رسول اللہ ﷺ کا خواب یا قبر میں دیدار ، اللہ پاک کا خواب میں دیدار
۱: رسول اللہﷺ کا دیدار : ایک روایت کی وجہ سے جسے دیکھو وہ رسول اللہ ص کے خواب میں دیدار کا دعویٰ لیا بیٹھا ہوتا ہے۔ وہ روایت صرف رسول اللہ ص کے زمانے کے لوگوں کے لئے ہے جنھوں نے حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھ رکھا تھا۔ روایت میں “ من رانی” جس شخص نے مجھے دیکھا کسی صحابی کے خواب پر رسول اللہ ﷺ کا تبصرہ ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ہے وہ عنقریب مجھے جاگتی آنکھوں بھی دیکھے گا۔ مکہ میں کچھ لوگ رہ گئے تھے جو ایمان کا برملا اعلان نہ کرسکتے تھے اور جزیرہ عرب پر رسول اللہ ص کے غلبے کی پیشن گوئیوں کی تکمیل کے منتظر رہتے تھے ۔ ان میں سے یا کسی اور ایسی بستی میں کہ جہاں اہل ایمان بری حالت میں تھے ان میں سے کسی نے خواب میں رسول اللہ ص کو ان پیشن گوئیوں کی تکمیل کے ساتھ دیکھا تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے بشارت سنائی کہ وہ شخص کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ہے وہ عنقریب جیتی آنکھوں بھی مجھے دیکھے گا۔
ایک تصور یہ بھی ہے کہ قبر میں رسول اللہ ﷺ کا دیدار کروایا جائے گا۔ یہ بھی بے اصل بات ہے۔ ایک روایت میں برزخ کے کچھ سوالات کا زکر ہے جو کچھ لوگوں ( مثلاً رسول اللہ ص کے براہ راست مخاطبین ) سے ہونے ہیں ۔ ان میں ھذا الرجل کے لفظ سے یہ نتیجہ نکال لیا گیا ہے۔ جبکہ ھذا کے لفظ سے ضروری نہیں ہوتا کہ جس کے بارے میں بات ہورہی ہو وہ بھی زاتی طور پر خود قریب موجود ہو۔ جواب دینے والے کا جواب “ ھو “ یعنی غیب کے صیغے سے ہے۔ بلکہ مسند احمد کی روایت میں مزید واضح ہے کہ سوال کرنے پر پوچھنے والا “ من “ کہہ کر پوچھے گا کہ کس کی بات ہورہی ہے۔ اس پر سوال کی مزید وضاحت کی جائے گی کہ کن شخصیت کے متعلق پوچھا جارہا ہے ۔ اس لئے روایت سے کوئی عقیدہ اگر بنانا بھی ہے تب بھی ان روایات سے قبر میں رسول اللہ ﷺ کے دیدار والی بات ثابت نہیں ہوتی ۔ ورنہ ایمانیات ، عقائد و تصورات بنانے کے لئے جو چیز سورس ہے وہ قرآن مقدس ہے۔
۲: اللہ پاک کا خواب میں دیدار : یہ بھی بالکل بے اصل بات ہے۔ جب اللہ کسی کے مثل ہی نہیں تو پھر یہ دیدار کس کی تمثیل میں ہوتا ہے ؟ دیدار ہونا تو بہت دور کی بات اللہ پاک سے کلام کی بھی ایک صورت ہے اور وہ بھی حجاب سے ہوتی ہے۔ اس کی بھی مثال صرف موسی ع کے معاملے میں ملتی ہے اور موسی ع نے بھی اس کے بعد جس اس سے بھی بڑی چیز کی تمنا کی وہ رویت کی تمنا تھی اور اس پر انھیں لن ترانی کہہ دیا گیا۔ لن ترانی ( تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ) اس لئے کہہ دیا گیا کیونکہ ابصار اس کا ادراک یا تصور ہی نہیں کرسکتیں چہ جائیکہ اسے دیکھ سکیں۔ اس لئے خدا کو خواب میں دیکھنے والوں نے کبھی خدا کی ھیت بیان کیوں نہ کی انھوں نے جسے دیکھا وہ کیسا تھا ؟ ایک طرف عرش و کرسی پر استوی اور ہاتھ پاؤں کو بھی مجازی معنوں میں لینا اور دوسری طرف اللہ پاک کو سو سو دفعہ خواب میں دیکھنے کی بھی گپیں۔ کسی کو خواب میں دیکھنے اور جاگتے دیکھنے میں بھلا فرق کیا ہے ؟مجھے اگر کسی کو دیکھنے کی خواہش ہو اور میں اسے جاگتے ہوئے ایک جھلک دیکھ لوں ، ٹی وی میں دیکھ لوں یا خواب میں دیکھ لوں تو فرق کیا پڑا ؟ اگر ایمان اپنی اصل میں ایمان بالغیب کا نام ہے تو آخری درجے میں غیب تو خدا کی زات ہے ۔ اگر خدا کو ہی دیکھ لیا تو پھر ایمان بالغیب کی شرط کے لئے کیا پیچھے بچے گا ؟ جس نے جبرائیل ع کو بھی دیکھ لیا لیکن خدا کو نہ دیکھا تو اس کے ایمان بالغیب کے لئے خدا کی زات ابھی بھی موجود ہے ۔ لیکن جس نے خدا کو ہی دیکھ لیا اس کے ایمان بالغیب کے لئے پیچھے کیا بچا؟
