سید مہدی رضا حسن ایک برٹش ہنندوستانی نزاد نوجوان ہے جو کہ حیدرآباد ہندوستان کی ایک اہل تشیع فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس نے انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی اور پھر بی بی سی کو بطور ریسرچر جوایئن کرلیا یہاں یہ اپنی محنت سے ترقی پاتا اسسٹنٹ پروڈیوسر کی پوزیشن تک پہنچ گیا۔
سید مہدی رضا حسن یہاں تک ایک عام ہنندوستانی نزاد برٹش نوجوان تھا جو کہ اپنی نوکری کررہا تھا لیکن پھر سید مہدی رضا حسن نے مختلف کمیونٹیز کے درمیان بحث و مباحثے میں حصہ لینا شروع کیا اور دنیا کی نظروں میں اس وقت آیا جب اس نے ایک کمیونٹی کے ساتھ اس بحث میں حصہ لیا کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے اور مہدی حسن یہ بحث میجورٹی ووٹنگ سے جیت بھی گیا۔
اس کے بعد مہدی حسن نے الجزیرہ انگلش کو جوایئن کیا اور وہاں شو ہوسٹ کرنے لگا۔ مہدی حسن نے امریکہ شفٹ ہونے کا فیصلہ کرلیا اور پھر 2020 میں مہدی حسن نے امریکن بزنس نیوز چینل این بی سی کی ایک پوڈ کاسٹ پی کاک میں پروگرام "دی مہدی حسن شو" ہوسٹ کرنا شروع کیا۔
جلد ہی یہ شو اتنا ہٹ ہوا کہ پوڈ کاسٹ سے اس شو کو این بی سی کے سسٹر چینل ایم ایس این بی سی پر باقاعدہ پرائم ٹائم دیا گیا اور یوں "دی مہدی حسن شو" امریکنز کا ہاٹ فیورٹ شو بن گیا۔ 2019 کی رپورٹ کے مطابق ایم ایس این بی سی چینل کی ویور شپ 5 ملین سے کراس کرچکی ہے جو کہ سی این این اور فوکس نیوز کو بھی پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
پاکستانیوں یعنی انصافیوں کے ساتھ مہدی حسن کا پہلا پھڈا 2021 میں اسرایئل ۔۔فلس طین تنازعے کے وقت پڑا جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے انٹرویو کے دوران ڈیپ پاکٹس کا لفظ استعمال کیا تو مہدی حسن نے اس کو اینٹی سمیٹسزم قرار دیا تو پھر انصافیوں نے مہدی حسن کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔لہذا اس کی پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ تھوڑی ست اکوانجا چلتی رہتی ہے۔
کل مہدی رضا حسن نے عمران خان کو اپنے شو میں بلایا اور یہ عمران خان کے سخت ترین انٹرویوز میں سے ایک انٹرویو تھا جس کو عمران خان نے بڑی خوبصورتی سے ہینڈل کیا کہ مہدی بھی ماننے پر راضی ہوگیا کہ تھینک یو عمران خان دی ایکس پرائم منسٹر اٹ واز اے ونڈرفل انٹرویو۔
معمول کے سوالات کرنے کے بعد مہدی رضا حسن نے عمران خان سے یکم دم الزامات والے سوال پوچھنے شروع کردیئے جن پر پاکستانی لفافے کہتے رہتے ہیں کہ عمران خان ہمیں اسی وجہ سے انٹرویو نہیں دیتا۔عمران خان نے ان تمام سوالوں کے بہترین اور ٹو دی پوائینٹ جواب دیئے اور کہیں بھی سوال گندم اور جواب چنا نہیں دیا۔
مثلا مہدی نے پوچھا: کہ آپ کے دور میں ہیومن رائیٹس کی خلاف ورزیاں ہوتی رہی، شو بند کیے گیے، چینل بند کیے گئے، صحافی اغوا ہوئے۔ اب آپ کے خلاف جب ہورہا تو یہ سب غلط کیسے؟
عمران خان نے جواب دیا۔۔یہ ایک غلط کمپیریزن ہے۔ میں نے یا میری حکومت نے کسی کا شو بند نہیں کرایا۔ میرے دور میں مطیع اللہ جان اغوا ہوا تو مجھے جیسے ہی پتہ چلا تو میں نے مداخلت کرکے اس کو ریلیز کروایا۔میرے ملک کی ملٹری اسٹیبلیشمینٹ کو دراصل تنقید برداشت نہیں اس لیے جس کو اغوا کیا، جس کا پروگرام بند کیا وہ ملٹری اسٹیبلیشمینٹ نے کرایا۔جبکہ 4 ٹاپ کے صحافی جان کے خطرے کے باعث ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ایک ٹاپ کے صحافی کو کینیا میں ماردگیا۔اور ایک ٹاپ کا صحافی 40 دنوں سے لاپتہ ہے۔
مہدی نے نہلا پہ دہلا مار کر اگلا سوال پوچھا کہ آپ نے اپنے دور میں اپوزیشن کو جیلوں میں ڈالا اور اب آپکی اپوزیشن آپکے لوگوں کو جیلوں میں ڈال رہے لیکن آپ اس کو ہیومن رائٹس کی وائلیشن کہہ رہے۔
عمران خان نے کہا ہم نے ان میں سے کسی کو پولیٹیکل وکٹمائزیشن کا نشانہ نہیں بنایا ان پر سارے کیس مشرف یا اس سے پہلے کے ہیں میری حکومت نے تو بس ایک منی لانڈرنگ کا کیس بنایا جس کے انویسٹی گیٹر اور گواہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ جبکہ میرے 10 ہزار کارکنوں کو غداری اور بغاوت کے مقدموں میں جیلوں میں ڈالا گیا۔ میری لیڈرشپ جیل میں ہے ان اور انکی فیملیز پر تشدد کیا جاتا ہے اور جو پارٹی چھوڑ دیتا ہے اس کو معاف کردیا جاتا ہے۔۔مہدی کیا اس کو ہیومن رائٹس وائلیشن نہیں کہیں گے؟؟
مہدی نے پھر پوچھا: 2018 میں یہی آرمی آپکو لائی جس پر آپ سازش کا الزام لگارہے ہیں؟ کیا اس وقت آرمی ٹھیک تھی اور اب نہیں؟
عمران خان نے کہا۔ مہدی تمہیں پتہ ہے کہ پاکستان میں اصل ویٹو پاور آرمی کے پاس ہے ان کا ہر چیز میں سٹیک ہے لہذا آپ نے پاکستان میں حکومت کرنی ہے تو آپ کو ان کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنا پڑتا ہے جہاں تک 2018 کے الیکشن کی بات ہے تو میں ایک چیز کلیئر کردوں کہ مجھے 2018 میں آرمی نے بالکل بھی سپورٹ نہیں کیا لیکن میری مخالفت بھی نہیں کی۔ اور تم۔اچھی طرح سمجھتے ہو کہ ان دونوں باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ 2018 کے الیکشن میں میری سمپل میجورٹی کم کرکے مجھے اتحادیوں کے ساتھ جانے پر مجبور کیاگیا۔
مہدی نے میڈیا سینسر شپ کے حوالے سے پھر پوچھا کہ آپ نے بھی تو اپنے دور میں نواز شریف کو بین کیا تھا اب آپ کو کیا گیا تو یہ غلط کیسے ہے؟؟
عمران خان نے کہا مہدی نواز شریف سپریم کورٹ سے ایک سرٹیفایئڈ ڈکلیئرڈ مجرم ہے اور ایک مجرم ریاست پر حملہ کرے تو ایک ریاست ایکشن لیتی ہے۔۔جبکہ مجھ پر 170 کے قریب دہشت گردی، بغاوت، توہین اور کرپشن کے جعلی مقدمے بنائے گئے جن میں سے ایک بھی ثابت نہیں ہوا۔تم ایک مجرم کو میرے ساتھ کمپیئر بھی کیسے کرسکتے ہو؟؟
عمران خان نیشنل میڈیا پر پہلے روز ایک ہی بات رپیٹ کرتا تھا جس سے پورے پاکستان کا ان کے خلاف مائینڈ کلیئر ہوگیا لیکن ان لوگوں نے اس کو نیشنل میڈیا سے بین کردیا اب وہ انٹرنیشنل میڈیا پر جا کر روز ان کی ستھری دھلائی کرتا ہے اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ وقت دور نہیں جب انٹرنینشنلی عام لوگوں کو ان کی حرام زدگیاں پتہ چل جایئں گی۔۔
