ایک عورت کے حقوق کیا ہیں؟
اُسکی پریشانیاں کیا ہیں؟ اُسکے ذہن میں مختلف مذہبی،قومی،سماجی تصورات کو لیکر کیا تحفظات اور شک و شبہہ اور سوالات ہیں؟
گھر میں،خاندان میں،قوم میں،سماج میں اُسکا مقام کیا ہے اُنہیں لیکر خود عورت کیا سوچتی ہے؟
یہ سب کوئی نہیں پوچھتا نہ اکثریت جاننے کی زحمت کرنا چاہتی ہے بلکہ اکثریت نے اُن نکات اور چیزوں کو "عورتوں کے بنیادی" حقوق کا نام دے رکھا ہے جس میں اُنکے ناجائز تسلط اور ظلم کو جاری رکھنے کے جوہرات ہیں۔۔۔یہاں اکثریت سے مراد اُن سطحی اور ناقص العقل لبرل/سیکیول/ریلیجس لوگ اور تنظیمیں مراد ہیں جو مروجہ نظام کے سائے تلے سماج کی تشکیل میں بنیادی اور اول درجہ رکھنے والے انسان یعنی عورت کی ذہنی و تخلیقی پہلوؤں کو مسخ شدہ رکھنے کیلئے فضول و بے بنیاد مباحث کرتے ہیں اور اپنی اپنی طرف سے عقل کا بیڑا غرق کرنے والے تصورات پیش کرتے ہیں۔ ایک طرف ہے کی عورت کو ننگا کرکے،سماجی و معاشرتی زندگی سے نکال کے ایک بازاری شئے بنانے پر اپنی تبلیغ کرتا ہے اور ایسے ایسے دلفریب الفاظ اور جملوں کا استعمال کرتا ہے کی عورتیں بھی جو مروجہ سماج کی جاہلانہ سے تنگ ہوتی ہیں انکی باتوں میں آجاتی ہیں پھر ایک ظلم اور جہالت کی چکی سے نکل کر دوسرے میں جاکر گر جاتی ہیں،دوسرا طرف ہے کی وہ اسلام،دین اور مذہب کے نام پر عورت کو ایک کپڑے میں پیک کرنے،ناقص العقل ثابت کرنے میں،مرد سے کمتر ثابت کرنے میں آدھا انسان ثابت کرنے میں لگا رہتا ہے اور پھر عورتیں اس طرف بھی آجاتی ہیں
میں نے دونوں اطراف میں عورتوں کی ذہنیت کو مفلوج اور غلامانہ طرز پر پایا ہے،دونوں کے یہاں سوچنے کی اور سوال کرنے کی صلاحیت ختم ہے۔
حرفِ_آخر۔
آج ضرورت ہے کی ایک عورت ان سوالات پر غور کرے اگر عورت بنیاد ہے کسی معاشرے اور اُسکے نئی نسل کی تربیت اور تعلیم کی تو خود عورت کو شعوری اور آزادی کے بنیاد پر مدرسے یاں اسکول میں تعلیم کیوں نہیں دی جاتی؟ عورت کو انسان سمجھنے اور پیش کرنے کی جگہ یہ چند ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک پراڈکٹ اور استعمال ہونے والی شئے کے طور پر کیوں پیش کرتے ہیں؟؟ عورت آخر کیوں خود کو حُسن کی رانی کے مخملی پھول میں بنانے میں غرق ہے کس نے اس خیال میں عورت کو لایا؟؟؟ آخر عورت انسان بننے کی جگہ ایک چیز خود سے بھی کیوں بن رہی ہے؟؟، کیا وجہ ہے کی ایک مرد دن کے 7 سے 12 گھنٹے کام کرنے کے باوجود اتنی اجرت،تنخواہ اور مزدوری نہیں پاتا کہ ی اُسکے گھر کی بہن،بیٹی،ماں اور دوسری عورتوں کو انٹر کرنے کے بعد کسی نہ کسی طرح مرد کی طرح کہیں اجرت،مزدوری پر مقرر ہونا پڑتا ہے؟؟ آخر مرد جو جہاں محنت کرتا ہے اُسکی آدھے سے زیادہ کمائی کون ہتھیا کر لیجاتا ہے اور پھر عورت کو بھی مرد کے ساتھ مزدوروں میں اُتار دیتا ہے جسے گھر بھی چلانا ہوتا ہے،بچے بھی پالنے،اور پھر مزدوری بھی کرنی،کیا عورت کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کی اُسے انسانیت, تاریخ انسانی،فلسفہ و سائنس،مذہب و ملت،انسان جیسے موضوعات پر سوچنے،تحقیق کرنے کا موقعہ میسر ہو،کیا عورت کو اتنا وقت اور ٹائم نہیں ملنا چاہیئے کی وہ کچھ دیر کیلئے #پرسکون بھی ہوسکے،کیا عورت کو شعوری تعلیم اور تربیت کیلئے وقت نہیں ملنا چاہیے؟؟ کیا وجہ ہے کی ایک عورت کو بڑے بڑے داڑھی اور بڑے پیٹ والے مذہبی پیشواؤں کی اندھی تقلید میں خود کو انسانی درجے سے گرا کر ایک بے روح بت بنا دیتی ہے؟ کیا وجہ ہے کی دوسری طرف موجود بڑے پیٹ والے کلین شیو نام نہاد سیکولر اور لبرل پیشواؤں کی اندھی تقلید میں عورت خود کو انسانی درجے سے گرا کر وہ بے روح بت بنا دیتی ہے جو بازار میں کسی شو پیس کی طرح موجود ہو؟؟
آج کی عورت کو ان تمام سوالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
نظرالدین آزاد
