو کے ہوٹل میں بیٹھنے والے شوبز، ملکی سیاست اور گاؤں کی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہوتے تھے  
گاؤں کے کتنے مسائل تھے جن کی ڈوریاں وہیں پر سلجھتیں  
اور فرد کے کتنے معاملات کا ازالہ وہاں سے ملنے والے مشوروں سے ہوتا تھا  
فرد، فرد سے جڑا تھا اور سب ایک دوسرے کے احوال سے آگاہ تھے  
اور زندگی کاٹی نہیں بلکہ اڑائی جا رہی تھی  
یہ روایت کا حصہ تھا کہ گاؤں میں فوتگی ہونے پر ٹی وی بند ہو جاتا  
لیکن چائے کے دور چلتے رہتے اور گپیں ہانکی جاتی رہتیں  
ٹی وی صرف اتنا ہی عام تھا کہ ہر دس گھروں بعد ایک گھر میں ہوتا تھا  
جو شام کو آنگن میں چلا دیا جاتا  
شام جب کھانا کھا لیا جاتا تو عورتیں، لڑکیاں اور بچے سب سونے کے بستروں کی بجائے ٹی وی والے پڑوسی کے گھر سے ملتے  
یہ رات کا ملن عجیب معنی خیز تھا  
ڈرامے تو ضرور دیکھے جاتے لیکن یہ بات بھی کھل جاتی کہ کس کے گھر میں کیا سالن بنا تھا  
اور یوں سالن کا تبادلہ بھی ہوتا اور دکھ سانجھے بھی  
ساجدہ ہماری پڑوسن تھی جسے میں باجی ساجدہ کہتا تھا  
اس کی بنائی گئی دال چنا اتنی لذیذ ہوتی تھی کہ میں روٹی کے تکلف میں پڑنے کی بجائے چمچ سے ہی کھا جاتا  
میں جب کبھی بھی شام کے ٹی وی کے سامنے جمی محفل میں شامل ہوتا تو  
میری نگاہیں اسے ہی ڈھونڈ رہی ہوتیں  
صرف یہ پوچھنے کے لئے کہ ”باجی تو اج دال پکائی“  
بہت بیبا عورت تھی، کبھی مجھے انکار نہیں کیا اور نہ کبھی ماتھے پہ بل لائیں  
بلکہ بہت بار تو ایسے ہوتا تھا کہ وہ دال بناتیں اور میرے لئے علیحدہ رکھ دیتیں  
اور یہ کبھی بھی نہیں ہوا کہ اس کے چولہے پر دال پکی ہو اور مجھے خبر نہ ہوئی ہو  
گاؤں والوں کی روحیں جانے کس مٹی سے گوندھی ہوتی ہیں  
یہاں دکھ تب تک دکھ تسلیم نہیں کیا جاتا جب تک سانجھا نہ ہو جائے  
کسی کے گھر میں اچھا سالن بنے تو ممکن ہی نہیں کہ پڑوسی تک نہ پہنچے  
پہلے دنوں میں چاردیواریاں کم تھیں اور احترام زیادہ تھا  
چولھے سانجھے ہوتے تھے اور مٹکے بھی  
ہر گھر میں نلکا نہیں ہوتا تھا اور جس گھر میں ہوتا تھا اس نے کبھی بھی یہ نہیں سمجھا کہ یہ صرف اسی کی ملکیت ہے  
یہی روایت ٹی وی سے متعلق بھی تھی  
لیکن اس روایت کی عمر صرف اینڈرائڈ موبائل آنے تک تھی  
جب سے انٹرنیٹ 4G ہوا ہے اور اینڈرائڈ موبائل ہماری زندگیوں میں آکسیجن جتنی ضرورت بن گیا ہے  
تب سے پڑوسی کی بہن میری بہن نہیں رہی اور نہ اس کی بیٹی میری بیٹی رہی ہے  
پہلے گھروں میں جانے کا رواج عام تھا اور اب دروازے پر انتظار کرنا پڑتا ہے  
اب نہ دکھ سانجھے رہے ہیں اور نہ فلمیں  
یہ ماڈرن دنیا ہے اب آنگنوں میں ٹی وی نہیں چلتے  
اور دکھوں کا بانٹنا انسانوں سے زیادہ سوشل میڈیا کی اسکرینوں سے جڑ گیا ہے۔

چند سال پہلے آصو نے خودکشی کر لی تھی  
وہ میرے سامنے مر گیا اور میں اس کے گال اپنے ہاتھوں میں بھر کر اسے آوازیں دیتا رہا  
اس کا رنگ پھیکا پڑ گیا اور دل کی دھڑکن رک گئی تھی  
اس کے منہ سے نکلتی جھاگ دیکھ کر میں ایسا وحشت زدہ ہوا کہ گھر کی طرف بھاگ گیا  
اور جنازے میں بھی شامل نہیں ہوا  
اس کے مر جانے کے بعد ہوٹل تو اسی طرح چلتا رہا لیکن جو وہاں بیٹھتے تھے ان کے پاس اینڈرائڈ موبائل آ چکے تھے  
تیس روپے کا پیکج نیلی سے لے کر ہر رنگ کی مووی گھر بیٹھے دیکھی جانے لگی  
اور سیاست پر تبصرے بھی باہم جڑے رہنے کی بجائے  
سوشل میڈیا پر ہونے لگے  
میں گاؤں میں جب بھی جاتا ہوں تو میرے کچھ مردہ لمحات وہاں پر ضرور کٹتے ہیں  
ٹی وی اسی طرح پڑا ہے لیکن بند ہے صرف اس لئے کہ دیکھنے والا کوئی نہیں  
اور نہ اب چائے کے دور چلتے ہیں کیونکہ زندگی کی گاڑی اب اتنی تیز ہو چکی ہے کہ وہاں بیٹھنے کا وقت کسی کے پاس بھی نہیں بچتا  
فلم جو سماجی جڑت کا ایک ذریعہ تھی اب پرسنل چوائس بن کر رہ گئی ہے  
یہ ان دنوں کی بات ہے جب بلیو پردے پر بھی نکھرنے والی پکچرز اجتماعی طور پر دیکھی جاتی تھیں  
میں ٹی وی والی جنریشن ہوں جو وی سی آر اور اینڈرائڈ موبائل والی جنریشن کے درمیان میں آتی ہے  
یہی سبب ہے کہ میں جدت میں بہتا ہوں اور ماضی کی طرف لپکتا ہوں  
دیہاتوں کی فضا میں اب فطری خالصیت نہیں رہی کیونکہ وہ شہروں کی پیروی میں چل نکلے ہیں  
اور زندگی خالص کی بجائے میکانکی ہو گئی ہے۔

میں سندھ کے پسماندہ علاقوں میں آوارہ گردی کرنے نکلا ہوا ہوں  
سندھڑی کے ان باسیوں کی زندگی کی خوشیاں اور ضرورتیں ابھی تک اینڈرائڈ موبائلز سے نہیں جڑیں  
یہی وجہ ہے کہ یہ سنی لیونی، میہا خلیفہ جیسے کرداروں سے واقف نہیں ہیں  
لیکن انہیں اجے، سیٹھی، اکشے سب کے نام یاد ہیں  
ڈھابے لگے ہیں، مل بیٹھنے کا رواج عام ہے  
چائے کی ایک پیالی پر دو دو فلمیں دیکھنے کا وقت سب کے پاس ہے  
ان کا ترقی سے دوری کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے
کہ ان کے بچے پب جی جیسی نعمت سے مالامال نہیں ہو سکے۔

ٹنڈو آدم میں ایک دوپہر میرا دامن پکڑے کھڑی
اور شام مجھے خود میں بھینچ رہی تھی لیکن مجھے شام کی طرف جانا تھا۔
میں وین کی چھت پر بیٹھا تو میرے ارد گرد ایسے کئی ڈھابے تھے جہاں زندگی سستا رہی تھی
اور سارے دکھ سگریٹ میں پھونکے اور چائے کے گھونٹ میں نگلے جا رہے تھے
یہ لوگ اینڈرائڈ موبائل جیسی نعمت سے محروم ہیں  
اسی سبب سے ان کے لئے فلم اجتماعی جڑت کے طور پر موجود ہے  
وہاں بہت سے آصو موجود ہیں جو زندگیاں جوڑنے اور دکھ سانجھے کرنے کے بہانے تراشتے رہتے ہیں  
مجھے ان سب کا مل بیٹھنا اچھا لگا لیکن میں گہری اداسی میں کھویا جا رہا تھا  
”کیا سندھ کے آصو بھی میرے گاؤں کے آصو کی طرح اپنے دکھ کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی موت آپ مر جائیں گے“۔

Post a Comment

Previous Post Next Post