اتنی صبح سویرے بیٹی کے کمرے کو خالی پا کر ماں کا دل ویسے ہی دھڑک اٹھا تھا اور اوپر سے پلنگ پر رکھا ہوا خط کامپتے ہوۓ ہاتھوں سے اٹھایا
لکھا تھا پیاری امی میں آپ کو یہ بتاتے ہوۓ بہت ہی ندامت اور شرمندگی محسوس کر رہی ہوں مگر کیا کروں میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو گئی ہوں
میں اپنے ہم جماعت دوست جگنوں کے ساتھ جا رہی ہوں
اس نے مجھے حقیقی محبت سے آشنا کیا ہے
سچ تو یہ ہے کے ہم نے تین مہینے پہلے ہی کورٹ میرج کر لی تھی
اور خیر سے امید کے ساتھ بھی ہوں
جگنوں نے مجھے یقین دلایا ہے کے وہ مجھے ہمیشہ خوش رکھے گا ہم دونوں اکھٹے رہیں گے
جگنوں نے مجھے یقین دلایا ہے کے چرس کوئی خاص نقصان نہیں پہنچاتی اور نہ ہی یہ پکی عادت بن جاتی ہے
فلحال تو ہم لطف و سرور کے لیے پیتے ہیں اور اگر دل کیا تو با آسانی ترک بھی کر دیں گے بس پولیس کا دھڑکا لگا رہتا ہے کیوں کے جب سے جگنوں جیل سے فرار ہو کر آیا ہے
تب سے گھر پر روپوش ہے اور کوشش کر رہا ہے کے کسی طرح وہ مقتول کے ورثاء سے صلح کر لے تا کے پولیس کا یہ دھڑکا بند ہو
پیاری امی بس چند سال میں حالات ٹھیک ہو جائیں گے تو میں آپ سے آپ کے نواسے نواسیوں کو ملوانے لاؤ گی مجھے آپ کی ہر دم یاد آتی رہے گی
ملاخطہ :امی جان میں آپ سے مزاق کر رہی تھی
میں گھر کی چھت پر ہی ہوں
میں بس آپ کو یہ بتانا چاہتی تھی کے ہماری زندگی میں اس سے بھی برے واقعات پیش آ سکتے ہیں بس امتحانوں کا رزلٹ ہی سب سے برا اور بڑا سانحہ نہیں ہوا کرتا
امی جان رزلٹ آ گیا ہے اور میں فیل ہو گئی ہوں
اگر کہیں تو چھت سے نیچے آ جاؤں ؟؟
ماں نے الحمداللہ پڑھتے ہوئے خط بند کیا اور باہر نکل کر چھت کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا اتر آ ۔۔۔۔ کی بچی
اللّه کرے تو ساری عمر اور کسی امتحان میں پاس نہ ہو
