سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

علامہ ناصر عباس جعفری کی جیل بھرو تحریک میں گرفتاری


عمران خان کی جیل بھرو تحریک میں علامہ ناصر عباس جعفری نے بھی اپنے ساتھیوں سمیت گرفتاری دی اور یہ ٹاپ خبروں کی زینت رہی۔
اس وقت عمران خان کی مقبولیت ہر اک کے سامنے ہے، ہمارے ہاں ویسے بھی یہ رواج بن چکا ہے کہ جہاں ہوا کا رخ ہو گا، وہیں سب جانا پسند کریں گے، آج جو عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونگے ممکن ہے چند دنوں ہفتوں مہینوں کے لیے انہیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے مگر آگے چل کر جو واضح نظر آ رہا ہے۔ عمران خان کا دور آنا ہے اس دور میں آج وفاداریاں نبھانے والوں کے جائز مطالبات مانے جا سکتے ہیں اور حکومت کا حصہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔

آج سے چند مہینے پہلے پنجاب اسمبلی میں سردارعثمان بزدار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک میں سنی عالم دین MPAجھنگ مولانا معاویہ اعظم نے اس وقت کی اپوزیشن کا ساتھ دیا تھا، اور عجیب حیلے بہانوں کا سہارا لیا تھا۔ اس سے قبل جب عثمان بزدار کو وزیراعلی نامزد کیا گیا تھا، مولانا معاویہ اعظم نے اسلامک ٹچ دے کر PTIکے حق میں ووٹ دیا کہ ہم صحابہؓ سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، لہذا ہم حضرت عثمان غنیؓ کے نام والے وزیراعلی کو ووٹ کرنا زیادہ پسند کریں گے۔
اس اکلوتے ووٹ کی وجہ سےPTIکی پنجاب گورنمنٹ نے مولانا معاویہ اعظم کو بڑی حد تک ترقیاتی فنڈز بھی جاری کیئے، جن میں یونیورسٹی اور کالجز بھی شامل ہیں۔ اسی ووٹنگ کے دوران اسی جماعت کے مرکزی جنرل سیکٹری مولانا مسعودالرحمن عثمانی صاحب نے PTIکے حق میں دلیل دیتے ہوئے عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم اس لیے عمران خان کا ساتھ دے رہے ہیں کم از کم عمرؓ کا نام تو لیتا ہے۔عمرؓ کی مثال تو دیتا ہے۔

لیکن رجیم چینج اور پنجاب میں عثمان بزدار کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد آیا تو تمام تر مہربانیاں بھلا کر آنکھیں چرا کر معاویہ اعظم صاحب حمزہ شہباز کی چھتری کے سائے تلے چلے گے، اور عثمانی صاحب نے ایک مرتبہ پھر پھرتی دکھاتے ہوئے فرمایا، ہم PTIکے خلاف اس لیے بھی ووٹنگ کریں گے چونکہ صحابہ اکرامؓ کی سب سے زیادہ توہین PTIکے دور حکومت میں ہوئی ہے۔ اور معاویہ اعظم صاحب ان ہی دنوں اک بل کا ذکر بھی کرنے لگے کہ اس پر گورنر سا سائن چاہیے۔ ارے جی ہم تو محمدﷺ اور انکے اصحابؓ کے ناموس کی خاطر حمزہ شہباز کو سپورٹ کر رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اب آتے ہیں ان واقعات کے فائدے اور نقصانات کی طرف

وقتی طور پر دباؤ برداشت نہ کرتے ہوئے وفاداریاں بدلنے پر شاید PDMنے کچھ دے بھی دیا ہو اور یورپ کے دورے بھی ہو گے فورتھ شیڈول سے نام بھی نکل گے۔ لیکن کیا سیاسی ساکھ بچانے میں کامیاب ہوئے؟ تو اس کا جواب ہے بالکل نہیں۔

انکے اپنے کارکن مذہبی رجحان اور جماعتی پالیسی کی وجہ سے شاید پہلے ہی کی طرح انہیں مانیں اور ووٹ بھی دیں۔ لیکن غیرجانبدار اور وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان نے کرپٹ مافیاز سے ٹکر لے رکھی ہے اور عوام کی جنگ لڑ رہا ہے وہ لوگ معاویہ اعظم پر دوبارہ اعتماد کریں گے؟ جواب ہے ایسا ممکن ہی نہیں۔

آج اگر علامہ ناصرعباس جعفری عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے اور دوچار دن یا ہفتے جیل بھی کاٹ آتا ہے تو کل کو عوام کو بتائے گا کہ میں نے مشکل وقت میں عمران خان کا ساتھ دیا۔ ووٹ مجھے دو یا میرے حمایت یافتہ امیدوار کو دو۔ تو وہ لوگ جو عمران خان کے چاہنے والے ہیں وہ ضرور ساتھ دینگے۔
لیکن یہی سوال عمران خان کے سپورٹر مولانا معاویہ اعظم صاحب سے کریں کہ آپ نے تو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیا تھا آپ کو کس بنیاد پر ہم سپورٹ کریں؟ تو معاویہ اعظم صاحب کے پاس ان سوال کرنے والوں کو قائل کرنے کا کوئی ٹھوس جواب نہیں ہو گا۔ اپنے کارکن تو ہر جماعت کے آنکھیں بند کر کے سپورٹ کرتے ہیں، مگر جب آپ عام عوام اور مقبول ترین لیڈر کے فالورز کی نظروں میں اپنی اہمیت گرا دو گے تو الیکشن جیتنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔

اور ہمارے مذہبی طبقے بالخصوص سنی یعنی بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث کی یہ عادت ہے کہ ہمیشہ سے حکمران طبقے سے بگاڑ کر رکھتے ہیں، یا پھر انکے بزرگ جہاں وفاداریاں رکھیں یہ بھی پھر ان ہی سے وفاداریاں نبھاتے ہیں چائے وہ کتنے بڑے کرپٹ ہی کیوں نہ ہوں۔

پھر یہ لوگ گلے شکوے کرتے ہیں کہ فلاں جماعت علماءاکرام کے خلاف ہے، بےدین جماعت ہے قادیانی جماعت ہے اسرائیلی ایجنٹ ہے وغیرہ وغیرہ۔

مثال کے طور پر احتشام الہی ظہیر، فضل الرحمن، سعدرضوی آجPDMکے حامی ہیں، تو انکی جماعتوں یا مسلک کے اکثر علماءاکرام بھی PDMکے وفادار بن گے۔ خود انہوں نے کچھ نہیں سوچنا بس اندھی تقلید کرتے رہنا ہے۔

اور کل جب تحریک انصاف کی حکومت بنے گی، پی ڈی ایم کا خاتمہ ہو گا، پھر ظاہر سی بات ہےPTIسے مشکل وقت میں وفاداریاں نبھانے والے چاہے ناصرعباس رضوی ہوں یا کوئی اور. ان کو اہمیت دی جائے گی، پھر یہ والا طبقہ PTIکو شیعہ نوازی کا طعنہ دیتا پھرے گا۔

ہر سیاسی جماعت میں ہر مسلک اور مذہب کے لوگ ہوتے ہیں،PTIکے گزشتہ دور حکومت میں وفاقی اور صوبائی وزرا میں ہر مسلک کے لوگ شامل رہے۔ یعنی یہاں مسلک کو اہمیت نہیں دی جاتی آپکی وفاداری اور آپ پر بھروسے کی اہمیت ہوتی ہے۔ اس لیے مذہبی جماعتوں کو بالخصوص PTIکے لیے بھی کسی حد تک حسن ظن رکھنا چاہیے۔ اور علماءاکرام کو اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے درپیش مسائل میں مذہبی ٹچ اور فتووں سے گریز کرنا چاہیے۔

آئندہ الیکشن میں جھنگ کی نشستوں پر آپ ان رویوں کے اثرات کو بخوبی دیکھ سکیں گے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post