سوشل میڈیا پوسٹیں، اشتہارات بنوانے، ویڈیو ایڈیٹنگ کے لیے ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کریں۔ واٹس ایپ: 03455641735

صحافی کی ڈیوٹی فوجی جوان سے زیادہ مشکل ہوتی ہے


ہم اکثر صحافیوں کو بکاؤ، لفافی، چاپلوس کا لقب تو بڑی آسانی سے دے دیتے ہیں، مگر اس عظیم پیشے سے وابسطہ لوگوں کے ساتھ ہونے والے سلوک سے بےخبر رہتے ہیں۔

ہم یہ بھی کہہ دیتے ہیں قلم فروش صحافی طوائف کی مانند ہوتا ہے۔ جو پیسے کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیتا ہے۔
یہ بات اگر صحافت کے معیار کی دھجیاں اڑانے والوں کے خلاف کہی بھی جائے تو شاید اتنی بری نہ ہو گی، مگر جب آپ یہی بات پاکستان کے صحافی کے بارے میں کہنا چاہیں تو کہنے سے پہلے اک بار سوچ ضرور لینا۔

مانا کہ صحافی ملک و قوم کا نمائندہ ہوتا ہے، اسے ہر قیمت پر سچائی، دیانتداری، حب الوطنی کے ساتھ جھوٹ اور سچ کو الگ کر کے قوم کو حقائق بتانے ہوتے ہیں، مگر بات جب پاکستان کی آئے تو ایسی توقع کرنا صحافیوں کے ساتھ ظلم نہیں بلکہ ظلم عظیم ہے۔ وہ کیوں؟ یہ بات میں اک فوج کے سپاہی اور صحافی کا موازنہ کر کے آپ کو دلیل سے سمجھاؤں گا۔

میرے مضمون کا عنوان بھی یہی ہے۔ صحافی کی ڈیوٹی بارڈر پہ کھڑے فوجی جوان سے زیادہ مشکل ہوتی ہے۔

بظاہر تو بارڈر پہ توپوں، گولوں، گولیوں کے سامنے، گرمی، سردی دن رات میں سینہ تان کر کھڑا ہونا انتہائی مشکل ہے، اور یہ کام انتہائی بہادر لوگ ہی کر سکتے ہیں، اور یہ جوان چاہے وہ کسی بھی ملک کے ہوں جو اپنے ملک کا دفاع کرتے ہیں، قابل فخر ہوتے ہیں، ملک و قوم کے ہیرو ہوتے ہیں۔

پھر صحافی کی کی ڈیوٹی فوجی جوان سے مشکل کیوں ہوتی ہے؟
وہ اس لیے کہ فوجی جوان جب کھڑا ہوتا ہے یا دشمن سے لڑتا ہے، اس کی قوم اسکے افسران اس کا ادارہ اسکے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اگر وہ شہید بھی ہو جائے تو اسے اعزاز کے ساتھ دفن کیا جاتا ہے۔ اسکے جنازے کو کندھا دینا ہر فرد اپنا اعزاز سمجھتا ہے۔ اس کو ہیرو مانا جاتا ہے۔ اسکے بچوں، بیوہ اور والدین کی کفالت کے لیے ریاست پوری ذمہ داری لیتی ہے۔

جب اسے معلوم ہوتا ہے میرے افسران، میرے ادارے کے لوگ، میری قوم میرے ساتھ کھڑی ہے، میں شہید بھی ہو جاؤں تو میں عزت ہی پاؤں گا، میرے بیوی بچے والدین کسی کے محتاج نہیں ہونگے۔ ریاست انہیں ہر ضروریات زندگی کی اشیاء فراہم کرے گی، تو پھر وہ جوان جھوم کر، سینہ تان کر، فخر سے شہادت کو گلے لگا لیتا ہے۔

لیکن مظلوم صحافی؟

صحافی کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا، صحافی جب سچائی سامنے لاتا ہے تو جرائم پیشہ مافیا اس کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسے دھمکیاں دی جاتی ہیں، اسکے بیوی بچوں کا حوالہ دے کر اسے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔
اس کی زبان بندی کے لیے جعلی مقدمات بنائے جاتے ہیں، اسے ٹارچر کیا جاتا ہے، اسے ننگا کر کے تشدد کیا جاتا ہے، اس پر غداری کے الزامات لگائے جاتے ہیں، اس پر غداری کے مقدمات بنائے جاتے ہیں۔

جو صحافی اپنے وطن سے محبت کرنے والا ہوتا ہے. اپنے فرائض کی ادائیگی کو عبادت سمجھ کر فرض نبھاتا ہے، اپنے ملک کو لوٹنے والوں کو بےنقاب کرتا ہے۔ ملک کے خلاف سازش کرنے والوں اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کاروں کی ملک میں مداخلت کی انویسٹی گیشن کرتا ہے، ملک و قوم کے دغا بازوں کو بےنقاب کرتا ہے تو اس کی زبان بندی کی جاتی ہے، اسے ٹیلی ویژن پر پروگرامز نہیں کرنے دیے جاتے، اس کے لیے ملک کی زمین تنگ کر دی جاتی ہے، وہ ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوتا ہے، لیکن اسے دوسرے ملک سے بھی بےدخل کروا دیا جاتا ہے، اسے مجبوراً کینیا جیسے ملک میں پناہ لینی پڑتی ہے، مگر اس کی سچائی، اس کی حب الوطنی، اس کی پیشہ ور صحافت پر غصہ کھانے والے اسے تیسرے ملک میں ہی قتل کروا دیتے ہیں۔

جسے نشانِ حیدر ملنا چاہیے،اسے تیسرے ملک کی پولیس کرنیپر، اور اسمگلر قرار دے دیتی ہے، اس پر بچہ اغواہ کا الزام دھر لیا جاتا ہے، اسکے مخالف مافیاز کے ورکرز اس کی فیملی تک کا تمسخر اڑانے لگتے ہیں۔ اس کی فیملی ذہنی اذیت کا شکار ہو جاتی ہے، اس کے بیوی بچوں والدین سے ذریعہ معاش کا سہارا چھین لیا جاتا ہے۔

اس کی موت پر اس کے مخالفین دیوالی کے نام پر کیک کاٹ رہے ہوتے ہیں، جشن منا رہے ہوتے ہیں۔ اس کی ساری خدمات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پھر میں کیوں نہ کہوں اک صحافی کی ڈیوٹی فوجی جوان سے زیادہ مشکل ہوتی ہے۔
پھر بھی شاید یہ صحافی اپنی، اپنے بیوی، بچوں، والدین سب کی قربانی مسکراتے ہوئے دے دیں، مگر جب ان پر غداری کے مقدمے بنتے ہیں تب ان کی روحیں بھی کانپ جاتی ہیں، یہ زندہ رہ کر بھی مردہ ہو جاتے ہیں۔

سب قلم فروش نہیں ہوتے صاحب، کچھ کی مجبوری ہوتی ہے، وہ ارشدشریف شہید، عمران ریاض خان، صابرشاکر، سمیع ابراہیم، جمیل فاروقی اور پارس جیسا کلیجہ رکھ کر پیدا نہیں ہوتے، وہ اپنے بچوں کو بھوکا بلکتا دیکھنے کے تصور سے ڈرتے ہیں، وہ خود پر غداری کے الزامات سے ڈرتے ہیں، وہ بہت کچھ چاہا کر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔
ہاں البتہ چند ضمیر فروش بڑے نام، جو چاہیں تو سب کو ٹکر دے کر تمام مظلوم صحافیوں کا سہارا بن سکتے ہیں، جو اپنی توانا آواز سے صحافت کے سبھی مظلوموں کو یکجا کر کے اپنے پیشے پر لگنے والے الزامات کو مٹا سکتے ہیں، وہ ایسا نہیں کرتے تو انہیں آپ ہزار بار قلم فروش کہہ سکتے ہیں، مگر یہاں اس بات کو نظر انداز مت کیجیئے گا کہ یہاں ناظم جوکھیو کے قتل سے لے کر ارشدشریف کے قتل تک اور درمیان میں تشدد، ٹارچر، اور ننگے کرنے والے تمام معاملات ان ہی کے ساتھ ہوئے جو ملک و قوم کی بات کرتے تھے، جو فقط ضمیر کے عین مطابق کام کرتے تھے، جو سچائی کو قوم کے سامنے لانا چاہتے تھے۔

بقلم: محمد اشرف

Post a Comment

Previous Post Next Post