سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

کراچی موسمی شدت کے باعث ناقابل رہائش شہر بن سکتا ہے


کراچی موسمی شدت کے باعث ناقابل رہائش شہر بن سکتا ہے 

گزشتہ 20 سال میں کراچی کے رہائشی علاقوں کےسبز احاطے میں47 فیصد کمی آئی۔۔ماحولیاتی نظر اندازی نے دن کے ساتھ اس شہر کی راتیں بھی گرم کردی ہیں۔۔ماہرین خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ مارچ سے ستمبر تک ایسی ہی گرمی کی شدت رہی تو کراچی موسمی شدت کے باعث ناقابل رہائش شہر بن سکتا ہے۔۔

ایک وقت تھا جب کراچی کا ہر محلہ ہرابھرا  ہوا کرتا تھا اور گھردرختوں کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے۔  یہاں کے حسین موسم کی مثالیں دی جایا کرتی تھیں ۔لیکن پھر ترقی ہوئی اور اس  کی قیمت ہم نے سبز ہ اکھاڑ کر ٹائلز  کی صورت میں ادا کی ۔پھر یہ شہردراصل کرہ ارض پر ایک ایسے مقام پر موجود ہے جسے الٹراوئلنٹ زون کہا جاتا ہے یعنی یہاں سورج کی شعاعیں زیادہ شدت اور زیادہ دیر تک یہاں پڑتی ہیں ۔ درختوں کی کمی شدت سے اس وقت محسوس ہوتی ہے جب گاڑی پارک کرنے کے لئے چھاوں نہیں ملتی ، سائے دار راہداروں کی کمی چہل قدمی کی حوصلہ شکنی کردیتی ہے۔۔
سبزے کی کمی والے علاقوں میں لانڈھی کے کچھ علاقے،کورنگی،شاہ فیصل شامل،
ضلع وسطی،غربی، جنوبی اور کیماڑی کے علاقے بھی شامل ہیں

60 سال کے دوران کراچی میں دن اور رات کے درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ 
دن کے درجہ حرارت میں 1.6 اور رات کے درجہ حرارت میں 2 سے 4 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا
کراچی میں راتیں ممعول سے زیادہ گرم ہوچکی ہیں
ساحلی شہر ہونے کے باعث بڑھتے درجہ حرارت کے ساتھ نمی کا تناسب بھی زائد ہوجاتا ہے
نمی کا تناسب زائد ہونے سے محسوس کیا جانے والا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے
مئی کے پہلے ہفتے میں درجہ حرارت کی شدت 50 سے 51 ڈگری سینٹی گریڈ محسوس کی گئی
مارچ سے ستمبر تک ایسی ہی گرمی کی شدت رہی تو کراچی ناقابل رہائش شہر بن سکتا ہے
ناقابل رہائش سے مراد بچے بوڑھے اور خواتین کے لئے دن کے اوقات میں باہر نکلنا مشکل ہوجائے گا
پاکستان زمین پر ایک ایسے خطے میں ہے جہاں سورج کی شعاعیں زیادہ وقت کے لئے پڑتی ہیں
رہائش کی بڑھتی ضروریات اور ترقیاتی کاموں کے باعث سبز احاطہ کم ہورہا ہے

ایک گھر،ایک درخت کا کلچر کراچی سے ختم ہوگیا، 

80 گز کے مکان میں درخت کا کوئی تصور نہیں،

نجی تنظیم کے سروے کے مطابق گرین لائن منصوبے میں 17 ہزار درخت اکھاڑے گئے

درختوں کو اکھاڑنے سے آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا توازن بگڑ رہا ہے

ہوا کے معیار پر بھی سمجھوتہ ہورہا ہے،  

سڑکیں چوڑی کرنے اور دیگر میگا پروجیکٹس کے نام پر درخت ختم کئےجارہے ہیں

ایک درخت اکھاڑ نے کی جگہ چار پودے لگانے کا کہا جاتا ہے 

سیٹلائیٹ میں سبز احاطے میں کوئی اضافہ نظر نہیں آتا 

شہری ایک گھر ،ایک درخت کا اصول اپنائیں
گھروں کے باہر کیاری اور بالکونی میں پودے رکھیں
سبز احاطہ بڑھنے سے ماحولیاتی تبدیلی اور بڑھتے درجہ حرارت سے نبٹا جاسکتا ہے.کونوکارپس کو بھی یوں اکھاڑ کر نہیں پھینکا جائے۔ 
نیم ،پیپل اور دیگر اقسام کے مقامی درخت لگائے جائیں، 

کراچی کے قبرستان اربن فاریسٹ بن چکے ہیں

زندہ انسانوں کے لئے بھی درخت لگائے جائیں

سڑکیں چوڑی کرنے اور دیگر میگا پروجیکٹس کے نام پر درخت اکھاڑ کر کئی  پودے لگانے کا وعدہ وفا ہورہا ہوتا تو سیٹلائیٹ میں  کراچی کنکریٹ کے  جنگل کے طور پر  آنکھوں میں نہ چبھتا۔ ماہرین شہریوں کو بھی  ایک گھر ،ایک درخت کا اصول اپنانے کی ہدایت کررہے ہیں

Post a Comment

Previous Post Next Post