پرسنل ڈیٹا انفارمیشن
بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پرسنل ڈیٹا سے مراد ہماری تصویریں، ویڈیوز،فون نمبر، ایڈریس وغیرہ ہیں تو یہ بلکل بے بنیاد اور غلط سوچ ہے۔۔۔
ایپس اور ویب سائٹ جو پرسنل ڈیٹا ایک دوسرے سے شیئرکرتی ہیں اس سے مراد صارف کی پسند نا پسند کے متعلق معلومات لینا ہوتا ہے نہ کہ پرسنل تصویریں یا ویڈیوز وغیرہ۔۔۔
سب سے پہلا سوال تو یہ بنتا ہے کہ ان کمپنیز نے ہماری بنائی گئی ویڈیوز یا تصویروں سے کیا کرنا ہے جو ان کو چوری کرنی پڑیں۔۔۔
پرسنل ڈیٹا سے مراد ہر صارف کی ذاتی پسند یدہ ٹیگز، کی ورڈ، سرچنگ لسٹ، اشیاء، پروڈکٹس، ہابیز ہوتی ہے کہ نہ کہ پرسنل ڈیٹا سے مراد ذاتی تصویریں، ویڈیوز یا کنٹیکٹ ہوتی ہیں۔۔۔
پرسنل ڈیٹا انفارمیشن سے مراد ہوتا ہے " کوکیز"
اب یہ کوکیزہوتی کیا ہیں؟؟؟
ایچ ٹی ٹی پی کوکیز، ویب کوکیز، انٹرنیٹ کوکیز، براؤزر کوکیز ان سب کا کام ایک ہی ہے۔۔۔
آسان الفاظ میں کوکیز کا مطلب ہے رہنماء، مانیٹر یا مشیر۔۔۔
آپ نے نوٹ کیا ہوگا ہم گوگل پر کوئی چیز سرچ کرتے ہیں، کسی پسندیدہ پروڈکٹ کو تلاش کرتے ہیں تو ہمارے فیس بک، انسٹاگرام، ٹیوٹر وغیرہ پر اسی پروڈکٹس کے متعلق اشتہارات آنے لگتے ہیں۔۔۔
پرسنل ڈیٹا سے مراد بھی یہی ہے کہ کوکیز دیکھتی ہیں کہ اس بندے نے کیا سرچ کیا، اس کی پسندیدہ اشیاء کون سی ہیں، اس نے کون کون سے کی ورڈ سرچ کئے، کون کون سی پروڈکٹ آرڈر کی، اس کو کس طرح کی ویڈیوز پسند ہیں، یہ زیادہ تر کون سی ویب سائٹ استعمال کرتا ہے، اس کا پسندیدہ برانڈ کو ن سا ہے، پسندیدہ کھانا کون سا ہے، باہمی چیٹ میں کون کون سے کی ورڈ استعمال ہوتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہم گوگل، یوٹیوب یا کسی بھی جگہ کوئی چیز بار بار سرچ کرتے ہیں تو اگلی بار اسی متعلق اور اسی کیٹاگری کی اشیاء سامنے آتی ہیں اور ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ اسی کیٹاگری اور طرح کی مزید اچھی پروڈکٹس اور ویڈیوز یہ بھی ہیں۔۔۔
اب ہوتا یہ ہے کہ ہر ویب سائٹ کی اپنی کوکیز ہوتی ہیں اور وہ کوکیز اپنے متعلقہ اشیاء کو ہی ٹارگٹ کر کے صارف کو انفارمیشن دیتی ہیں ہر ویب سائٹ اوپن کرنے کے بعد آپ کو ایکسپٹ کوکیز ، الاؤ کوکیز، ایگری کوکیز کا پاپ اپ کھلتا ہے کہ یہ ویب سائٹ آپ کی کوکیز تک رسائی چاہتی ہے۔۔۔
مثال کے طور پر آپ امازون پر کوئی پروڈکٹ تلاش کرتے ہیں توامازون کی اپنی کوکیز ہوں گی جو کسٹمر کو پروڈکٹ تلاش کرنے میں اور مزید ریکمنڈڈاور سملر پرودکٹس کی طرف رسائی کو آسان بناتی ہے۔۔۔
آپ کسی ویب سائٹ پر لاگن ہوتے ہیں اپنا یوزر نام ، پاسوڑد دیتے ہیں تو اس ویب سائٹ کی کوکیز آپ کو آپشن دیتی ہیں کہ آپ ایک بار اپنا پاسورڈ اور یوزر نیم اس ویب سائٹ پر سیو کر لیں تاکہ ہر بارلاگن کرنے کے لئے آپ کو باربار پاسورڈ نہ دینا پڑے، اسی طرح کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ کا بھی سیم آپشن آتا ہے کہ ایک بار متعلقہ بنک یا کمپنی کی کوکیز آپ کے یوزر نیم اور پاسورڈ کو سیو کرلیتی ہیں۔۔۔
ان کوکیز کے فائدے بھی ہیں اور کچھ معاملات میں نقصان بھی ہے۔۔۔
فائدہ ایسے کہ آپ کا وقت بچ جاتا ہے، مزید پرودکٹس یا مطلوبہ اشیاء تلاش کرنے اور زیادہ بہتر چیز ملنے میں کوکیز مدد کرتی ہیں قابل اعتماد اور بھروسہ مند ویب سائٹ اور کمپنیز کبھی بھی اپنے کسٹمر کی کوکیز کو تھرڈ پارٹی سے بچانے کے لئے ویری سائن یا دوسری سیکورٹی کمپنیز کی مدد لیتی ہیں جن میں ہر ویب سائٹ کی کوکیز پرٹریکنگ سیکورٹی لگی ہوتی ہے ۔۔۔
لیکن نقصان تب ہوتا ہے جب تھرڈ پارٹی آپ کی کوکیز چوری کرنے کے لئے آپ کو مختلف طریقوں سے بلاتی ہیں مثلاً آپ کسی ڈاؤن لوڈایبل ویب سائٹ پر جا کر من پسند ویڈیو یا کوئی چیز ڈاؤ ن لوڈ کرتے ہیں تو ایک نیو پاپ اپ کھلتا ہے جو آپ کو کوکیز الاؤ کے لئے مجبور کرتی ہیں یہاں احتیاط کی ضرورت ہے کہ جس کمپنیز یا ویب سائٹ کے ساتھ آپ کا تعلق نہیں، آپ کا اس ویب سائٹ پر اکاؤنٹ نہیں تو کبھی بھی اس کی کوکیز الاؤ یا ایکسپٹ نہ کریں۔۔۔
اس لئے آن لائن بنک، آن لائن پیمنٹ، آن لائن آرڈر کے لئے گوگل کروم ، فائر فاکس یا مائکروسافٹ کا اپنا انٹرنیٹ براؤزر استعمال کریں۔۔۔
رہی بات ہماری پرائیویسی کی تو آن لائن فیلڈ میں کسی بندے کی پرائیوسی محفوظ نہیں ہے۔۔۔
ہم اپنی معلومات اپنا پرسنل ڈیٹا بہت پہلے سے سب کو دے چکے ہیں اور گوگل، فیس بک، ٹیوٹر، انسٹاگرام، گوگل پلے سٹور وغیرہ ہمارا ڈیٹا سے بہت اچھی طرح واقفیت رکھتا ہے۔۔۔
یہ سب کمپنیز صارفین کا ڈیٹا ایک دوسرے سے اس لئے شیئر کرتی ہیں کہ اشتہارات، ایڈواٹائزنگ کے لئے اپنے مطلوبہ صارف تک رسائی حاصل کی جاسکے۔۔۔
جس بندے کو اپنی پرائیوسی کی زیادہ فکر ہو تو اس کو چاہئے وہ نہ تو سمارٹ فون استعمال کرے، نہ ہی کمپیوٹر لیپ ٹاپ پر نیٹ استعمال کرے۔۔۔
ظاہر سی بات ہے جب آپ کوئی موبائل یا کمپیوٹر خریدتے ہیں اور موبائل، یا کمپیوٹر استعمال کرنے کے لئے آپ کو ایک عدد جی میل آئیڈی کی ضرورت رہتی ہے اس کے بغیر کوئی چارہ کار ہی نہیں تو آپ سب سے پہلے گوگل کو ہی اپنی معلومات فراہم کر دیتے ہیں گوگل کا اکاؤنٹ تب ہی بنے گا جب آپ اس کی ٹرمز اینڈ کنڈیشن ایکسپٹ کریں گے اور اس کی ٹرمز اینڈکنڈیشن میں یہ بات واضح طور پر لکھی ہوئی ہے کہ گوگل آپ کے ڈیٹا کی رسائی کرے گا۔۔۔
باقی رہی یہ بات کہ فلاں ایپ قابل اعتبار نہیں، فلاں کمپنی ڈیٹا چوری کرتی ہے، فلاں ایپ صحیح نہیں تو بات یہ ہے کہ اس طرح پھر ہمارا موبائل یا کمپیوٹر ہی قابل اعتبار نہیں کیوں کہ سب کام یہیں سے تو شروع ہوتے ہیں۔۔۔
اس لئے یہ بات کہنا کہ واٹس اپ یا فیس بک قابل اعتبار نہیں کیوں کہ یہ ہمارا ڈیٹا شیئر کرتی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس دن آپ نے جی میل آئیڈی بنائی تھی، جس دن موبائل لیا تھا، جس دن اس میں پلے سٹور یا یوٹیوب چلایا تھا تب سے ہی آپ کی معلومات تمام کمپنیز ایک دوسرے سے شیئر کر رہی ہیں۔۔۔
ایک بار دوبارہ ذہن نشین کر لیں کہ اس پرسنل ڈیٹا سے مراد ہمارے موبائل میں موجود تصویریں، ویڈیوز،کنٹیکٹ لسٹ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کمپنیز کو آپ کے موبائل میں موجود ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے نہ ایسا ہوسکتا ہے، اس پرسنل ڈیٹا سے مراد آپ کی پسند نا پسند آپ کی سرچنگ ہسٹری ہے بس۔۔۔
خواہ مخواہ فیس بکی دانشوروں اور ادھر ادھر کی غیر مصدقہ خبروں اور لوگوں کی باتوں میں نہ آیا کریں۔۔۔
بلکہ ہر معاملے کی خود چھان بین کریں، گوگل کر لیا کریں، ٹیکنالوجی کے ماہرین سے پوچھ لیا کریں۔۔۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
حامد حسن
