سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

مکہ کے مشرکین سردار اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ملٹری و سیاسی قیادت کا موازنہ




مکہ کے مشرکین سردار اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ملٹری و سیاسی قیادت کا موازنہ!

جب رسول اللہﷺ نے اعلانِ نبوت کیا اور دعوتِ توحید شروع کی تو مکہ کے سرداروں نے اپنے شرکیہ عقائد کے دفاع کے لیے نبی کریمﷺ کی مخالفت شروع کر دی، یہ مخالفت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتنی تیز ہوئی کہ ایک وقت ایسا آ گیا جب مکہ کے مشرک سرداروں نے آپﷺ کو شہید کرنے کا پلان تک بنا لیا۔

اللہ تعالی نے اپنے محبوبﷺ کی حفاظت فرمائی اور ہجرت کا حکم فرمایا، آپﷺ کے پاس مکہ کے لوگوں کی کچھ امانتیں تھیں جن کو واپس کرنے کی ذمہ داری حضرت علیؓ کو سونپی گی۔
نبی اکرمﷺ حضرت ابوبکرصدیقؓ کے ہمراہ ہجرت کے سفر کے لیے چل دیے، مکہ کے مشرک سرداروں نے نبی پاکﷺ کی تلاش شروع کی تو آپﷺ کے گھر پہ حضرت علیؓ کو پایا،، حضرت علیؓ سے پوچھ گچھ کے بعد ابوبکرصدیقؓ کے گھر کا رخ کیا، نبیﷺ اور صدیقؓ کی دوستی ہی ایسی تھی کہ کفار مکہ کو یقین تھا نبیﷺ صدیقؓ کے گھر ہونگے۔

جب صدیقؓ کے گھر گے تو نہ صدیقؓ کو پایا نہ ہی نبیﷺ کو، غصے سے آگ بگولہ ہو گے کہ وہ اپنے مکروہ منصوبے میں ناکام ہو گے تھے، اللہ تعالی نے اپنے نبیﷺ کی حفاظت فرمائی۔

اب مین پوائنٹ نوٹ کریں!!

وہ کافر تھے، نبیﷺ کے بدترین دشمن تھے، آپﷺ کی جان لینے کی ناپاک سازش کر چکے تھے، مگر نہ تو نبیﷺ کے بستر پر لیٹے ہوئے حضرت علیؓ کو نقصان پہنچایا اور نہ ہی صدیقؓ کے گھر کی خواتین کو اغواہ کیا کہ ہم عورتوں کو اٹھائیں گے تو صدیقؓ سامنے آئے گا اور نبیﷺ کا پتہ بتائے گا، نہ حضرت علیؓ کو اغواء کیا کہ نبیﷺ کو بلیک میل کر کے سامنے لائیں گے۔

یہ تھا اللہ اور نبیﷺ کے بدترین دشمنوں کا اخلاقی اقدار، وہ فرسٹریشن کی حد تک جا کر بھی اخلاقی اقدار نہیں بھولے۔

جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ارباب اختیار اور طاقتور لوگوں کے اخلاقی اقدار کا عالم یہ ہے، اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لیے اختلاف رائے رکھنے والوں سے بدلہ لینے کے لیے، اپنے ناجائز کاموں کو بڑھانے کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کو اغواہ کیا جاتا ہے، ان کے بچوں اور خواتین تک کو اغواہ کر لیا جاتا ہے، ان کے کاروبار تباہ کر دیے جاتے ہیں۔
 
ان کی خواتین کے پرسنل لمحات کی خفیہ ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا ہے، گرنے کی حد سے بھی نیچے تک گرتے ہیں۔

میڈیا پر قرآن کی آیتیں پڑھ پڑھ کر ان کے مفہوم بیان کر کے لوگوں کو امپریس کرتے ہیں مگر اندرون خانہ ان کے کرتوت سے شیطان بھی پناہ مانگ لیتا ہے۔ 

بچوں عورتوں کو اغواہ کر کے مردوں کو بلیک میل کر کے اپنے ناجائز مقاصد پورے کرنے والے اخلاقی اقتدار کے لحاظ سے کفار مکہ سے بھی گرے ہوئے ہیں، مگر یہ کہتے خود کو مسلمان ہیں، یہ مسلمان کی شان ہو سکتی ہے۔
مسلمان بغیرت دلا نہیں ہوتا، مسلمان غیرت مند اور حیا والا ہوتا ہے، آج پھر اک غیرآئینی اقدام کے لیے لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے، بچے اغواہ کیئے جا رہے ہیں، عورتوں اور گھروں کے تقدس کی پامالی ہو رہی ہے۔

خدا کی قسم تمہارے کردار سے نفرت ہو چکی ہے، تم انسان کہلانے کا حق بھی کھو چکے ہو، خدارا اتنی سرکشی مت کرو، جھانکو اک بار اپنے گریبان میں، اپنے کرتوتوں کا موازنہ اس دور کے کافروں سے کر کے دیکھو، تم اخلاقی اقدار کے لحاظ سے ان سے خود کو گرے ہوئے پاؤ گے۔

یہ مشکل یہ مصائب یہ تلخیاں ہم تو سہہ لیں گے، تم ہمیشہ کے لیے ذلت کا نشان بن جاؤ گے، آئندہ نسلیں تم پر تھو کریں گے، تم اپنے مقاصد پا کر بھی دونوں جہاں کی ذلت کے سوا کچھ نہ پاؤ گے۔ 

اور ہاں اللہ کا قانون اٹل ہے، وہاں نہ تو قانون سازی کی گنجائش ہے اور نہ ہی دباؤ ڈالنے کی، اس کی عدالت میں انصاف ہوتا ہے عدل ہوتا ہے، اور مجرموں کو ان کے کرتوتوں کے عین مطابق سزا ہوتی ہے۔

ہماری دعائیں ہیں اللہ تعالی اس دنیا میں تمہیں تمہارے کرتوتوں کی سزا دے اور رہتی دنیا کے سامنے تمہیں نشانِ عبرت بنائے۔ آمین ثم آمین

بقلم: محمداشرف

Post a Comment

Previous Post Next Post