حمود الرحمن کمیشن رپورٹ ایک پاکستانی دستاویز ہے جو 1971 کی جنگ کے دوران مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات کے لئے بنائی گئی تھی۔ اس کمیشن کا پورا نام "حقیقت معلوم کرنے کے لئے حمود الرحمن کمیشن" ہے۔ اسے 1972 میں تشکیل دیا گیا تھا اور جسٹس حمود الرحمن، اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان، اس کمیشن کے سربراہ تھے۔
رپورٹ کے مقاصد
نمبرایک.1971 کی جنگ کے اسباب اور واقعات کی تحقیقات: اس میں خاص طور پر پاکستانی فوج کی ناکامیوں اور ان کی وجوہات کا جائزہ لیا گیا۔
نمبر2.فوجی اور سیاسی حکمت عملی کی ناکامی: رپورٹ میں فوجی اور سیاسی حکمت عملی کی ناکامیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
نمبر3. مستقبل میں ایسی غلطیوں سے بچنے کے لئے سفارشات: کمیشن نے آئندہ ایسی غلطیوں سے بچنے کے لئے مختلف سفارشات پیش کیں۔
اہم نکات
نمبر1.فوج کی کارکردگی: رپورٹ میں پاکستانی فوج کی کارکردگی پر سخت تنقید کی گئی اور اس میں کمانڈ اور کنٹرول کی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔
نمبر2. سیاستدانوں کا کردار: سیاسی قیادت کی ناکامیوں اور ان کے فیصلوں کی غلطیوں کا ذکر بھی رپورٹ میں کیا گیا۔
نمبر3. انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: رپورٹ میں جنگ کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں کا ذکر بھی شامل ہے۔
سفارشات
نمبر1.فوجی اصلاحات: فوج کی تنظیم اور تربیت میں بہتری لانے کے لئے مختلف تجاویز دی گئیں۔
نمبر2.سیاستدانوں کے لئے ذمہ داری کا تعین: سیاستدانوں کی جوابدہی اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لئے اقدامات تجویز کیے گئے۔
نتیجہ
حمود الرحمن کمیشن رپورٹ ایک حساس اور اہم دستاویز ہے جو 1971 کی جنگ کے بارے میں تفصیلی تجزیہ پیش کرتی ہے۔ اس رپورٹ نے پاکستانی معاشرے میں مختلف موضوعات پر بحث و مباحثے کو جنم دیا اور ملکی دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
یہ رپورٹ عوامی طور پر مکمل طور پر شائع نہیں ہوئی اور اس کے بعض حصے خفیہ رکھے گئے، تاہم وقتاً فوقتاً اس کے کچھ حصے میڈیا میں سامنے آتے رہے ہیں۔
